یہ فتح صرف ایک کھیل کی جیت نہیں، بلکہ ہندوستانی خواتین کے عزم و ہمت کی علامت ہے۔ ممبئی کے میدان میں جب بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کو باون رنز سے شکست دی، تو اس لمحے نے ملک کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ کیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے ویمنز ورلڈ کپ جیتا ہے، اور یہ کامیابی ہر اس لڑکی کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں بجا طور پر کہا کہ ’یہ جیت کروڑوں نوجوانوں کو متاثر کرے گی‘۔ دراصل، یہ صرف کھیل کی فتح نہیں بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی تبدیلی کا لمحہ ہے۔ برسوں تک خواتین کھلاڑیوں کو محض تماشائی سمجھا جاتا رہا، ان کے لیے وسائل، میدان اور مواقع محدود تھے۔ لیکن اس جیت نے ثابت کیا ہے کہ اگر موقع دیا جائے، تو خواتین نہ صرف مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوسکتی ہیں بلکہ ان سے آگے نکلنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اس کامیابی کا اثر پورے ملک میں محسوس کیا جا رہا ہے، مگر اس کی گونج جموں و کشمیر میں خاص طور پر سنائی دے رہی ہے۔ وادی کی لڑکیاں، جو اکثر سماجی دباؤ، محدود سہولیات اور روایتی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہیں، اب اس جیت کو اپنی امید کا مرکز بنا رہی ہیں۔ سری نگر، بارہمولہ، شوپیاں، پونچھ اور راجوری جیسے علاقوں میں پہلے ہی کئی باصلاحیت لڑکیاں کرکٹ کھیلنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ وہ گلیوں، اسکول گراؤنڈز اور چھوٹے پارکوں میں پریکٹس کرتی ہیں، اکثر بغیر کوچ یا مناسب سامان کے۔ مگر اب، قومی سطح پر خواتین ٹیم کی یہ جیت ان کے حوصلے کو نئی سمت دے گی۔
یہ وہ لمحہ ہے جب حکومتِ ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ خواتین کرکٹ کے لیے انفراسٹرکچر کو کس طرح مضبوط کیا جائے۔ سری نگر، جموں، اننت ناگ اور کٹھوعہ جیسے اضلاع میں خواتین کے لیے مخصوص کرکٹ اکیڈمیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ اسکول اور کالج سطح پر لڑکیوں کے لیے باقاعدہ کرکٹ ٹورنامنٹس کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان ٹیلنٹ سامنے آئے۔ کوچنگ، فٹنس ٹریننگ، اور حفاظتی سازوسامان کی فراہمی ریاستی سطح پر ادارہ جاتی ذمے داری بننی چاہیے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ ذہنی آزادی اور خوداعتمادی کا ذریعہ بھی ہے۔ جموں و کشمیر کی خواتین کو کھیل کے ذریعے اپنی شناخت منوانے کا موقع دینا، دراصل ایک بڑی سماجی سرمایہ کاری ہوگی۔ جب ایک لڑکی بیٹ یا گیند ہاتھ میں لیتی ہے، تو وہ صرف کھیل نہیں کھیل رہی ہوتی ‘ وہ اپنے مستقبل کی لکیر خود کھینچ رہی ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں کھیل کو خواتین کے بااختیار ہونے کا موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بھارت میں میری کوم، سائنا نہوال، متالی راج، سمرن بہلا اور اب ہرمن پریت کور جیسے کھلاڑیوں نے دکھایا کہ خواتین اگر ارادہ کر لیں تو کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں رہتیں۔ یہی پیغام کشمیر کی لڑکیوں کے لیے بھی ہے۔ انہیں صرف ایک منصفانہ موقع چاہیے، ایک محفوظ میدان، اور یہ احساس کہ ان کی محنت کو تسلیم کیا جائے گا۔
یہ بھی درست ہے کہ جموں و کشمیر کے حالات دوسرے صوبوں سے کچھ مختلف ہیں۔ یہاں کھیل کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اضافی توجہ اور سرمایہ درکار ہے۔ کرکٹ کے میدان اکثر کم دستیاب ہیں، کوچنگ اسٹاف کی کمی ہے، اور خواتین کے لیے علیحدہ سہولیات کا فقدان ہے۔ حکومت اگر چاہے تو اس خلا کو پر کرنا مشکل نہیں۔ جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل کے تحت خواتین کھلاڑیوں کے لیے علیحدہ اسکیمیں متعارف کروائی جا سکتی ہیں۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی سرپرستی میں مقامی ٹریننگ سینٹرز کھولے جائیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی سماج میں سوچ بدلے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو کھیل میں آگے بڑھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ انہیں یقین دلانا ہوگا کہ کھیل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ مستقبل سنوارنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی و سماجی رہنما اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کرکٹ بھارت میں ایک مذہب کی طرح دیکھی جاتی ہے۔ اور اب جب خواتین نے اس مذہب میں اپنی جگہ بنا لی ہے، تو انہیں محض داد نہیں بلکہ ڈھانچے میں برابری کی جگہ ملنی چاہیے۔ ان کے میچز کو وہی توجہ ملے جو مردوں کے میچز کو ملتی ہے۔ اسپانسرشپ، میڈیا کوریج، اور انعامات میں بھی توازن ہونا چاہیے۔
یہ جیت یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی خواب کے پورا ہونے کے لیے دو چیزیں درکار ہیں: موقع اور یقین۔ موقع حکومت فراہم کر سکتی ہے، یقین معاشرہ دے سکتا ہے۔ جموں و کشمیر کی بیٹیوں کے پاس اب یقین موجود ہے ‘ موقع دینے کی ذمہ داری اب ریاست پر ہے۔
اگر وادی کی پہاڑیوں میں کھیلنے والی کوئی لڑکی آئندہ ورلڈ کپ میں ٹیم انڈیا کے لیے میدان میں اترے، تو یہ صرف ایک انفرادی کامیابی نہیں ہوگی، بلکہ پورے کشمیر کی سماجی بیداری کی علامت ہوگی۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب ہم کہہ سکیں گے کہ ورلڈ کپ کی یہ جیت واقعی پورے ملک کے لیے تھی ‘ شمال سے جنوب تک، اور خاص طور پر ان دلیر بیٹیوں کے لیے جو ابھی بھی خاموشی سے اپنے خواب سنبھالے بیٹھی ہیں۔





