اب صاحب ہم تو آزادیٔ اظہا رمیں یقین رکھتے ہیں…اورایمان کی حد تک رکھتے ہیں لیکن صاحب اس کا یہ مطلب تو نہیںہے… اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا ہے اور… اور بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ کچھ بھی کہیں… آپ اپنا منہ کھول کر کچھ بھی بول کر اس کا دفاع کریں… نہیں صاحب ایسا نہیں ہو سکتا ہے… ہمیں کچھ نہیں لینا دینا ہے‘ بنگلہ دیش سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں ہے‘ وہاں کیا ہوا اور کیا ہورہا ہے… اس میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے… لیکن ایک بات … صرف ایک بات کہنی ہے اور… اور وہ یہ ہے کہ اپنے دیش میں ‘ اپنے ملک ‘ اپنے وطن عزیز میں کچھ لوگ ہیں جن کو مرچیں لگ گئی ہیں… بنگلہ دیش کے خصوصی ٹریبیونل کے اس فیصلے سے مر چیں لگ گئی ہیں جس نے اس ملک کی سابق مفروروزیر اعظم ‘شیخ حسینہ کو موت کی سزا سنائی ہے… اس فیصلے سے اپنے ملک کے کچھ لوگ‘ کچھ سیاستدان پریشان ہو گئے ہیں اور… اور وہ اپنی اس پریشانی کا کھل کر اظہار کررہے ہیں… کریں شوق سے کریں ‘ یہ ان کا حق ہے… لیکن … لیکن ہمیں ان کی اس پریشانی سے پریشانی ہو رہی ہے‘ ہم پریسان ہو رہے ہیں… مان لیتے ہیں ‘ تسلیم کر لیتے ہیں کہ حسینہ پر مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا گیا… لیکن یہ بھی پھر تسلیم کیجئے کہ محترمہ کو جلا وطن نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرار ہو گئیں … یہ ملک واپس جانے کو تیار نہیں ہیں‘ اس لئے مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں ممکن تھا… مان لیتے ہیں کہ اس خصوصی ٹریبیونل کا فیصلہ منصفانہ نہیں ہے اور… اور اسی لئے اپنے دیش کے کچھ لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں… اس پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے… اگر ،جی ہاں اگر ان کی نیندیں اُس وقت بھی حرام ہوتیں جب حسینہ کے حکم پر نہتے شہریوں پر گولیاں چلائی گئیں اور محض کچھ ایک ہفتوں میں ۱۴۰۰ سے زیادہ بنگلہ دیشی شہری مارے گئے …اس وقت یہ لوگ خاموش تھے ‘ انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو ئی تھی… انہیں کوئی بے چینی نہیںہوئی تھی لیکن آج جب موصوفہ کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف جرائم کی سزا سنائی گئی تو… تو یہ بے چین ہو گئے ہیں … پریشان بھی ۔کریں… شوق سے یہ حضرات اپنی اس پریشانی اور بے چینی کا کھل کر اظہار کریں… لیکن ساتھ میں خود سے ایک بار پوچھیں کہ… کہ اُن ۱۴۰۰ لوگوں کے خون کو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں… ہے نا؟



