ہفتہ, جولائی 25, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

پاکستان کو وارننگ: بھارت کا نیا عسکری پیغام اور بدلتی حکمتِ عملی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-05
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

بھارت کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل اپیندر دیویدی کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے پاکستان کو واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر اس نے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کا جغرافیائی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل نئی دہلی کی اس نئی قومی سلامتی پالیسی کی جھلک ہے جو اب دفاعی نہیں بلکہ فعال اور جارحانہ حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔ آرمی چیف کے یہ الفاظ کہ ’’اگر پاکستان اپنے جغرافیے میں اپنی جگہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی کی پشت پناہی بند کرنا ہوگی‘‘ محض ایک فوجی تبصرہ نہیں بلکہ ایک ریاستی موقف کی بازگشت ہیں، جو برسوں کے صبر، بے شمار قربانیوں اور عالمی دوغلے رویے کے بعد اب اپنے انجام تک پہنچا ہے۔
بھارت کے لیے یہ بیان کسی وقتی ردِعمل یا جذباتی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل پالیسی تسلسل کی اگلی کڑی ہے، جس کا آغاز سرجیکل اسٹرائیکس، بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک اور حالیہ آپریشن سندور سے ہوچکا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے پہلگام جیسے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کا سامنا کیا، جن میں معصوم شہریوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ ماضی میں بھارت نے ہمیشہ تحمل اور بین الاقوامی سفارت کاری کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھا، مگر اب صاف ظاہر ہے کہ صبر کے اس دور کا اختتام ہوچکا ہے۔ بھارت اب ردعمل کے بجائے پیش بندی پر یقین رکھتا ہے۔ جنرل دیویدی نے صاف کہا کہ ’’اس بار وہ ضبط نہیں ہوگا جو آپریشن سندور ۰ء۱ میں کیا گیا تھا‘‘۔ یہ جملہ بھارت کی عسکری اور سیاسی عزم کی نئی تشریح ہے … یعنی آئندہ اگر دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی تو اس کا جواب روایتی حدود میں نہیں دیا جائے گا بلکہ وہ فیصلہ کن ہوگا۔
پاکستان کی ریاست نے برسوں تک دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنا رکھا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی کشمیر کے نام پر اور کبھی جغرافیائی توازن کے نام پر، لیکن درحقیقت اس پالیسی نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان اب ایک غیر معتبر، کمزور اور خطرناک ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کا نظم و نسق ایک غیر ذمہ دار فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہے۔ ایسے میں بھارت کے آرمی چیف کا انتباہ دراصل پاکستان کی اس طاقت کے مراکز کو مخاطب کرتا ہے جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پراکسی جنگ کے ذریعے بھارت کو دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن اب بھارت نے یہ طے کر لیا ہے کہ ایسی ہر کوشش کا جواب سرحد کے اندر نہیں بلکہ سرحد کے اْس پار دیا جائے گا۔
آپریشن سندور اسی پالیسی کا عملی مظہر تھا۔ مئی۲۰۲۵ میں بھارتی افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیاروں سے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز، لانچ پیڈز اور کمانڈ ہیڈکوارٹرز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، مگر بھارت نے کسی شہری یا فوجی ہدف کو نشانہ نہیں بنایا۔ یہ فرق محض عسکری نہیں بلکہ اخلاقی برتری کا اعلان ہے۔ بھارت نے دنیا کے سامنے شواہد پیش کیے تاکہ کوئی ملک پاکستان کے جھوٹے بیانیے کا شکار نہ ہو سکے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو بھارت کو ایک ذمہ دار اور مہذب ریاست کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔
جنرل دیویدی کا یہ کہنا کہ ’’اگر خدا نے چاہا تو آپ کو موقع ملے گا‘‘ فوجی حوصلے کی علامت ضرور ہے لیکن اس کے پسِ منظر میں وہ حقیقت پوشیدہ ہے جسے دنیا اب تسلیم کر رہی ہے…بھارت کی عسکری تیاری اور خود انحصاری۔
پاکستان کے لیے یہ وارننگ ایک تاریخی موقع بھی ہے۔ وہ اب بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر سکتا ہے، دہشت گردی اور پراکسی جنگ کی حکمتِ عملی ترک کر سکتا ہے اور خطے میں امن و ترقی کا شریک بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اس نے وہی پرانی راہ اپنائے رکھی تو اسے اپنے انجام کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کی تباہی کا سامان اس کے اندر ہی موجود ہے۔ معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی کے عفریت اور عالمی تنہائی نے اسے ایسے نکتہ ٔ زوال پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی اب بھی ممکن ہے مگر وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
بھارت کی موجودہ پالیسی میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا۔ بھارت کا مقصد امن، ترقی اور استحکام ہے۔ لیکن یہ امن یکطرفہ کمزوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ باعزت برابری پر قائم ہونا چاہیے۔ بھارت نے بارہا کہا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے، مگر جب کسی ریاست کی زمین سے اس کے شہریوں پر حملے ہوں گے، تو خاموش رہنا بزدلی ہوگی، صبر نہیں۔ یہی وہ حد ہے جو اب عبور ہو چکی ہے۔
بھارت کے آرمی چیف کے اس بیان نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ یہ پیغام صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ اْن تمام قوتوں کے لیے بھی ہے جو دہشت گردی کو سیاسی یا مذہبی جواز دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ بھارت نے بتا دیا ہے کہ اب دہشت گردی کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔ اگر دہشت گردی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے تو ایسی ریاست کے جغرافیائی وجود کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔
آخرکار، یہ ادراک ضروری ہے کہ بھارت کی پالیسی میں جارحیت نہیں بلکہ خود اعتمادی ہے۔ یہ وہ پالیسی ہے جو اپنے شہریوں کے تحفظ، قومی وقار اور علاقائی امن پر مبنی ہے۔ بھارت اب اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں اسے کسی وضاحت یا تردید کی ضرورت نہیں۔ اس کے اقدامات خود اس کی نیت، قوت اور اصولوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کے سامنے اب دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ امن کا ہاتھ تھامے اور ایک ذمہ دار ریاست کی طرح دنیا میں اپنا مقام بحال کرے، یا پھر دہشت گردی کی پالیسی پر قائم رہ کر اپنی سرزمین کو خود اپنے ہاتھوں تباہ کر دے۔بھارت نے اپنے الفاظ واضح کر دیے ہیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی۔ اب انتخاب پاکستان کا ہے … جغرافیائی بقا یا خود ساختہ فنا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اور اب پی او کے…؟

Next Post

سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ اسپتال میں داخل

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

2026-07-25
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
Next Post
سیٹوں کی تقسیم پر کانگریس کے ساتھ بات چیت جاری ہے:ڈاکٹرفاروق

سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ اسپتال میں داخل

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.