جموں و کشمیر میں اقتدار کے ایوانوں سے ایک بار پھر وہی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں جو کبھی حزبِ اختلاف کے خیموں سے بلند ہوا کرتی تھیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ آوازیں نیشنل کانفرنس (این سی) کے اندر سے اٹھ رہی ہیں۔ آغا روح اللہ مہدی کے بعد جنوبی کشمیر سے رکن پارلیمان میاں الطاف احمد لاروی کا حکومت پر براہِ راست تنقیدی حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں۔ وہ خاموش بے چینی جو اب تک اندر ہی اندر پکتی رہی، اب زبانوں پر آنے لگی ہے۔
عمر عبداللہ کی حکومت کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ عام طور پر ایک برس کسی بھی حکومت کے لیے سمت طے کرنے، پالیسیوں کی بنیاد رکھنے اور عوامی توقعات سے رشتہ جوڑنے کا وقت ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ این سی حکومت کا پہلا سال زیادہ تر غیر یقینی، تاخیر اور بیان بازی میں گزرا۔ انتظامی سطح پر نہ کوئی بڑی پیش رفت دکھائی دی اور نہ سیاسی محاذ پر کوئی واضح روڈ میپ۔ اس سست روی نے نہ صرف عوام کو مایوس کیا بلکہ پارٹی کے اندر بھی سوالات کو جنم دیا۔
یہ بات اب زبانِ زدِ عام ہے کہ حکومت میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔ فیصلے تاخیر کا شکار ہیں، فائلیں دفتروں میں گرد جمع کر رہی ہیں، اور عوامی وعدے کاغذی نعروں سے آگے نہیں بڑھ پائے۔ حکمران طبقے کی جانب سے اس جمود کی توجیہہ’دوہرے نظامِ حکومت‘ کے ماڈل میں تلاش کی جا رہی ہے، یعنی کہ مرکز اور مقامی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم۔ لیکن یہ وضاحت حقیقت سے زیادہ ایک سہارا معلوم ہوتی ہے …ایک ایسا بہانہ جس کے پیچھے نااہلی اور بدانتظامی چھپائی جا رہی ہے۔
عمر عبداللہ کوئی نئے سیاستدان نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ایک ریاست کے نہیں بلکہ ایک یونین ٹیریٹری کے چیف منسٹر بننے جا رہے ہیں، جہاں اختیارات محدود اور گنجائشیں تنگ ہیں۔ اس کے باوجود، انتخابی مہم کے دوران انہوں نے جن وعدوں کے چرچے کیے ‘روزگار کی فراہمی، ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی، گھریلو گیس سلنڈروں میں رعایت، اور کچھ سیاسی امور پر نمایاں پیش رفت ُ وہ سب اس حقیقت کے باوجود تھے کہ ان میں سے بیشتر وعدے انتظامی حدود سے باہر تھے۔ اب جبکہ ایک سال بیت چکا ہے، عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر وہ وعدے کہاں گئے جن کی بنیاد پر این سی نے زبردست عوامی مینڈیٹ حاصل کیا تھا۔
میاں الطاف احمد لاروی جیسے قد آور رہنما کا کھلے عام یہ کہنا کہ ’’کوئی سیاسی پیش رفت نہیں ہوئی‘‘ دراصل پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ ’’عمر صاحب کو خود احتسابی کرنی چاہیے اور عوامی خدمت پر توجہ دینی چاہیے’‘‘محض ایک تنقید نہیں بلکہ ایک انتباہ بھی ہے۔ لاروی جیسے بزرگ رہنما اگر کھل کر اختلاف جتا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ این سی حکومت کی کارکردگی پر اندرونِ پارٹی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔
اسی طرح آغا روح اللہ مہدی کی وہ باتیں جنہیں کبھی داخلی ناراضگی سمجھا گیا تھا، اب کئی لوگوں کو حقیقت کے قریب دکھائی دے رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی تنقید کا نچوڑ ایک ہی ہے: حکومت کی سمت کھو گئی ہے، اور عوامی ایجنڈا پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
عوامی سطح پر سب سے بڑا غصہ بے روزگاری کے حوالے سے ہے۔ ہزاروں نوجوان، جن میں پوسٹ گریجویٹس اور پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ افراد شامل ہیں، روزگار کے منتظر ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھرتی کے اشتہارات تک جاری نہیں ہوئے۔ انتظامی اداروں میں فائلیں سست روی کا شکار ہیں، اور ترقیاتی منصوبے کاغذی اعلانات سے آگے نہیں بڑھے۔ عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ این سی حکومت نے جو وعدے کیے تھے، وہ محض سیاسی نعرے تھے۔
عمر عبداللہ اکثر بیانات میں ’مرکز کی مداخلت‘ اور’اختیارات کی کمی‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے، لیکن قیادت کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ کارکردگی دکھائی جائے۔ سیاسی بصیرت اس میں نہیں کہ رکاوٹوں کی فہرست گنوائی جائے بلکہ اس میں ہے کہ ان کے باوجود عوام کے سامنے اعتماد اور کارکردگی کا پیغام پہنچایا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ این سی کو اقتدار میں ایک مضبوط مینڈیٹ ملا۔ عوام نے عمر عبداللہ پر بھروسہ کیا کہ وہ نہ صرف بی جے پی مخالف سیاست کا بیانیہ مضبوط کریں گے بلکہ انتظامی سطح پر ایک متبادل وڑن پیش کریں گے۔ لیکن اب تک کی صورتحال اس اعتماد کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اگر یوں ہی بڑھتے گئے تو یہ نہ صرف حکومت کے لیے بلکہ خود نیشنل کانفرنس کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
این سی کی سب سے بڑی طاقت اس کی تاریخی وراثت ہے … وہ وراثت جو شیخ محمد عبداللہ سے شروع ہو کر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ تک پہنچی۔ مگر محض ماضی کی میراث موجودہ چیلنجوں کا حل نہیں۔ آج کے نوجوان ووٹر اور باشعور عوام وعدوں کی عملی تعبیر چاہتے ہیں۔ انہیں صرف تقریریں نہیں، بلکہ نتائج درکار ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عمر عبداللہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اصلاحات کا ایک واضح ایجنڈا پیش کریں۔ انتظامیہ کو فعال بنائیں، بھرتیوں کا عمل شروع کریں، اور عوامی رابطہ بڑھائیں۔ پارٹی کے اندر اختلافی آوازوں کو دبانے کے بجائے انہیں مشاورت کے عمل کا حصہ بنائیں۔ یہی جمہوری طرزِ قیادت کا تقاضا ہے۔
اگر این سی حکومت نے اس اندرونی اضطراب کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ اختلاف محض رائے نہیں رہے گا، بغاوت بن سکتا ہے۔ عوام کا صبر بھی لامحدود نہیں ہوتا۔ جو مینڈیٹ ایک سال پہلے عوام نے اعتماد کی بنیاد پر دیا تھا، وہی مینڈیٹ اگلے انتخابات میں احتساب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے … یا تو وہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے خود احتسابی اور کارکردگی کی راہ اختیار کرے، یا پھر تاریخ کے ایک اور موڑ پر عوامی مایوسی کی نذر ہو جائے۔ عوام نے این سی کو موقع بہانے بازی کے لیے نہیں، بہتر حکمرانی کے لیے دیا تھا۔ اب یہ عمر عبداللہ اور ان کی ٹیم پر ہے کہ وہ اس اعتماد کی لاج رکھتے ہیں یا اسے سیاست کی معمولی لغزشوں میں گنوا دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





