جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

تعمیراتی پروجیکٹوں میں تاخیر:کشمیر کا ایک دائمی مرض

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-19
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

کشمیر میں تعمیراتی پروجیکٹوں کی تکمیل میں تاخیر کوئی نئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں نئی بات یہ ہوگی کہ اگر کبھی عوامی اہمیت کا کوئی پروجیکٹ اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہو جائے۔ لوگوں کی یادداشت میں شاذ ہی کوئی مثال ہوگی کہ کسی بڑے حکومتی پروجیکٹ نے اعلان کردہ ڈیڈ لائن پوری کی ہو۔ اس تجربے نے عوام کو ایک طرح کا ’نفسیاتی تحفظ‘ دے رکھا ہے… وہ پہلے ہی ذہن بنا کر چلتے ہیں کہ پروجیکٹ میں تاخیر ہونی ہی ہے۔ اس سوچ کے پیچھے سالہا سال کی تلخ حقیقتیں کھڑی ہیں۔
اسی سلسلے کی تازہ ترین مثال صنعت نگر فلائی اوور ہے۔ یہ پروجیکٹ بھی کئی بار ڈیڈ لائنیں تبدیل ہوتا رہا، سنگ بنیاد سے افتتاح تک کا سفر لمبا ہوتا گیا، افسر بدلتے رہے، کام رکتا اور چلتا رہا، مگر اس کے باوجود اب جب سرنگ کے آخر میں روشنی دکھائی دی ہے تو شہر کے لوگ ایک طرح سے مطمئن بھی ہیں کہ چلو، دیر ہی سہی…اچھا کام بالآخر مکمل تو ہوا۔ آئندہ ہفتے اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا جائے گا، اور یہ وہ لمحہ ہے جس کا شہری خاص طور پر بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
یہ سچ ہے کہ فلائی اوور جیسا پروجیکٹ صرف کنکریٹ اور سڑک کا نام نہیں۔ یہ اْن ہزاروں شہریوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا مسئلہ تھا جو ہر صبح دفتر جاتے وقت اور ہر شام گھر لوٹتے وقت ٹریفک جام کے عذاب سے گزرتے تھے۔ صنعت نگر سے حیدرپورہ اور راولپورہ تک کی سڑکیں، خاص کر رش کے وقت، ایک جامد دھارے کی صورت اختیار کر لیتی تھیں۔ بیمار گاڑیوں کے ہارن، تھکے ہوئے چہرے، اسکول جانے والے بچوں کی بے بسی، اور وقت پر نہ پہنچ پانے کی جھنجھلاہٹ…یہ سب کچھ اس تاخیر کی قیمت تھی جو عوام ہر روز چکاتے رہے۔
اب جب کہ فلائی اوور کھلنے والا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ شہریوں کو اس مسئلے حل ہونے کا حقیقی احساس ملے گا۔ ٹریفک کا رش کم ہوگا، وقت بچے گا، ذہنی سکون بڑھے گا، اور مجموعی طور پر ایک سیاسی و انتظامی پیغام بھی جائے گا کہ اچھا، کبھی کبھی دیر سے ہی سہی، کام مکمل ہو بھی جاتا ہے۔
لیکن سوال صرف ایک فلائی اوور کا نہیں۔ اصل مسئلہ کشمیر میں تعمیراتی پروجیکٹوں کی مجموعی ثقافت ہے، جس میں تاخیر ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ تعمیراتی اداروں سے لے کر ٹھیکہ داروں اور منصوبہ بندی محکموں تک، کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کڑی ہمیشہ کمزور ثابت ہوتی ہے۔ اگر پروجیکٹ کی ٹینڈرنگ درست ہو تو موسم بہانہ بن جاتا ہے، اگر موسم ٹھیک ہو تو فنڈز کی ریلیز میں مسئلہ آ جاتا ہے، اور اگر فنڈز دستیاب ہوں تو کام کرنے والی ایجنسی کا ردھم کھو جاتا ہے۔ یوں یہ چکر ہر سال، ہر پروجیکٹ کے ساتھ وقت کا پہیہ موڑ دیتا ہے۔
حکومت بارہا کہتی رہی ہے کہ تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، حتمی تاریخیں برقرار رہیں گی، ٹھیکہ داروں کی بازپرس ہوگی، اور ناقص کارکردگی پر سخت کارروائی ہوگی۔ مگر یہ باتیں عموماً پریس کانفرنسوں اور سرکاری میٹنگوں تک ہی محدود رہیں۔ عملی میدان میں ان کا اثر کم ہی دیکھنے کو ملا۔
