جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

وائٹ کالر دہشت گردی: کشمیر کے امن کیلئے ابھرتا ہوا خاموش خطرہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-25
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

کشمیر پچھلے تیس برسوں میں دہشت گردی کے ایسے طویل اور خونریز دور سے گزرا ہے جس نے یہاں کے معاشرے، اس کی معیشت، اس کے امن اور اس کے لوگوں کے ذہنوں پر گہرے اور مستقل زخم چھوڑے ہیں۔ یہ خطہ نوجوانوں کی برین واشنگ، ان کی جذباتی اور ذہنی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں تشدد کے راستے پر دھکیلنے کی کارروائیوں سے بخوبی واقف ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات میں بہتری آئی، دہشت گرد صفوں میں مقامی بھرتی تقریباً ختم ہو گئی، اقتصادی سرگرمیوں نے دوبارہ سانس لینا شروع کیا، اور امن کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
وادی نے برسوں بعد ایسے دن دیکھے جب لوگ بلا خوف و خطر معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹے۔ مگر اسی ماحول میں ایک نیا، زیادہ پیچیدہ اور کہیں زیادہ سنجیدہ خطرہ خاموشی سے سر اٹھا رہا تھا…وائٹ کالر دہشت گردی، یعنی وہ دہشت گردی جس میں تعلیم یافتہ، پیشہ ور اور خوشحال پس منظر رکھنے والے افراد بھی شدت پسندی کا راستہ اختیار کرنے لگے ہیں۔
حال ہی میں سامنے آئے ’’وائٹ کالر ٹیرر‘‘ کے انکشافات نے سکیورٹی اداروں کو ہی نہیں بلکہ پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لال قلعہ کے علاقے میں۱۰ نومبر کو ہوئے دھماکے نے یہ خوف دوبارہ تازہ کر دیا کہ دہشت گردی کا چہرہ بدل رہا ہے۔ اب اس کے مراکز پہاڑی غاریں یا خفیہ کیمپ نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اینکرپٹڈ چیٹ گروپس اور ڈیجیٹل جنگجو ہیں جو کسی سرحد، کسی موسم اور کسی خفیہ ملاقات کے محتاج نہیں۔
ڈاکٹر مزمل گنائی، ڈاکٹر عدیل راتھر، ڈاکٹر مظفر راتھر اور ڈاکٹر عمر ان نبی جیسے نوجوان، جو بظاہر پیشہ ورانہ کامیابی کی روشن راہوں پر چل رہے تھے، سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے عناصر کے نرغے میں آگئے جنہوں نے انہیں آہستہ آہستہ تشدد اور دہشت گردی کے راستے پر ڈال دیا۔ یہ ذہن سازی نہ کسی خفیہ مقام پر ابتدائی ملاقات سے شروع ہوئی، نہ کسی عسکری گروپ نے انہیں ہاتھ پکڑ کر کسی پہاڑی راستے تک پہنچایا۔ بس فیس بک، ایکس، اور پھر ٹیلیگرام کے خفیہ گروپس میں انہیں الگ تھلگ کر کے مخصوص بیانیے میں ڈھالا گیا۔
یہی وہ دنیا ہے جہاں چند کلکس میں حقیقت کو جھوٹ اور جھوٹ کو حقیقت بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے بنے جعلی ویڈیو بیانیوں کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں، اور جہاں شدت پسند عناصر نوجوانوں کی ذہنی کمزوریوں کا خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ان نوجوانوں نے یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے آئی ای ڈی بنانا سیکھا۔ ان کے رابطے ’’اوکاسا‘‘، ’’فہزان‘‘ اور ’’ہاشمی‘‘ جیسے ہینڈلرز سے تھے، جو بیرونِ ملک بیٹھے جیشِ محمد کے نیٹ ورک سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔ یہ ہینڈلرز انہیں شام یا افغانستان جیسے علاقوں میں جانے نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں یہی ہدایت کرتے تھے کہ وہ اپنے ملک میں ہی کارروائیاں کریں، کیونکہ بدلتے حالات میں بھارت کے اندر دہشت گردانہ وارداتیں زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ یہ پورا نیٹ ورک ورچوئل دنیا میں زندہ ہے‘اینکرپٹڈ چیٹس، وی پی این، جعلی پروفائلز اور ایسے طریقے جن کا سراغ لگانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
