وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا حالیہ بیان کہ ’’ریاستی درجے کی بحالی کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں‘‘، دراصل جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں پھیلے ہوئے اضطراب اور غیر یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔
پانچ برس گزرنے کے بعد بھی جب ریاست کا درجہ بحال نہیں ہوا، عوام کے ذہنوں میں ایک سوال گونجنے لگا ہے کہ آخر کب تک یہ غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہے گی؟ عمر عبداللہ کے الفاظ میں جھلکتی مایوسی صرف ایک سیاسی رہنما کی بے بسی نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس کی علامت ہے جو اس خطے کے ہر طبقے میں محسوس کی جا رہی ہے۔
تاہم سوال صرف مرکز کی تاخیر یا غیر دلچسپی کا نہیں۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے اس اہم معاملے پر خود جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں ایک مؤثر، متحد اور باعزم موقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ہر پارٹی اپنے سیاسی دائرے، ووٹ بینک اور مرکز سے تعلقات کی مجبوریوں میں الجھی ہوئی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ریاستی درجہ، جو ایک اجتماعی مطالبہ ہونا چاہیے تھا، محض انتخابی نعرے اور موقعاتی بیان بازی میں بدل کر رہ گیا ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم لداخ کی مثال دیکھیں تو وہاں کے عوام اور رہنما‘خواہ وہ کرگل سے ہوں یا لہیہ سے‘اپنے مطالبات کے لیے ایک اجتماعی پلیٹ فارم پر بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ اور ریاستی درجے کے مطالبے پر مرکز کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔ ان کا اتفاقِ رائے نہ صرف ان کے مطالبے کو سنجیدگی بخشتا ہے بلکہ مرکز کو بھی واضح پیغام دیتا ہے کہ لداخ کے عوام اپنی آئینی شناخت کے لیے ایک آواز ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ مرکز نے لداخ کے عوام سے نہ صرف مذاکرات پرآمادگی ظاہر کی بلکہ اب تک بات چیت کے کئی ادوار بھی ہو ئے ۔یقینا ان مذاکرات میں ابھی تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے لیکن دہلی اور لداخ میں بات چیت تو چل رہی ہے اور مسئلہ چاہے کتنا بھی پیچیدہ کیوں نہ وہ مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ اگر لداخ جیسے جغرافیائی طور پر منتشر اور سماجی طور پر مختلف خطے کے لوگ اپنے مطالبات کے لیے متحد ہو سکتے ہیں، تو جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں کیوں نہیں؟ کیا ان کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ عوامی مفاد کے ایک بنیادی مسئلے پر بھی اتفاق ممکن نہیں؟ یا پھر یہ سب جماعتیں اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ مل کر بات کریں گی تو کسی نہ کسی جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچ جائے گا؟
یہ سوچ دراصل اسی سیاسی خودغرضی کا عکس ہے جس نے برسوں سے کشمیر کی سیاست کو تقسیم کر رکھا ہے۔ ہر جماعت ریاستی درجے کی بحالی کو اپنی ’’ملکیت‘‘ بنا کر پیش کرتی ہے، حالانکہ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا نظریے کا نہیں بلکہ پورے خطے کے عوام کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں بیٹھے اربابِ اقتدار ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے ہیں لیکن یہ یقین دہانی ضرور کررہے ہیں کہ ایک مناسب وقت پر ریاستی درجے کو بحال کیا جائیگا ۔
اگر جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت واقعی اس معاملے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے انہیں سیاسی مفادات اور جماعتی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ فورم تشکیل دینا ہوگا۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جو کسی جماعت کے جھنڈے تلے نہ ہو بلکہ ریاستی درجے کی بحالی کے ایک واحد مقصد کے لیے بنایا جائے۔ اس فورم کی مشترکہ یادداشت دہلی کو بھیجے اور مذاکرات کا باقاعدہ راستہ اختیار کرے۔ اس عمل سے نہ صرف مطالبے کی قوت بڑھے گی بلکہ عوام کے اندر ایک اعتماد بھی پیدا ہوگا کہ ان کے نمائندے واقعی ان کے سیاسی حقوق کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔
اس وقت جو سیاسی خلا محسوس کیا جا رہا ہے، وہ صرف انتظامی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی باہمی بے اعتمادی کا مظہر ہے۔ اسمبلی کے اندر اکثر رہنما ایک دوسرے کے مؤقف سے زیادہ اپنے سیاسی حساب کتاب میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی درجے جیسا بنیادی مسئلہ بھی اتفاقِ رائے سے محروم ہے۔
عمر عبداللہ کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرکز کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو کمزور ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ان کی مایوسی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جانتے ہیں، دہلی کی سیاست کو بدلنے کے لیے جموں و کشمیر کی سیاست کو پہلے اپنے اندر تبدیلی لانا ہوگی۔ جب تک سیاسی جماعتیں یہ نہیں دکھاتیں کہ وہ عوامی مفاد میں متحد ہو سکتی ہیں، تب تک مرکز کے لیے بھی ان کے مطالبے کو وزن دینا آسان نہیں ہوگا۔
یہ لمحہ دراصل خوداحتسابی کا ہے۔ اگر اس خطے کی سیاسی قیادت اپنی توانائیاں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانے میں صرف کرے، تو ممکن ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ پھر سے مرکز کی ترجیحات میں جگہ بنا لے۔ بصورت دیگر، عمر عبداللہ کی طرح باقی سب کو بھی یہ کہنا پڑے گا کہ ’’جوں جوں وقت گزر رہا ہے، امیدیں مدھم ہوتی جا رہی ہیں۔‘‘
آخر میں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ ان رہنماؤں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے موقع پرستی دکھائی، بلکہ انہیں یاد رکھتی ہے جنہوں نے اختلافات کے باوجود ایک مقصد کے لیے ہاتھ ملایا۔ ریاستی درجے کی بحالی صرف آئینی یا انتظامی سوال نہیں بلکہ یہ جموںکشمیر کے لوگوں‘ بلا لحاظ مذہب و ملت ‘کی ایک مشترکہ خواہش ہے ۔ جموں صوبے میں بی جے پی نے ریاستی درجے کی بحال کے وعدے پر ۲۸ نشستیں حاصل کیں جبکہ کشمیر میں سبھی سیاسی جماعتوں نے اسمبلی الیکشن کے دوران ریاستی درجے کی بحالی اپنا پہلا وعدہ اور نعرہ بنا لیا تھا ۔اس لئے جموںکشمیر کی سیاسی جماعتوں اور قیادت کو ذاتی مفادات سے بلند ہوکر سوچنا پڑے گا کہ اگر لداخ کے لوگ یہ کر سکتے ہیں، تو جموں و کشمیر کیوں نہیں؟





