آپ کو نہیں لگتا ہے کہ ہمیں تھوڑی سی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمسایہ ملک کے وزیرا عظم‘ شہباز شریف کی مذاکرات کی درخواست کو قبول کرنا چاہئے ۔ نہیں صاحب ہم اپنی حد سے واقف ہیں… ہم اپنی حد جانتے ہیں… یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم چھوٹا منہ بڑی بات کررہے ہیں…اور اس حقیقت سے بھی ہم واقف ہیں یہ … یہ وزارت خارجہ کے حد اختیار میں بھی نہیں ہے …بلکہ سیدھا مودی جی… وزیر اعظم مودی جی کے حد اختیار میں ہے اور…اور سچ پوچھئے تو اسی لئے ہم چاہتے ہیں کی وزیر اعظم صاحب دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے شہاز شریف کی درخواست کو قبول کریں… بے چارے تھک گئے ہیں… بات چیت کی درخواست کرتے کرتے تھک گئے ہیں… اور ان کی عمر کا لحاظ کرتے ہو ئے وزیر اعظم کو ان کی بات مان لینی چاہیے… نہیں صاحب ہم جانتے ہیں کہ ہمیں پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں کرنی ہے‘ کوئی مذاکرا ت بھی نہیں کرنے ہیں… اور یہ بات پاکستان بھی جانتا ہے… یہ ہماری واضح پالیسی ہے … یہ پالیسی کہ ہمیں پاکستان سے بات اور مذاکرات نہیں کرنے ہیں… لیکن صاحب اگر پاکستان کو ہم سے بات کرنی ہو تو…؟ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کو ہم سے بات کرنی ہے… اور اس لئے کرنی ہے کہ… کہ شہباز شریف اپنا درد اپنا کرب ہم سے بانٹنا چاہتے ہیں… وہ درد ‘ وہ کرب جو انہیں آپریشن سندور کے دوران ملا …شہباز شریف یہی درد اور کرب اور اس سے ملے زخم دکھانا چاہتے ہیں… ہم جانتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی شہباز شریف مذاکرات کی درخواست کرتے آئے ہیں ‘لیکن اب کی بار بات کچھ اور ہے… اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم آپریشن سندور میں ملے زخموں کو دکھانا چاہتے ہیں اور… اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کرنا چاہتے ہیں کہ … کہ صاحب جب کبھی پھر ایسی کسی کارروائی کی ضرورت پڑے تو… تو مارنا … ضرور مارنا لیکن… لیکن صاحب اتنے زور سے نہیں مارنا کہ… کہ اب کی بار وار اتنا زور کا تھا کہ… کہ جسم کے ساتھ ساتھ ہماری روح بھی کانپ اٹھی ہے۔ اسی لئے تو ہم وزیراعظم سے ملتمس ہیں کہ جناب جیسے تیسے ہیں… لیکن ہیں تو ہمارے ہمسایہ ہی اور… اور اسی ہمسائیگی کا پاس لحاظ رکھتے ہو ئے شہباز شریف کی درخواست کو قبول کیجئے… اپنی نہیں بلکہ ان کی بات سننے کیلئے ہی سہی ۔ ہے نا؟




