ایسا نہیں ہو ناچاہئے تھا …بالکل بھی نہیں ہونا چاہئے تھا… لیکن اب چونکہ ایسا ہوا ہے تو چلئے ایسا ہی سہی … اس لئے کوئی گلہ ‘ کوئی شکوہ نہیں… اور بالکل بھی نہیں ۔کانگریس راجہ سبھا الیکشن کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہے… یا نیشنل کانفرنس نے اسے باہر کردیا ہے تو… تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے… اور اس لئے نہیں ہے کہ نیشنل کانفرنس ‘ جس نے ماضی میں اہنے اتحادیوں کیلئے ’قربانیاں ‘ دی تھیں اب کی بار اس نے کوئی ’قربانی‘ نہ دینے کا فیصلہ کر تے ہو ئے کانگریس کو محفوظ نشست کی پیشکش نہیں کی بلکہ اس نشست کو اس پر مسلط کیا جس پر اس کی ہار یقینی تھی…اور سو فیصد تھی… اوراس ہار ‘ اس ذلت‘ اس رسوائی اور شکست سے بچنے کیلئے کانگریس نے راجیہ سبھا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا … اور صحیح فیصلہ کیا … یقینا اس کے اثرات دونوں جماعتوں کے تعلقات پر مرتب ہو ں گے… اور سو فیصد ہو ں گے … لیکن صاحب این سی کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو گی اور… اس لئے نہیں ہو گی کہ اس کے پاس نمبر ہیں… اتنی نشستیں ہیں کہ اگرکانگریس کل کو اس اتحاد سے باہر آنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو‘جو وہ بالکل بھی نہیں کرے گی… تو این سی کی بھلا سے … لیکن ہاں ایک بات ہے اور وہ یہ ہے کہ اتحاد کا کوئی پاس لحاظ نہ رکھ کر نیشنل کانفرنس نے یقینا اچھا نہیں کیا… پر صاحب اس نے جو کچھ بھی کیا اس کیلئے اگر کوئی ایک ذمہ دار ہے تو… تو وہ خود کانگریس اور گزشتہ سال الیکشن … اسمبلی الیکشن میں اس کی کا ر کردگی ہے… این سی نے جموں میں کانگریس کیلئے میدان کھلا چھوڑ دیا تھا… لیکن اس کے لیڈروں ‘بشمول راہل گاندھی نے وہاں موثر انداز میں انتخابی مہم نہیں چلائی … بالکل بھی نہیں چلائی اور… اور اس بات کا عمرعبداللہ نے برملا اظہار بھی کیا… ورنہ سال رفتہ بی جے پی کی جموں صوبے میں جو حالت تھی… انتہائی خستہ حالت تھی اور پھر اس کا ۲۸ نشستیں جیتنا اس جماعت کی جیت اور فتح نہیں بلکہ کانگریس کی ہار تھی… اور آج یہ جماعت اسی ہار کی قیمت ادا کررہی ہے … اور سو فیصد کررہی ہے ۔راجیہ سبھا الیکشن میں ہی نہیں بلکہ اس جماعت کے … کانگریس کے جموںکشمیر سے اپنے نقش پا تیزی سے مٹنے کی صورت میں بھی ۔ ہے نا؟