اس ضمن میں الفلاح یونیورسٹی کا نام سامنے آنا بھی ایک پریشان کن پہلو ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں ۲۰۰۷ میں بدنام زمانہ انڈین مجاہدین کا دہشت گرد مرزا شاداب بیگ بھی تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ وہ ۲۰۰۸ کے دھماکوں کے بعد اچانک غائب ہو گیا تھا اور اب تک لاپتا ہے۔ اس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ موجودہ ملزمان کے سبب پنجاب پولیس نے حال ہی میں کیمپس کا دورہ کیا، جہاں ایک گرفتار ڈاکٹر کے سابقہ روابط کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ یہ تمام باتیں اس سمت بھی اشارہ کرتی ہیں کہ کچھ تعلیمی ادارے غیر محسوس طریقے سے ایسے عناصر کے بیانیے اور اثر میں آچکے ہیں جہاں نوجوان غیر اعلانیہ طور پر غلط سمت کی طرف مڑ سکتے ہیں۔
یہ تمام صورتحال کشمیر کیلئے ایک نئے چیلنج کو جنم دیتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جو اعتماد بحال ہوا تھا، جو فضا بہتر ہوئی تھی، اور جس میں کشمیری نوجوان پورے ملک میں بغیر کسی خوف کے تعلیم و روزگار کے مواقع تلاش کر رہے تھے، وہ اعتماد اب دوبارہ متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ لال قلعہ واقعے کے بعد ملک کے بعض حصوں میں کشمیری طلبہ اور پروفیشنلز کو شک کی نظر سے دیکھے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر کشمیر نے اس ذہنیت کے خاتمے کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ چند گمراہ ذہنوں کے سبب پوری قوم کو دوبارہ شک کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات ملک بھر میں ایک بار پھر منفی تاثرات کو جنم دیتے ہیں۔
اس وقت یہ بات پوری سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے امن کو اگر واقعی پائیدار اور مضبوط بنانا ہے تو دہشت گردی کی اس نئی شکل کو ابتدا میں ہی روکنا ہوگا۔ یہ دہشت گردی صرف گولیوں اور بموں کی نہیں بلکہ ذہنوں اور بیانیوں کی جنگ ہے جس کا مقابلہ روایتی طریقوں سے ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سخت نگرانی، تعلیمی اداروں میں فکری و ذہنی تربیت کے نئے پروگرام، نوجوانوں کیلئے رہنمائی، والدین اور اساتذہ کی آگاہی، اور سب سے بڑھ کر ان ڈیجیٹل حربوں کے خلاف جدید حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ کشمیر کے امن کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ریاست، سماج اور خاندان سب مل کر اس نئے خطرے کو پہچانیں اور اس کا راستہ روکیں، ورنہ یہ خاموش لہر ایک بار پھر وادی کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس وقت کشمیر کے بچے، اس کے نوجوان اور اس کی آئندہ نسلیں ایک ایسے مستقبل کی مستحق ہیں جس میں خوف اور عدم استحکام کی کوئی جگہ نہ ہو۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ خطہ اپنی نئی رفتار سے ترقی کرتا رہے، سرمایہ کاری بڑھے، سیاحت پھلے پھولے، اور نوجوان اپنے خوابوں کو اعتماد کے ساتھ پورا کریں، تو پھر ضروری ہے کہ وائٹ کالر دہشت گردی سمیت ہر اْس عنصر کا خاتمہ کیا جائے جو امن کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ کشمیر نے بہت دکھ دیکھے ہیں؛ اب اس سرزمین کا حق ہے کہ اسے امن، اعتماد اور روشن مستقبل کا پورا موقع ملے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دکھتی رگ کو دبانا

Next Post

درنگ واٹر فال پھر سے آباد، سیاحوں کی واپسی نے سیاحتی مقام میں نئی روح پھونک دی

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کشمیریوں کا جذبہ انسانیت بے مثال ہے ، ہمیں ہر قدم پر سہارا ملا:سیاحوں کا اظہارِ تشکر

درنگ واٹر فال پھر سے آباد، سیاحوں کی واپسی نے سیاحتی مقام میں نئی روح پھونک دی

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.