سرینگر/۴؍اکتوبر
پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو)، جو جموں و کشمیر کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے ، سنگین انتظامی اور تعلیمی چیلنجز سے دوچار ہے ۔
محبوبہ نے کہا’’ایک خوبصورت خواب آہستہ آہستہ ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو رہا ہے جو کہ قطعی طور پر نا قابل قبول ہے ‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے یہ باتیں ہفتے کو اپنے ایکس پر ایک پوسٹ میں کیں۔
محبوبہ نے کہا’’بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو)، جموں و کشمیر کا ایک اہم ادارہ، سنگین انتظامی اور تعلیمی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ،ایک خوبصورت خواب آہستہ آہستہ ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو رہا ہے جو کہ قطعی طور پر نا قابل قبول ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’ہماری جماعت پی ڈی پی، نے آج ایک احتجاجی مارچ کیا تاکہ ان فوری مسائل کو اجاگر کیا جاسکے ‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے کہا’’فوری طور پر ایک مستقل رجسٹرار کی تقرری، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی مناسب بھرتی اور روزگار سے جڑے کورسز جیسے مصنوعی ذہانت اے آئی، ڈیٹا سائنس، قابل تجدید توانائی، سیاحت منیجمنٹ اور ہنر مندی کی تربیت متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے ‘‘۔
محبوبہ نے کہا’’یہ اقدامات طلبا کی روزگار کے مواقع بڑھانے اور بی جی ایس بی یو کو بدلتے ہوئے تعلیمی اور صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ناگزیز ہیں‘‘۔
ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا کہ یہ یونیورسٹی جدت اور ترقی کا ایک مرکز بن سکتی ہے لیکن اس کیلئے بروقت معاونت اور دور اندیش قیادت کی ضرورت ہے ۔










