کشمیر اس وقت ایک ایسے موسمی و ماحولیاتی دباؤ سے گزر رہا ہے جس نے نہ صرف ہوا کو دھواں آلود کیا ہے بلکہ روزمرہ زندگی، صحت، بجلی کی فراہمی اور پانی کے وسائل تک کو کمزور کر دیا ہے۔ خشک سالی اپنی طبعی حدوں سے آگے بڑھ چکی ہے اور پوری وادی ایک ایسی دھند میں لپٹی ہوئی ہے جو موسم کی نہیں، انسانی بے بسی کی علامت بن گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئیوں نے بھی اس امید پر پانی پھیر دیا ہے کہ کوئی بڑی بارش یا برفباری جلد صورتحال بدل دے گی۔ کمزور مغربی ہوائیں (ڈبلیو ڈیز) تو آ رہی ہیں لیکن ان میں وہ دم نہیں جو وادی کی جمی ہوئی ہوا اور سانس روکتی آلودہ فضا کو بدل سکیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی نے رواں موسم میں محض پچاس فیصد بارش حاصل کی ہے، جبکہ نومبر میں بارش کی کمی کی شرح ۸۰ فیصد سے بھی اوپر رہی۔ یہ خشک موسم صرف تقویمی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری زمین، ہماریدرختوں، ہمارے گھروں اور سب سے بڑھ کر ہمارے جسموں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ دھویں اور گرد کے ذرات مسلسل تین ہفتوں سے کشمیر کی فضا میں اس طرح ٹکے ہوئے ہیں جیسے کسی نے آسمان کو کمبل اوڑھا دیا ہو۔
اسموگ کی تہہ کوئی اچانک نمودار ہونے والا حادثہ نہیں۔ وادی کی مخصوص وادی نما ساخت، سرد راتیں، درجہ حرارت کا الٹاؤ اور خشک ہوا‘یہ سب مل کر فضا میں موجود ذرات کو زمین کے قریب قید کر دیتے ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں، چولہوں کا دھواں، تعمیراتی سرگرمیاں، اور بدستور بڑھتی آبادی کا دباؤ اس قید شدہ فضا کو مزید زہریلا بناتے ہیں۔
ڈاکٹروں کی وارننگیں اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ دمے کے مریض، الرجی سے متاثرہ افراد، بزرگ، اور بچے اس بحران کی پہلی صف میں کھڑے ہیں۔ عالمی مطالعات کی روشنی میں کشمیر میں ہزاروں اموات ہر سال فضائی آلودگی سے منسلک بیماریوں کے سبب ہوتی ہیں۔ پلمونولوجسٹس کے مطابق صرف جموں و کشمیر میں تقریباً دس ہزار اموات سالانہ آلودہ فضا سے جڑی ہوتی ہیں‘یہ اعداد و شمار کسی ایک ہسپتال کی رپورٹ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی بحران کا آئینہ ہیں۔
کشمیر میں سی او پی ڈی کا بوجھ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ باریک ترین ذرات خون میں داخل ہو کر سانس کی تکلیف، پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے دورے اور فالج تک کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ محض فضا کی خرابی نہیں، ایک مکمل صحت عامہ کا بحران ہے جو ریاستی پالیسی، حکومتی توجہ اور عوامی بیداری‘تینوں کا مشترکہ امتحان لے رہا ہے۔
خشک سالی نے صرف ہوا کو زہریلا نہیں کیا، پانی کی روانی بھی سست پڑ گئی ہے۔ دریائے جہلم، جو ہمیشہ سے کشمیر کی حیاتِ رواں کا مرکز رہا ہے، ان دنوں اپنے معمول کے بہاؤ سے بہت نیچے ہے۔ سنگم میں پانی کی سطح۵۶ء۰فٹ تک گر گئی ہے‘ایسا منظر برسوں بعد دیکھنے میں آیا۔ دریا کے خشک ہوتے ٹکڑے صرف پانی کی کمی نہیں، بلکہ ایک آنے والے بحران کی خبر دے رہے ہیں۔
پانی کی اس کمی نے سب سے شدید ضرب وادی کے پاور سیکٹر کو لگائی ہے۔ جموں و کشمیر کے اپنے بجلی گھروں سے پیداوار ۱۱۴۰ میگاواٹ کی بجائے صرف ۱۰۵ میگاواٹ رہ گئی ہے‘یعنی بمشکل دس فیصد۔ بگلیہار جیسے بڑے پاور اسٹیشن بھی پانی کی کمی کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔
توانائی کی طلب اس کے برعکس مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔ کشمیر میں بجلی کی طلب۲۰۰۰ میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، اور یہ خلا پْر کرنے کے لیے حکومت کو۲۹۰۰ میگاواٹ سے زیادہ بجلی باہر سے خریدنی پڑ رہی ہے۔ یہ وقتی سہارا ہے، لیکن قیمت بھاری ہے۔ حکومتی ریکارڈ بتاتا ہے کہ پاور خریداری کا واجب الادا قرض۴۷۵۱کروڑ روپے سے اوپر پہنچ چکا ہے۔ یہ خسارہ ہمارے بجلی کے ڈھانچے کی کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے‘چوری، لائن لاسز، ناقص میٹرنگ، کم بلنگ، اور غیر موثر انتظامیہ۔
