سرینگر/۲۸؍اکتوبر
جموں کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے آج ایوان میں ارکان اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ ایسے محکموں سے متعلق سوالات پیش نہ کریں جو لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
اسپیکر نے یہ بات اس وقت کہی جب لنگیٹ کے رکن اسمبلی شیخ خورشید کا محکمہ داخلہ سے متعلق ایک سوال اسمبلی کے ایجنڈے سے حذف کر دیا گیا۔
اسپیکر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’شیخ خورشید کا سوال ایل جی کے دائرہ اختیار میں آنے والے محکمہ سے متعلق تھا، اس لیے اسے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت حذف کرنا پڑا‘‘۔
شیخ خورشید، جو عوامی اتحاد پارٹی سے وابستہ ہیں، نے حکومت سے استفسار کیا تھا کہ جموں کشمیر میں تشدد کے متاثرین کے اہلِ خانہ کو ایس آر او۴۳کے تحت ایکس گریشیا ادائیگیوں یا دیگر فوائد فراہم کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ۔ انہوں نے بعض مخصوص کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ معاوضے کی ادائیگی کے لیے ایک واضح ٹائم لائن فراہم کی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے ۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ ۲۰۱۹کے تحت بعض کلیدی محکمے بشمول داخلہ‘پولیس‘اور دیگر انتظامی امور لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت آتے ہیں، اور ان سے متعلق امور پر اسمبلی میں براہ راست بحث یا سوال جواب کی گنجائش محدود رکھی گئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر کی یہ ہدایت آئندہ سیشنز کیلئے بھی مؤثر رہے گی تاکہ کارروائی آئینی دائرے میں رہ کر جاری رکھی جا سکے ۔مشرق خبر
۔۔۔۔۔۔۔۔