اگر واقعی حکومت کشمیر میں پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل چاہتی ہے‘اور یہ ایک انتظامی ضرورت بھی ہے اور عوامی حق بھی‘تو کچھ اصولوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنا ہوگا۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ٹھیکہ داروں کو ٹینڈر الاٹ کرتے وقت اْن پر واضح اور سخت شرائط عائد کی جائیں۔ یعنی پروجیکٹ کا شیڈول مقدس ہو، جس کی خلاف ورزی پر مالی جرمانہ اور پروجیکٹ سے بے دخلی دونوں ممکن ہوں۔
دنیا بھر میں انفرااسٹرکچر پروجیکٹوں میں تاخیر کے مالی نتائج بھگتنے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات جرمانہ اتنا سخت ہوتا ہے کہ ٹھیکہ دار وقت سے پہلے کام مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کشمیر میں، بدقسمتی سے، ایسا سخت نظام موجود نہیں۔ یہاں ٹھیکہ دار اکثر یہ جانتے ہوئے بھی آرام سے کام کرتے ہیں کہ ڈیڈ لائن عملی طور پر بے معنی ہے۔
ٹینڈروں میں اس بات کا بھی خیال رکھا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے موسمی حالات جموں یا دیگر علاقوں سے مختلف ہیں۔ یہاں سردیوں کے مہینے میں تعمیراتی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اصل کام اْن چند مہینوں میں ہونا چاہیے جب موسم سازگار ہوتا ہے۔ اگر یہ حقیقت ٹینڈروں میں باقاعدہ شامل کی جائے، اور شیڈول اسی کے مطابق ترتیب دیا جائے، تو تاخیر کے بہانے کم ہو جائیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جموں، جو یو ٹی ہی کا حصہ ہے، وہاں ایسی صورتحال کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی پروجیکٹ وقت پر مکمل ہوتے ہیں۔ یہ فرق محض موسم کا نہیں بلکہ انتظامی سنجیدگی اور نظم و ضبط کا بھی ہے۔ کچھ منصوبہ ساز یہ دلیل دیتے ہیں کہ کشمیر میں سیاسی، سماجی اور سیکورٹی حالات بھی ترقیاتی کاموں کو متاثر کرتے ہیں، لیکن اس دلیل میں وہ شدت نہیں جو دس دس مہینے کی تاخیر کو جائز ٹھہرا سکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر میں کام کرنے والی تعمیراتی ایجنسیاں اور ٹھیکہ دار یہ جان لیں کہ عوامی پریشر، میڈیا کی نگرانی اور سرکاری سختی‘تینوں بڑھ چکے ہیں۔ لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ باخبر ہیں۔ وہ سوال پوچھتے ہیں، تاخیر پر آواز اٹھاتے ہیں، اور حکومتی وعدوں کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی دباؤ، اگر سرکار سمجھداری سے استعمال کرے، تو اسے ایک مثبت تبدیلی میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔
اس کا بہترین موقع یہی ہے کہ صنعت نگر فلائی اوور کے بعد حکومت اگلے پروجیکٹ کے لیے مکمل طور پر نئے قواعد طے کرے۔ ٹائم لائن سخت ہو، جرمانوں کا سسٹم مؤثر ہو، افسران اور ایجنسیوں کی جوابدہی واضح ہو، اور سب سے بڑھ کر پروجیکٹ کی ریئل ٹائم نگرانی ہو۔
کشمیر کے عوام ترقی چاہتے ہیں، سڑکیں چاہتے ہیں، پل، ہسپتال، اسکول، اور وہ سب بنیادی سہولیات جو انہیں ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکیں۔ لیکن ترقی کا پہیہ تبھی گھومے گا جب منصوبہ بندی مضبوط ہو، سیاسی عزم واضح ہو، اور کام کرنے والوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا کیا جائے۔ ورنہ یہ تاخیر ہمیشہ کی طرح ایک اور روایت بن کر رہ جائے گی۔
صنعت نگر فلائی اوور کی تکمیل، چاہے دیر سے، پھر بھی ایک اچھی خبر ہے۔ لیکن اصل خوشی تب ہوگی جب کشمیر میں پروجیکٹ وقت پر مکمل ہونے لگیںاور تاخیر، جو اب معمول سمجھ لی گئی ہے، ایک اجنبی لفظ بن جائے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

آسٹریلوی حکومت کی افغان طالبان حکومت پر نئی پابندیوں کی تجاویز

Next Post

…اور یہ پریشان ہو گئے !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

…اور یہ پریشان ہو گئے !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.