امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مبینہ طور پر ایک نئے ایلیٹ ’سی فائیو‘ یا ’کور فائیو‘ فورم کو تشکیل دینے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، جو دنیا کی بڑی طاقتوں‘امریکہ، روس، چین، بھارت اور جاپان‘کو ایک ساتھ لائے گا، اور موجودہ یورپ غالب جی ۷؍ اور دیگر روایتی جمہوری اور دولت پر مبنی گروپنگز کو ایک طرح سے کنارے لگا دے گا۔
اگرچہ اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، مگر امریکی نشریاتی ادارے پولیٹیکو نے رپورٹ کیا کہ اس نئی ہارڈ پاور گروپ کا خیال نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی کے اْس طویل، غیر شائع شدہ ورڑن میں سامنے آیا ہے جسے وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ہفتے جاری کیا تھا۔
نشریاتی ادارے نے کہا کہ وہ اس طویل منصوبے کے وجود کی تصدیق نہیں کر سکا، تاہم اس کا تذکرہ ڈیفنس ون نے کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ منصوبہ یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کا ایک ایسا نیا ادارہ تشکیل دیا جائے جسے جی ۷ کی اْن شرائط نے محدود نہ کیا ہو جن کے مطابق رکن ممالک کا دولت مند اور جمہوری ہونا ضروری ہے۔
’’اسٹریٹجی ایک ’کور فائیو‘ یا سی فائیو کی تجویز پیش کرتی ہے، جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، چین، روس، بھارت اور جاپان شامل ہوں گے‘ایسے ممالک جن کی آبادی ۱۰۰ ملین سے زیادہ ہے۔ یہ گروپ جی ۷ کی طرح باقاعدگی سے ملاقاتیں کرے گا، مخصوص موضوعات پر سربراہی اجلاس ہوں گے۔ مجوزہ سی فائیو کے ایجنڈے کا پہلا موضوع: مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی، خاص طور پر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی معمول پر واپسی‘‘ ہوگا
پولیٹیکو کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے اس دستاویز کے وجود کی تردید کر دی ہے، پریس سیکرٹری ہنہ کیلی نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’’۳۳ صفحات کے سرکاری پلان کے علاوہ کوئی دوسرا، نجی یا خفیہ ورڑن موجود نہیں ہے۔‘‘
تاہم قومی سلامتی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس خیال میں ’’ٹرمپ جیسی‘‘ جھلک موجود ہے، اور سی فائیو کا قیام موجودہ وائٹ ہاؤس کے مزاج کے مطابق ہو سکتا ہے۔
’’یہ اسی انداز سے مطابقت رکھتا ہے جس طرح ہم سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ دنیا کو دیکھتے ہیں‘غیر نظریاتی طور پر، طاقتور کھلاڑیوں کیلئے رغبت کے ساتھ، اور اْن بڑی طاقتوں کے ساتھ تعاون کے رجحان کے تحت جو اپنے خطوں میں اثر و رسوخ کے دائرے قائم رکھتی ہیں،‘‘ ٹوری ٹاؤسیگ نے، جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں یورپی امور کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں، پولیٹیکو کو بتایا۔
ٹاؤسیگ نے نوٹ کیا کہ یورپ اس نظریاتی سی فائیو میں شامل نہیں، ’’جس سے میرا خیال ہے کہ یورپی یہ سمجھیں گے کہ یہ انتظامیہ روس کو ایک ایسی قائدانہ طاقت کے طور پر دیکھتی ہے جو یورپ میں اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ قائم رکھ سکتی ہے۔‘‘
مائیکل سوبولک، جو پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ری پبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کے معاون کے طور پر کام کر چکے ہیں، نے نشاندہی کی کہ سی فائیو کا قیام ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران چین سے متعلق پالیسی سے انحراف ہوگا۔
’’پہلی ٹرمپ انتظامیہ عظیم طاقتوں کے درمیان مقابلے کے تصور پر قائم تھی، اور اسی بنیاد پر چین کے ساتھ تعلقات کو بیان کیا جاتا تھا…یہ اس سے بہت بڑا انحراف ہے۔‘‘
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں پہلے ہی یہ بحث جاری ہے کہ ٹرمپ کی دوسری مدت عالمی نظام میں کس حد تک تبدیلی لا سکتی ہے۔ یہ خیال جی ۷؍اور جی۲۰ جیسے موجودہ فورمز کو ایک کثیر قطبی دنیا کے لیے ناکافی قرار دیتا ہے، اور آبادی اور فوجی و معاشی طاقت رکھنے والے بڑے ممالک کے درمیان براہِ راست سودے بازی کو ترجیح دیتا ہے۔
امریکی حلیف اس اقدام کو ’’طاقتور لیڈروں‘‘ کی قبولیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس سے روس کو یورپ پر فوقیت ملتی ہے اور مغربی اتحاد اور نیٹو کے اشتراک کو ممکنہ طور پر کمزور کیا جا سکتا ہے۔(بشکریہ این ڈی ٹی وی










