سرینگر/۴؍ اکتوبر
پولیس نے ہفتے کے روز دہشت گرد تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کے سربراہ اور پہلگام حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سجاد احمد شیخ کی جائیداد کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت ضبط کر لیا۔
ٹی آر ایف، کالعدم لشکرِ طیبہ کی ذیلی تنظیم ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اپریل ۲۰۲۲ میں سجاد احمد شیخ عرف سجاد گل کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کے سر کی قیمت۱۰ لاکھ روپے مقرر کی تھی۔
پولیس ترجمان کے مطابق’’دہشت گرد نیٹ ورک اور ان کے معاون ڈھانچوں کو ختم کرنے کی ایک اہم کارروائی کے طور پر، سری نگر پولیس نے ایچ ایم ٹی علاقے کے روز ایونیو میں ۱۵ مرلے اراضی پر تعمیر شدہ تین منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کیا ہے‘‘۔
ترجمان نے بتایا کہ ریونیو ریکارڈ اور تحصیلدار شالٹینگ، سری نگر کی تصدیق کے مطابق، یہ جائیداد تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کی ہے اور سجاد احمد شیخ کے والد غلام محمد شیخ کے نام پر درج ہے۔ تاہم تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سجاد گل اس جائیداد کا فعال شراکت دار ہے۔
پولیس کے مطابق’’یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر۲۳۵/۲۰۲۲ کے تحت کی گئی ہے، جو تھانہ پارمپورہ میں درج ہے اور جس میں یو اے پی اے کی متعلقہ دفعات اور ای آئی ایم سی او ایکٹ کی دفعات ۲/۳ شامل ہیں‘‘۔
ترجمان نے کہا کہ اس جائیداد کی ضبطی یو اے پی اے کی دفعہ ۲۵ کے تحت عمل میں لائی گئی، جو حکام کو دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی یا استعمال کے ارادے سے رکھی گئی املاک کو ضبط کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ کارروائی متعلقہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں انجام دی گئی۔
ترجمان نے مزید کہا’’سجاد گل دہشت گردی کو فروغ دینے، ملک دشمن پروپیگنڈہ چلانے اور مختلف آن لائن و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے حکومت کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے میں ملوث رہا ہے‘‘۔
پولیس کے مطابق، یہ ضبطی کارروائی سرینگر پولیس کی اْس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد دہشت گردی کے مالی، لوجسٹک اور آپریشنل نیٹ ورکس کو توڑنا ہے، جن میں سرحد پار کے اسپانسرز اور ہمدرد بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، سجاد گل اس وقت پاکستان کے شہر راولپنڈی کے چھاؤنی علاقے میں روپوش ہے اور اسے کشمیر میں کئی دہشت گردانہ حملوں، بشمول ۲۲؍ اپریل کے پہلگام حملے ‘ جس میں ۲۶؍ افراد، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہوئے ‘ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔وہ ۲۰۲۰ سے ۲۰۲۴ کے درمیان وسطی اور جنوبی کشمیر میں ٹارگٹ کلنگز، ۲۰۲۳ میں وسطی کشمیر میں گرینیڈ حملوں، اننت ناگ کے بیج بہارا اور گاندربل کے زیڈمورہ ٹنل پر پولیس پر حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔
سجاد گل پر جون۲۰۱۸ میں پریس انکلیو سری نگر میں معروف صحافی شجاعت بخاری کے قتل میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔
اس دوران جنوبی ضلع کولگام کی خصوصی عدالت نے ضلع میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ایک مطلوب دہشت گرد کے خلاف دفعہ ۸۴بی این ایس ایس کے تحت اشتہاری اعلان جاری کیا ہے ۔
یہ اعلان ذاکر احمد گنائی ولد غلام محی الدین گنائی ساکن متلحامہ، کولگام کے خلاف جاری کیا گیا ہے ، جو کافی عرصے سے غیر قانونی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں سرگرم رہا ہے ۔ وہ پولیس اسٹیشن کولگام میں درج ایف آئی آر نمبر۲۰۲۳/۲۰۰میں نامزد ہے‘جس میں یو اے پی اے کی متعلقہ دفعات شامل ہیں۔
عدالت نے ملزم کو۲۰روز کے اندراندر مجاز اتھارٹی کے سامنے خودسپردگی کی مہلت دی ہے ۔ بصورت دیگر اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل عدالت نے ملزم کے خلاف کھلا ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیا تھا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ عدالت کی ہدایت پر ڈپٹی ایس پی ہیڈکوارٹرز کولگام کی قیادت میں پولیس ٹیم نے گنائی کے آبائی مکان اور گاؤں کے دیگر نمایاں مقامات پر اشتہاری حکم نامہ چسپاں کیا تاکہ اس کی وسیع پیمانے پر تشہیرکو یقینی بنایا جا سکے ۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی انسداد دہشت گردی مہم میں ایک اور اہم قدم ہے ، جس کا مقصد مفرور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور ضلع میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو توڑنا ہے ۔ندائے مشرق خبر










