سرینگر/۴؍اکتوبر
محکمہ موسمیات نے جموں وکشمیر میں۵؍اکتوبر کی شام سے۷؍اکتوبر کی دوپہر تک برف و باراں کی پیش گوئی کی ہے ۔
محکمے کے مطابق اس دوران کہیں کہیں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوسکتی ہے ۔
کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ۴؍اکتوبر تک اپنے کھیت کھلیانوں اور باغوں میں اپنے کام جاری رکھ سکتے ہیں جبکہ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ۵؍اکتوبر کی شام سے سے۷؍اکتوبر کی دوپہر تک جموں صوبے کے کئی اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان ہے جبکہ اس دوران کشمیر خاص کر جنوبی کشمیر میں درمیانی درجے سے شدید بارشیں متوقع ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس دوران جنوبی کشمیر، پیر پنچال اور چناب وادی کے پہاڑی علاقوں میں درمیانی سے بھاری برف باری متوقع ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد میں۸سے۱۷؍اکتوبر تک موسم ایک بار پھر خشک رہنے کا امکان ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ اس دوران کہیں کہیں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوسکتی ہے اور چٹانیں کھسکنے کے بھی خطرات ہیں۔
کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ۴؍اکتوبر تک اپنے کھیت کھلیانوں اور باغوں میں اپنے کام جاری رکھ سکتے ہیں جبکہ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس دوران وادی میں دن کا درجہ حرارت معمول سے۲سے۳ڈگری سینٹی زیادہ ریکارڈ ہوسکتا ہے جبکہ رات کے درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج ہوسکتی ہے ۔
ادھر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے موسمی پیش گوئی کے پیش نظر گذشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران تیاریوں کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ ہمہ وقت الرٹ رہیں اور عوام، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام لازمی خدمات جیسے بجلی، پانی اور سڑکوں کو فعال رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
حکام کے مطابق انتظامیہ نے ممکنہ بارش و برفباری کے دوران ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ٹیمیں تشکیل دی ہیں، اور تمام ڈویژنل و ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عوامی سہولیات کو برقرار رکھنے کے لیے تیار رہیں۔ایجنسیز










