اب صاحب کچھ باتیں ایسی ہو تی ہیں جنہیں سمجھنا اتنا آسان نہیں ہو تا ہے… اتنا آسان نہیں ہو تا جتنا آسان ہم انہیں سمجھتے ہیں… اور … اور انہی باتوں میں اپنے جموںکشمیر میں این سی اور کانگریس کا اتحاد بھی ہے… ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ اتحاد ہے بھی یا نہیں… کاغذ پر یقینا ہے… لیکن عملی طور پر ہے ‘ ہم نہیں جانتے ہیں۔ کانگریس عمرعبداللہ کی سرکار میں شامل نہیں ہے… کیوں نہیں ہے یہ بھی ہمیں خبر نہیں ہے اور… اور اس لئے نہیں ہے کیونکہ کانگریس نے عمرسرکار میں شامل ہونے کی جو شرط رکھی ہے… ریاستی درجے کی بحالی کی شرط… سب سے زیادہ اسی کو معلوم ہے کہ یہ ایسی شرط ہے جو پوری نہیں ہو گی… فی الحال نہیں ہو گی… اسمبلی کی موجود ہ ٹرم … موجودہ مدت میں نہیں ہو گی… اور اللہ میاں کی قسم کانگریس یہ بات جانی ہے… لیکن پھر بھی اس نے عمرسرکار میں شامل ہو نے کیلئے ریاستی درجے کی بحالی کی شرط رکھی۔این سی بھی کچھ کم نہیں ہے… بیٹے کا تو معلوم نہیں … لیکن باپ… اللہ میاں انہیں صحت بدن عطا کرے‘سنا ہے کہ وہ بیمار ہیں… باپ اپنے بال دھوپ میں تو بالکل بھی سفید نہیں کئے ہیں… این سی کاکہنا ہے کہ ماضی میں اس نے اتحادیوں کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن راجیہ سبھا کی چار نشستوں کے الیکشن میں وہ احتیاط برتے گی… صاف اشارہ کانگریس کی طرف ہے… اتحادی جماعت کانگریس کی طرف ہے کہ وہ چار راجیہ سبھا نشستوں میں سے ایک ملنے کا جو خواب دیکھ رہی ہے… وہ خواب دیکھنا بند کرے کہ… کہ این سی اس کے اس خواب کے حق میں نہیں ہے… اسے حقیقت میں بدلنے کے موڈ میں نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… تو صاحب ایسے میں جو بات… بڑی بات … چھوٹے منہ سے جو بڑی بات کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ… کہ پھر یہ اتحاد کیوں … کس کیلئے اور کس کیلئے کہ… کہ اگر کانگریس این سی اتحاد سے باہر آجاتی ہے تو بھی عمرسرکار پر کوئی اثر …عددی اعتبار سے کوئی اثر نہیں پڑے گا … اور … اور اگر این سی، کانگریس کو چلتا نہیں کرتی ہے… اسے اپنا اتحادی سمجھتی ہے تو… تو صاحب جب تک اتحاد ہے … اس اتحاد کو زندہ اور برقرار رکھنے کیلئے قربانی دینی پڑتی ہے… پھر چاہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو… کیا ہونے والے راجیہ سبھا الیکشن میں این سی ماضی کی طرح پھر ایک باریہ ’قربانی‘ دینے کیلئے تیار ہے…یہ یقینا بالکل بھی تیار نہیں ہے… لیکن صاحب پھر بھی یہ جاننے کیلئے انتظار … تھوڑا انتظار کیجئے ۔ ہے نا؟




