جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

شادیوں کا بدلتا رنگ اور کشمیر کے معاشرے پر اس کے اثرات

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-28
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

کشمیر میں اس وقت شادیوں کا سیزن عروج پر ہے۔ گلی کوچوں میں روشنیوں کا اہتمام، بینڈ باجوں کی آوازیں، دعوتوں کا اہتمام اور ہوٹلوں میں چہل پہل نظر آتی ہے۔ شادی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ ہے اور اسلام نے بھی نکاح کو آدھی دین داری قرار دے کر اسے نہایت سادگی کے ساتھ انجام دینے پر زور دیا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وادیٔ کشمیر میں شادی بیاہ کی تقاریب رفتہ رفتہ ایک ایسے سماجی مظاہر میں تبدیل ہو چکی ہیں جو بدعات اور اسراف سے لبریز ہیں۔ یہ رواج نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ معاشرتی عدم توازن، طبقاتی تقسیم اور غریب گھرانوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بھی بن رہا ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا اور اسراف کی مذمت کی۔ قرآن مجید میں صاف الفاظ میں آیا ہے یعنی فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔ نبی کریم ؐ نے سادہ نکاح کو پسند فرمایا اور جہیز و دیگر بوجھل رسموں کو ناپسند کیا۔ لیکن آج کشمیر میں دیکھا جا رہا ہے کہ شادی ایک مذہبی فریضے کے بجائے نمود و نمائش کا مظاہرہ بن چکی ہے۔ مہنگے ہوٹل، سینکڑوں انواع کے کھانے، لمبی باراتیں، غیر ضروری تحائف، قیمتی جہیز اور مصنوعی شان و شوکت گویا شادی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ اس تضاد نے شادی کی اصل روح کو مسخ کر دیا ہے۔
اس وقت کشمیر کی شادیوں میں کئی ایسی رسومات متعارف ہو گئی ہیں جن کا نہ اسلام سے تعلق ہے نہ مقامی ثقافت سے۔ بارات کے استقبال میں ہزاروں روپے پھولوں اور پٹاخوں پر خرچ کرنا، سینکڑوں مہمانوں کو بلانا، قیمتی ڈیزائنر لباس اور زیورات کا استعمال، اور بینڈ باجے یا ڈھول کی محفلیں سب غیر ضروری اور مہنگی بدعات ہیں۔ بعض گھرانے اپنی حیثیت سے بڑھ کر لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کرتے ہیں تاکہ سماج میں ’رْتبہ‘ برقرار رہے۔ یہ سب کچھ وقتی دکھاوے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن نتیجہ قرضوں کے بوجھ اور خاندانی جھگڑوں کی صورت میں نکلتا ہے۔
ان فضول خرچیوں کا سب سے بڑا بوجھ غریب والدین پر پڑتا ہے۔ وہ لڑکیاں جو شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہیں، ان کے والدین محض اس لیے نکاح سے کتراتے ہیں کہ سماج نے شادی کو مہنگا اور پرتعیش بنا دیا ہے۔ اگر وہ اپنی استطاعت کے مطابق سادہ شادی کریں تو رشتہ دار اور محلے دار طعنے دیتے ہیں کہ’شادی میں کچھ نہیں تھا‘۔ اس طعنہ زنی کے ڈر سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں لڑکیوں کی عمریں بڑھتی جاتی ہیں اور کئی بار وہ شادی کے مقدس رشتے سے محروم ہی رہ جاتی ہیں۔ یہ معاشرتی ظلم کسی بھی سنجیدہ اور حساس معاشرے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
یہ رجحان کئی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ متوسط اور غریب گھرانے قرض لے کر شادی کرتے ہیں اور برسوں تک قرض کی ادائیگی میں جکڑے رہتے ہیں۔ شادی کی تقریبات ایک ’مقابلہ بازی‘ بن چکی ہیں اور امیر و غریب کے درمیان فاصلہ مزید گہرا ہو رہا ہے۔ جب نکاح مشکل بنا دیا جائے تو نوجوان طبقہ غیر شرعی راستوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے جو پورے معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ مہنگی شادیوں کے سبب گھروں میں جھگڑے اور رشتہ داروں میں کدورت عام ہو جاتی ہے جبکہ جہیز کے بوجھ اور فضول رسومات نے عورت کو بوجھل بنا دیا ہے، حالانکہ اسلام نے جہیز کو لازمی نہیں بلکہ غیر ضروری قرار دیا ہے۔
اگر واقعی اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے تو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مساجد اور دینی اداروں سے مسلسل یہ پیغام دیا جائے کہ نکاح سادگی سے ادا کیا جائے۔ این جی اوز، طلبہ تنظیمیں اور سماجی کارکن شادیوں میں سادگی کو فروغ دینے کے لیے مہم چلائیں۔ حکومت بھی اسراف کو روکنے کے لیے شادی بیاہ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے جیسا کہ ’گیسٹ کنٹرول ایکٹ‘ کبھی موجود تھا۔
سماج کے باشعور طبقے کو خود اپنی شادیوں کو سادہ بنا کر مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ دوسروں کو حوصلہ ملے۔ میڈیا اور اخبارات کو چاہیے کہ سادہ شادیوں کو اجاگر کریں اور فضول خرچی کو برا عمل ثابت کریں۔
کشمیر ایک خوبصورت وادی ہے جس کی شناخت ہمیشہ علم، تہذیب اور روحانیت رہی ہے۔ اگر یہاں شادی بیاہ کے نام پر اسراف اور بدعات جاری رہیں تو یہ شناخت کھو جائے گی اور سماج ایک ایسے بحران میں مبتلا ہوگا جس کے اثرات نسلوں تک پھیلیں گے۔ سب سے بڑا نقصان ان معصوم لڑکیوں کو ہوگا جو صرف اس لیے اپنے گھروں میں بیٹھی رہیں گی کہ سماج نے شادی کو ایک ’ناممکن منصوبہ‘ بنا دیا ہے۔ اسراف سے نجات، بدعات کا خاتمہ اور سادگی کا فروغ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا، ہم نے اسے مشکل بنا دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ظلم کے خلاف اجتماعی شعور پیدا کریں اور نکاح کو وہی سادگی اور روحانیت لوٹائیں جو ہمارے دین اور ثقافت کی پہچان ہے۔ یہی قدم ہمارے معاشرے کو متوازن، خوشحال اور امن پسند بنا سکتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

تجارتی معاہدے پر امریکہ کے ساتھ تعمیری بات چیت: حکومت

Next Post

شہباز شریف کی درخواست !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

شہباز شریف کی درخواست !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.