کشمیر کو قدرت نے بے پناہ حسن سے نوازا ہے، مگر اس وادی کی اصل پہچان صرف برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور خوش رنگ وادیوں سے نہیں، بلکہ ان ہاتھوں سے ہے جو صدیوں سے اس دھرتی کو اپنی ہنر مندی سے روشن کیے ہوئے ہیں۔ وہ ہاتھ جو پشمینہ کے ریشے میں نرمی بھرتے ہیں، اخروٹ کی لکڑی پر نقوش تراشتے ہیں، اور پیپر ماشی کے رنگوں میں خوابوں کو زندگی دیتے ہیں۔ مگر ان ہاتھوں کی کہانی اکثر گمنامی اور بے قدری کے پردوں میں دب جاتی تھی۔
اب جب محکمہ دستکاری و دست بافی کشمیر نے ’اپنے دستکار کو جانیے‘ کے عنوان سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے ان خاموش ہاتھوں کو پہلی بار اپنی زبان مل گئی ہو۔
یہ مہم محض ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ ایک احساس کی تجدید ہے۔ برسوں تک ہم نے کشمیری فن پاروں کی تعریف تو کی، مگر ان کے خالقوں کو فراموش کر دیا۔ اب پہلی بار یہ مہم ان فنکاروں کو ان کے فن کے ساتھ عوام کے سامنے لا رہی ہے تاکہ لوگ نہ صرف ان کے کام کو دیکھیں بلکہ ان کی زندگی کی کہانیاں بھی سنیں‘ وہ کہانیاں جو ہر قالین کے دھاگے، ہر لکڑی کی لکیروں اور ہر پشمینہ کے لمس میں چھپی ہیں۔
یہ پروگرام اکتوبر کی۱۱‘۲۵؍اور۳۰تاریخ کو سری نگر کے تاریخی مقامات …جہلم کنارے کا ریور فرنٹ، لال چوک کا گھنٹہ گھر اور راجباغ کا ورثہ پل ‘ پر منعقد ہوں گے۔ ان تقریبات میں قومی سطح کے ایوارڈ یافتہ کاریگر براہِ راست اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ گویا جو ہاتھ اب تک دھاگوں، رنگوں اور لکڑی کے ذروں میں بولتے تھے، اب وہ خود اپنی کہانی سنائیں گے۔
یہ مہم دراصل کشمیر کے ثقافتی تشخص کے نئے چہرے ’روح پرور کشمیر‘ کی تشہیر کا مرکزی حصہ ہے۔ اس کا مقصد صرف مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ ان کے پس پردہ انسان ‘ دستکار کو سامنے لانا ہے۔
کشمیر کی پندرہ جغرافیائی امتیاز (جی آئی) سے رجسٹرڈ دستکاریاں … جیسے قالین بافی، پشمینہ، کنی شال، پیپر ماشی، اخروٹ کی لکڑی پر نقش و نگار، اور خطم بند چھت سازی ‘دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ مگر جعلی مصنوعات، دلالی نظام اور محدود منڈیوں نے اصلی کاریگروں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس تناظر میں یہ مہم نہایت اہم قدم ہے، کیونکہ اس میں ہر فن پارے پر تصدیقی کیو آر کوڈ لگانے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ خریدار جان سکے کہ وہ جو چیز خرید رہا ہے، وہ واقعی کشمیری دستکاری کا اصلی نمونہ ہے۔
درحقیقت’اپنے دستکار کو جانیے‘ مہم کاریگر کو منظر کے پیچھے سے نکال کر مرکزِ نگاہ بنا رہی ہے۔ خریدار اب صرف قالین یا شال نہیں دیکھے گا بلکہ اس کے خالق سے ملے گا، اس کی بات سنے گا، اور شاید خریدتے وقت اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ بھی چھوڑ جائے ‘وہ مسکراہٹ جو برسوں کی بے قدری کے بعد جنم لیتی ہے۔
اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ منصوبہ نہایت اہم ہے۔ کشمیر کی دستکاری صنعت ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، مگر افسوس کہ کاریگر اکثر اپنی محنت کا پورا صلہ نہیں پاتے۔ جب یہ مہم انہیں براہِ راست خریدار سے جوڑتی ہے تو درمیانی دلالوں کا کردار کم ہو جائے گا، اور آمدنی براہِ راست کاریگر کے ہاتھ میں پہنچے گی۔ یہی خود کفالت ہے جس کی کشمیری دستکار کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
محکمہ کی طرف سے طلبہ و نوجوانوں کے لیے مکالماتی نشستیں رکھنے کا فیصلہ بھی دور اندیشی کا مظہر ہے۔ نئی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا ثقافتی ورثہ محض پرانی یاد نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے۔ اگر نوجوان تعلیم، ٹیکنالوجی اور روایتی ہنر کو یکجا کریں تو کشمیر کی دستکاری ایک بار پھر عالمی منڈیوں میں اپنی کھوئی ہوئی شان واپس پا سکتی ہے۔
اس مہم کی ایک اور نمایاں بات یہ ہے کہ یہ سرینگر کے اس تاریخی اعزاز کو مزید تقویت دیتی ہے کہ شہر کو عالمی دستکاری شہر (ورلڈ کرافٹ سٹی) کا درجہ حاصل ہے اور وہ اقوام متحدہ کے تخلیقی شہروں کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہے۔ یہ اعزاز محض لقب نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ کشمیر کی زمین میں تخلیق، مہارت اور حسن فطری طور پر رچے بسے ہیں۔
یہ مہم کشمیر کی دستکاری کو صرف اقتصادی نہیں بلکہ ثقافتی اور روحانی احیاء کا ذریعہ بنا رہی ہے۔ اس کے ذریعے کاریگر کی عزتِ نفس بحال ہو رہی ہے… وہ احساس کہ اس کا فن محض روزی نہیں، بلکہ اس کی شناخت اور اس کے وجود کا حصہ ہے۔
اگر حکومت اس مہم کو محض وقتی نمائش تک محدود نہ رکھے بلکہ مستقل پالیسی کی شکل دے، جس میں کاریگروں کے لیے مالی امداد، مارکیٹنگ کی تربیت، اور بین الاقوامی سطح پر نمائشوں میں شرکت کے مواقع شامل ہوں، تو آنے والے برسوں میں کشمیری دستکاری نہ صرف محفوظ ہوگی بلکہ دنیا کے ممتاز برانڈز میں شمار ہوگی۔
’اپنے دستکار کو جانیے‘ مہم کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ یہ صرف فن کا نہیں بلکہ رشتے کا جشن ہے … وہ رشتہ جو کاریگر اور خریدار کے درمیان کبھی فخر سے جڑا ہوا تھا مگر اب دھندلا چکا تھا۔ یہ مہم اس رشتے کو پھر سے زندہ کر رہی ہے۔
یہ ان ہاتھوں کو سلام ہے جنہوں نے صدیوں سے کشمیر کی کہانی لکھی ہے … دھاگے، لکڑی، رنگ اور محبت سے۔ آج ان کی باری ہے کہ وہ بولیں، سنے جائیں، اور پہچانے جائیں۔ اگر عوام، حکومت، طلبہ اور سیاح سب اس کوشش کا حصہ بنیں، تو یہ مہم محض ایک تقریب نہیں بلکہ کشمیر کی تخلیقی شناخت کا نیا جنم بن سکتی ہے۔
وہ دن دور نہیں جب دنیا کے کسی کونے میں جب کوئی کشمیر کہے گا تو لوگوں کے ذہن میں برف پوش پہاڑوں کے ساتھ ساتھ وہ ہاتھ بھی آئیں گے جو اس وادی کی روح کو بْنتے ہیں۔





