جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

غزہ میں جنگ بندی کے بعد: اب امن کو پائیدار بنانا ہی اصل امتحان ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-14
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

غزہ کی تباہ شدہ گلیوں میں، جہاں کبھی دھواں اور چیخوں کی آواز گونجتی تھی، اب ایک نئی خاموشی چھائی ہے‘جس میں امید کی ہلکی سی کرن جھلک رہی ہے۔ دوبرسوں کے بعد پہلی مرتبہ یہ اعلان ہوا ہے کہ جنگ رک گئی ہے۔ فریقین کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے بھی درجنوں نہیں، بلکہ سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہائی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جنہیں جلد رہا کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے ایک لمحاتی سکون تو ضرور دیا ہے، مگر حقیقی سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ جنگ بندی پائیدار امن کی جانب پہلا قدم ثابت ہو گی یا محض ایک مختصر وقفہ؟
غزہ اس وقت صرف ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت کے امتحان کا میدان ہے۔ ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہسپتال ملبے میں دب گئے، اسکول کھنڈر بن گئے اور پورا علاقہ انسانی المیے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایسے میں جنگ بندی یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے، مگر امن صرف ہتھیار ڈال دینے کا نام نہیں۔ امن تب قائم ہوتا ہے جب انصاف کو جگہ ملے، جب اعتماد بحال ہو، اور جب انسانی وقار کو احترام دیا جائے۔
اب اصل ذمہ داری دونوں فریقوں‘اسرائیل اور حماس‘پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع کو ایک نئے آغاز میں بدلیں۔ حماس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مزاحمتی پالیسی کو سیاسی حکمت میں ڈھالے۔ تشدد سے وقتی توجہ حاصل ہو سکتی ہے مگر پائیدار کامیابی ہمیشہ سیاسی بصیرت سے حاصل ہوتی ہے۔
دوسری طرف اسرائیل کو بھی اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ طاقت کے ذریعے امن کبھی قائم نہیں ہوتا۔ فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینا، محاصرے کے نام پر ان کے وسائل بند کرنا، یا بستیوں کی توسیع جاری رکھنا، دراصل امن کے امکانات کو خود ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر اسرائیل واقعی امن چاہتا ہے تو اسے مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا، نہ کہ ان پر مزید نمک چھڑکنا۔
غزہ کے لوگوں کو اب جنگ نہیں، زندگی چاہیے۔ انہیں صرف جنگ بندی نہیں بلکہ بحالی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب علاقے میں انسانی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچے۔عالمی برادری،بالخصوص اقوام متحدہ، یورپی یونین، عرب لیگ اور بڑی طاقتوں،پر لازم ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر امدادی راستے فوری طور پر کھولنے کو یقینی بنائیں۔ غزہ کے اسپتالوں کو دوائیں، اسکولوں کو کتب، اور گھروں کو چھتیں چاہییں۔ اس جنگ نے صرف جسم نہیں، روحیں بھی زخمی کی ہیں۔ ان زخموں کے اندمال کے لیے فوری امداد کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی بحالی کے منصوبے بھی ضروری ہیں۔
تعمیرِ نو کا سلسلہ بغیر وقت ضائع کیے شروع ہونا چاہئے۔ ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں، سڑکیں اور بجلی کے نظام زمین بوس ہیں، پینے کے پانی کی قلت عام ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو یہ خاموشی غزہ کے بچوں کے مستقبل کو دفن کر دے گی۔ تعمیرِ نو محض عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد بحال کرنے کا عمل ہے۔ اس میں مقامی آبادی کو شریک کرنا، شفاف نظام قائم رکھنا اور سیاسی تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت کے ناتے مدد فراہم کرنا بنیادی شرط ہے۔
یہ لمحہ عالمی برادری کے لیے ایک نیا امتحان بھی ہے۔ دہائیوں سے فلسطین کا مسئلہ ہر سفارتی اجلاس میں زیرِ بحث آتا رہا، ہر قرارداد میں ’دو ریاستی حل‘ کا ذکر ہوتا رہا، مگر عملی قدم بہت کم اٹھایا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ بیانیہ الفاظ سے نکل کر عمل میں ڈھل جائے۔ فلسطین کے مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل صرف دو آزاد ریاستوں…اسرائیل اور فلسطین…کے قیام میں مضمر ہے، جہاں دونوں قومیں باعزت طور پر، اپنی سرزمین پر، اپنے پرچم تلے زندگی گزار سکیں۔
اس حل کے بغیر جنگ بندی محض وقفہ ثابت ہوگی، امن نہیں۔ اسرائیل کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ فلسطینیوں کے حقوق سلب کرکے وہ اپنی سلامتی حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی طرح فلسطینی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ داخلی اتحاد کے بغیر عالمی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ حماس، فتح اور دیگر فلسطینی دھڑوں کو مشترکہ سیاسی وڑن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام ملے کہ فلسطینی قوم صرف مزاحمت نہیں، ریاستی ذمہ داری کے لیے بھی تیار ہے۔
امریکا، یورپی ممالک اور علاقائی طاقتوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں توازن لائیں۔ ایک طرف انسانی حقوق کا علم بلند کرنا اور دوسری طرف اسرائیل کی جارحیت پر خاموش رہنا، اس دوہرے معیار نے ہی مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل بے چین رکھا ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے تو اسے الفاظ سے نہیں، اقدامات سے یہ ثابت کرنا ہوگا۔ فلسطین کو محض امداد نہیں، انصاف چاہیے۔
یہ بھی یاد رکھا جانا چاہئے کہ امن ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ اعتماد، احترام اور مسلسل مکالمے سے نمو پاتا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین دونوں کو ایک دوسرے کی موجودگی تسلیم کرنی ہوگی۔ دشمنی کے بیج نفرت کو جنم دیتے ہیں، جبکہ تسلیم اور مکالمہ ہی امن کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر اس جنگ بندی کو ایک حقیقی آغاز بنانا ہے، تو فریقین کو اپنے بیانیوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات دکھانے ہوں گے،قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ ذہنوں کی رہائی بھی ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غزہ کے عوام نے جو کچھ سہہ لیا، وہ انسانیت کے ضمیر پر ایک بوجھ ہے۔ اب دنیا کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اس بوجھ کو ہلکا کرے، ظلم کو روکنے، امید کو زندہ رکھنے اور انصاف پر مبنی امن کے قیام کے لیے متحد ہو۔ اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ دنیا نے غزہ کو بچانے کا موقع گنوا دیا۔
اب وقت ہے کہ ہر فریق، ہر طاقت، ہر ریاست اپنے ضمیر سے سوال کرے: کیا ہم صرف جنگ روکنے پر خوش ہیں، یا واقعی امن لانا چاہتے ہیں؟کیونکہ جنگ روکنا آسان ہے، مگر امن کو پائیدار بنانا‘یہی اصل امتحان ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں وزارتِ خارجہ کی کوئی شمولیت نہیں تھی

Next Post

راجیہ سبھا الیکشن:این سی اور کانگریس

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

راجیہ سبھا الیکشن:این سی اور کانگریس

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.