مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کو کہا کہ حکومت نے مردم شماری ہند ۲۰۲۷کے انعقاد کیلئے۱۱ہزار۷۱۸ کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات‘ اشونی ویشنو نے یہاں صحافیوں کو بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے مردم شماری کرنے کی تجویز کو منظور کر لیا ہے، جو اپنی نوعیت کی پہلی ڈیجیٹل مشق ہوگی۔
مردم شماری دو مراحل میں کی جائے گی ‘ گھر کی فہرست سازی اور ہاؤسنگ مردم شماری اپریل سے ستمبر۲۰۲۶ کے درمیان؛ اور آبادی کی گنتی (پی ای) فروری ۲۰۲۷ میں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ لداخ اور یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کے برف سے ڈھکے غیر ہم آہنگ علاقوں اور ہماچل پردیش و اتراکھنڈ کی ریاستوں کیلئے، آبادی گنتی کی مشق ستمبر ۲۰۲۶ میں کی جائے گی۔
ویشنو نے کہا کہ مردم شماری۲۰۲۷ کے پی ای مرحلے میں ذات سے متعلق ڈیٹا بھی الیکٹرانک طور پر شامل کیا جائے گا۔تقریباً ۳۰ لاکھ فیلڈ اہلکار اس قومی اہمیت کے اس عظیم کام کو مکمل کریں گے۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے موبائل ایپ کا استعمال اور نگرانی کے مقاصد کے لیے مرکزی پورٹل، بہتر معیار کا ڈیٹا یقینی بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کا اجرا بہت بہتر اور صارف دوست انداز میں ہوگا، تاکہ پالیسی سازی کے لیے مطلوبہ تمام معیار پر مبنی سوالات ایک بٹن کی کلک پر دستیاب ہوں۔
ویشنو نے کہا کہ مردم شماری-ایز-اے-سروس (سی اے اے ایس) وزارتوں کو صاف، مشین سے پڑھے جانے کے قابل اور قابلِ عمل فارمیٹ میں ڈیٹا فراہم کرے گی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ کوئلہ کے شعبے میں کی جا رہی اصلاحات کے سلسلے میں ایک اور کڑی جوڑتے ہوئے حکومت نے آج اس کی برآمد کو منظوری دے دی۔
ویشنو نے کہا کہ مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کمیٹی نے کوئلے کے بلا رکاوٹ، مؤثر اور شفاف استعمال کے لیے نیلامی پالیسی (کول سیتو) کو منظوری دے دی ہے ۔
اس کے تحت ’کول سیتو ونڈو‘کے نام سے ایک نئی ونڈو بنائی گئی ہے ، جس سے کوئلے کا استعمال کسی بھی صنعتی استعمال اور برآمد کیلئے کیا جا سکے گا۔ یہ نئی پالیسی حکومت کی جانب سے کوئلہ کے شعبے میں کی جا رہی اصلاحات کے سلسلے میں ایک اور کڑی جوڑتی ہے ۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت صنعتی استعمال اور برآمدات کے لیے طویل مدتی بنیادوں پر کول لنکیجز نیلامی کے لیے مختص کیے جائیں گے ۔ اس مقصد کے لیے‘۲۰۱۶کی نان ریگولیٹڈ سیکٹر (این آر ایس) لنکیج آکشن پالیسی میں کول سیٹو نامی ایک علیحدہ ونڈو شامل کی گئی ہے ، جہاں کوئلہ درکار کوئی بھی گھریلو خریدار لنکیج نیلامی میں حصہ لے سکتا ہے ۔
قومی وسائل کی صنعتوں (این آر ایس) کے لیے کوئلہ لنکیج کی نیلامی کی موجودہ پالیسی کے تحت سیمنٹ، اسٹیل (کوکنگ)، اسپنج آئرن، ایلومینیم اور دیگر (کھاد (یوریا) کو چھوڑ کر) سمیت تمام نئے کوئلہ لنکیجز کا مختص این آر ایس کو نیلامی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ موجودہ این آر ایس لنکیج پالیسی کے مطابق ذیلی علاقے صرف مخصوص آخری صارفین کے لیے ہیں۔
مرکزی کابینہ نے ایک اور فیصلے میں ایک بل کو منظوری دے دی جس کے تحت۷۱ ایسے قوانین کو منسوخ کیا جائے گا جن کی قانونی حیثیت میں اب کوئی افادیت باقی نہیں رہی۔۷۱ قوانین میں سے ۶۵ بنیادی ایکٹس میں ترامیم ہیں اور چھ اصل قوانین ہیں۔
ویشنو نے بتایا کہ منسوخ کیے جانے کی تجویز کردہ قوانین میں کم از کم ایک قانون برطانوی دور کا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجویز کردہ منسوخی اور ترمیمی بل کا مقصد نوآبادیاتی قوانین کو حذف کرنا نہیں بلکہ ایسے قوانین کو ہٹانا ہے جن کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔
’’جب کوئی ترمیم پارلیمان سے منظور ہو جاتی ہے تو وہ بنیادی قانون میں ضم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ صرف قانون کی کتابوں میں بے جا بھرمار کا سبب بنتی ہے‘‘۔اب تک۱۵۶۲پرانے فرسودہ قوانین منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ (ایجنسیاں










