نہیں صاحب یہ چھوٹاکوئی منہ بڑی بات نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ اگر بڑے منہ کی چھوٹی بات نہیں ہے تو… تو بڑی بات بھی نہیں ہے۔راج ناتھ سنگھ جی جب کہتے تھے یا اب بھی کبھی کبھی کہتے ہیں کہ ان کی نگاہیں پاکستان کے زیر انتظام… معاف کیجئے کہنے کا مطلب ہے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر پر ہیں تو… تو صاحب یقین کیجئے ہمیں اس بات کا پختہ یقین ہے کہ … جہاں ان کی نگاہیں ہیں‘ وہیں ان کا نشانہ بھی ہو گا اور… اور اس نشانے ‘ اس ہدف کو حاصل کرنے کا حوصلہ اور عزم بھی ۔ اورکوئی بڑی بات نہیں ہے … بالکل بھی نہیں ہے کہ اگر کسی صبح صبح ہم نیند سے اٹھیں اور ہمیں یہ بریکنگ نیوز مل جائے کہ … کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیرپر بھارت نے قبضہ… معاف کیجئے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کوپاکستان کی غلامی کے پنجوں سے آزاد کیا گیا ہے… یقین کیجئے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے… اور اس لئے بھی نہیں ہے کہ مودی ہے تو…تو ممکن ہے … کچھ بھی ممکن ہے ۔راج ناتھ سنگھ جی یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کیلئے ‘ اسے آزاد کرنے کیلئے کسی فوجی مہم جوئی کی ضرورت نہیں پڑے گی اور… اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا جو حال بے حال ہم نے دیکھا … آپ نے دیکھا اسے دیکھ کر ہمیں یہی لگا کہ… کہ صاحب ہمارے وزیر دفاع کچھ غلط نہیں کہہ رہے تھے… کچھ غلط نہیں کہہ رہے ہیں… اور ہمیں یقین ہو گیا کہ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرنے کیلئے بھارت کو سچ میں کسی فوجی مہم جوئی کی ضرورت نہیں پڑے گی … بالکل بھی نہیں پڑے گی کہ…کہ اگر پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے تئیں یہی رویہ رہا تو… تو وہ دن دور نہیں جب آر پار کشمیریوں کے سینوں پر کھینچی گئی تقسیم کی یہ لکیر مٹ جائیگی یا مٹاد دی جائیگی ۔ بس اب اگر کسی بات کی دیر ہے تو… تو صرف اس ایک بات کی کہ … کہ مودی جی دن اور وقت کا تعین کریں تاکہ…تاکہ پارلیمنٹ کی قرار داد کو عملی جامہ پہنایا جاسکے اور… اور جو کشمیر ۱۹۴۷ میں دو لخت ہو گیا تھا… جسے ہتھیا گیا تھا …غیر قانونی طور سے ہتھیا گیا تھا … اسے واپس حاصل کیا جا سکے ۔ ہے نا؟