پانی کی کمی اور بجلی کی قلت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور دونوں مل کر ایک وسیع تر ماحولیاتی اور معاشی بحران کو جنم دے رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے صاف بتا دیا ہے کہ ۱۹ دسمبر تک کسی بڑے موسم تبدیل کرنے والے سسٹم کا امکان نہیں۔ چند کمزور مغربی ہوائیں بادل ضرور لائیں گی، لیکن وہ اس دھندلائی فضا اور خشک زمین کو سیراب کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کو ایک مضبوط، مسلسل اور قدرتی طور پر بھرپور بارشوں اور برفباری کی ضرورت ہے‘ایسی برفباری یا بارش جو نہ صرف فضائی آلودگی کو دھو دے بلکہ دریاؤں اور ذخائر کو بھی نئی زندگی دے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم محض موسم کا انتظار کر سکتے ہیں؟ یا اس بحران میں انسانی کردار زیادہ نمایاں ہے؟
جہاں خشک سالی ایک قدرتی عمل ہے، وہاں اس کی شدت میں انسانی بے احتیاطی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، بڑھتی گاڑیوں کی تعداد، ناقص فضائی نگرانی، اور کمزور ماحولیاتی ضابطے بھی برابر کے شریک ہیں۔ جب تک ہم اپنے شہروں، اپنے ایندھن کے استعمال، اپنے صنعتی رویوں اور اپنی بجلی کی کھپت کے نظام پر نظر ثانی نہیں کریں گے، وادی کی سانس گلا گھونٹتی رہے گی۔
یہ اداریہ کسی مایوسی کا اعلان نہیں‘بلکہ ایک یاد دہانی ہے۔ کشمیر ہمیشہ مشکل موسم جھیلتا آیا ہے، لیکن اس بار مسئلہ محض موسم کا نہیں، نظام کا بھی ہے۔
کشمیر آج ایک تین سمتوں سے آ رہے بحران میں گھرا ہوا ہے…ہوا زہریلی، پانی کم، اور بجلی نایاب۔ اگر ریاست اور مرکز نے فوری مداخلت نہ کی، تو یہ صورتحال نہ صرف شہری زندگی بلکہ معیشت، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے گہرے نتائج چھوڑ سکتی ہے۔
وادی کے لوگ اس دھند میں محض موسم کا انتظار نہیں کر رہے؛ وہ ایک ایسے انتظامی جواب کے منتظر ہیں جو حقیقت کا سامنا کرے، اعداد و شمار کے پردے سے نکل کر زمینی حقیقت پر پالیسی بنائے، اور کشمیر کو دوبارہ صاف ہوا، بہتے دریا اور مستحکم بجلی کی طرف لے جائے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئیوں نے بھی اس امید پر پانی پھیر دیا ہے کہ کوئی بڑی بارش یا برفباری جلد صورتحال بدل دے گی۔ کمزور مغربی ہوائیں (ڈبلیو ڈیز) تو آ رہی ہیں لیکن ان میں وہ دم نہیں جو وادی کی جمی ہوئی ہوا اور سانس روکتی آلودہ فضا کو بدل سکیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی نے رواں موسم میں محض پچاس فیصد بارش حاصل کی ہے، جبکہ نومبر میں بارش کی کمی کی شرح ۸۰ فیصد سے بھی اوپر رہی۔ یہ خشک موسم صرف تقویمی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری زمین، ہماریدرختوں، ہمارے گھروں اور سب سے بڑھ کر ہمارے جسموں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ دھویں اور گرد کے ذرات مسلسل تین ہفتوں سے کشمیر کی فضا میں اس طرح ٹکے ہوئے ہیں جیسے کسی نے آسمان کو کمبل اوڑھا دیا ہو۔
اسموگ کی تہہ کوئی اچانک نمودار ہونے والا حادثہ نہیں۔ وادی کی مخصوص وادی نما ساخت، سرد راتیں، درجہ حرارت کا الٹاؤ اور خشک ہوا‘یہ سب مل کر فضا میں موجود ذرات کو زمین کے قریب قید کر دیتے ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں، چولہوں کا دھواں، تعمیراتی سرگرمیاں، اور بدستور بڑھتی آبادی کا دباؤ اس قید شدہ فضا کو مزید زہریلا بناتے ہیں۔
ڈاکٹروں کی وارننگیں اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ دمے کے مریض، الرجی سے متاثرہ افراد، بزرگ، اور بچے اس بحران کی پہلی صف میں کھڑے ہیں۔ عالمی مطالعات کی روشنی میں کشمیر میں ہزاروں اموات ہر سال فضائی آلودگی سے منسلک بیماریوں کے سبب ہوتی ہیں۔ پلمونولوجسٹس کے مطابق صرف جموں و کشمیر میں تقریباً دس ہزار اموات سالانہ آلودہ فضا سے جڑی ہوتی ہیں‘یہ اعداد و شمار کسی ایک ہسپتال کی رپورٹ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی بحران کا آئینہ ہیں۔
کشمیر میں سی او پی ڈی کا بوجھ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ باریک ترین ذرات خون میں داخل ہو کر سانس کی تکلیف، پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے دورے اور فالج تک کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ محض فضا کی خرابی نہیں، ایک مکمل صحت عامہ کا بحران ہے جو ریاستی پالیسی، حکومتی توجہ اور عوامی بیداری‘تینوں کا مشترکہ امتحان لے رہا ہے۔
خشک سالی نے صرف ہوا کو زہریلا نہیں کیا، پانی کی روانی بھی سست پڑ گئی ہے۔ دریائے جہلم، جو ہمیشہ سے کشمیر کی حیاتِ رواں کا مرکز رہا ہے، ان دنوں اپنے معمول کے بہاؤ سے بہت نیچے ہے۔ سنگم میں پانی کی سطح۵۶ء۰فٹ تک گر گئی ہے‘ایسا منظر برسوں بعد دیکھنے میں آیا۔ دریا کے خشک ہوتے ٹکڑے صرف پانی کی کمی نہیں، بلکہ ایک آنے والے بحران کی خبر دے رہے ہیں۔
پانی کی اس کمی نے سب سے شدید ضرب وادی کے پاور سیکٹر کو لگائی ہے۔ جموں و کشمیر کے اپنے بجلی گھروں سے پیداوار ۱۱۴۰ میگاواٹ کی بجائے صرف ۱۰۵ میگاواٹ رہ گئی ہے‘یعنی بمشکل دس فیصد۔ بگلیہار جیسے بڑے پاور اسٹیشن بھی پانی کی کمی کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔
توانائی کی طلب اس کے برعکس مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔ کشمیر میں بجلی کی طلب۲۰۰۰ میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، اور یہ خلا پْر کرنے کے لیے حکومت کو۲۹۰۰ میگاواٹ سے زیادہ بجلی باہر سے خریدنی پڑ رہی ہے۔ یہ وقتی سہارا ہے، لیکن قیمت بھاری ہے۔ حکومتی ریکارڈ بتاتا ہے کہ پاور خریداری کا واجب الادا قرض۴۷۵۱کروڑ روپے سے اوپر پہنچ چکا ہے۔ یہ خسارہ ہمارے بجلی کے ڈھانچے کی کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے‘چوری، لائن لاسز، ناقص میٹرنگ، کم بلنگ، اور غیر موثر انتظامیہ۔
پانی کی کمی اور بجلی کی قلت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور دونوں مل کر ایک وسیع تر ماحولیاتی اور معاشی بحران کو جنم دے رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے صاف بتا دیا ہے کہ ۱۹ دسمبر تک کسی بڑے موسم تبدیل کرنے والے سسٹم کا امکان نہیں۔ چند کمزور مغربی ہوائیں بادل ضرور لائیں گی، لیکن وہ اس دھندلائی فضا اور خشک زمین کو سیراب کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کو ایک مضبوط، مسلسل اور قدرتی طور پر بھرپور بارشوں اور برفباری کی ضرورت ہے‘ایسی برفباری یا بارش جو نہ صرف فضائی آلودگی کو دھو دے بلکہ دریاؤں اور ذخائر کو بھی نئی زندگی دے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم محض موسم کا انتظار کر سکتے ہیں؟ یا اس بحران میں انسانی کردار زیادہ نمایاں ہے؟
جہاں خشک سالی ایک قدرتی عمل ہے، وہاں اس کی شدت میں انسانی بے احتیاطی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، بڑھتی گاڑیوں کی تعداد، ناقص فضائی نگرانی، اور کمزور ماحولیاتی ضابطے بھی برابر کے شریک ہیں۔ جب تک ہم اپنے شہروں، اپنے ایندھن کے استعمال، اپنے صنعتی رویوں اور اپنی بجلی کی کھپت کے نظام پر نظر ثانی نہیں کریں گے، وادی کی سانس گلا گھونٹتی رہے گی۔
یہ اداریہ کسی مایوسی کا اعلان نہیں‘بلکہ ایک یاد دہانی ہے۔ کشمیر ہمیشہ مشکل موسم جھیلتا آیا ہے، لیکن اس بار مسئلہ محض موسم کا نہیں، نظام کا بھی ہے۔
کشمیر آج ایک تین سمتوں سے آ رہے بحران میں گھرا ہوا ہے…ہوا زہریلی، پانی کم، اور بجلی نایاب۔ اگر ریاست اور مرکز نے فوری مداخلت نہ کی، تو یہ صورتحال نہ صرف شہری زندگی بلکہ معیشت، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے گہرے نتائج چھوڑ سکتی ہے۔
وادی کے لوگ اس دھند میں محض موسم کا انتظار نہیں کر رہے؛ وہ ایک ایسے انتظامی جواب کے منتظر ہیں جو حقیقت کا سامنا کرے، اعداد و شمار کے پردے سے نکل کر زمینی حقیقت پر پالیسی بنائے، اور کشمیر کو دوبارہ صاف ہوا، بہتے دریا اور مستحکم بجلی کی طرف لے جائے۔





