جموں//
جموں صوبے کے ضلع کشتواڑ کے دشوار گزار اور گھنے جنگلات میں دہشت گرد مخالف آپریشن پیر کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔
فوج اور پولیس کے مشترکہ دستوں نے دہشت گردوں کی ایک کمین گاہ کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا، جبکہ پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر ممکنہ فرار کے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی اتوار کی صبح اس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی فورسز کو انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئیں کہ علاقے میں کچھ دہشت گرد طویل عرصے سے ایک خفیہ پناہ گاہ استعمال کر رہے ہیں۔ ابتدائی سرچ آپریشن کے دوران فورسز کو پہاڑی ڈھلوان پر ایک پتھریلی کمین گاہ کا سراغ ملا، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور ضروری سامان برآمد ہوا۔ بعد ازاں فورسز نے اسے بارودی مواد سے مکمل طور پر اڑا دیا تاکہ مستقبل میں اس کا دوبارہ استعمال نہ ہو سکے ۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن انتہائی حساس اور خطرناک ہے کیونکہ علاقہ جغرافیائی طور پر مشکل، جنگلات سے ڈھکا اور دہشت گردوں کیلئے چھپنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے ۔ فوج نے اس مقصد کے لیے جدید نگرانی کے آلات، ڈرون اور نائٹ ویژن ٹیکنالوجی کو بھی استعمال میں لایا ہے ۔
ایک سینئر فوجی افسر بتایا کہ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ دہشت گرد کسی بھی صورت محاصرے سے نکل نہ سکیں۔ علاقے کی مکمل سرچنگ کی جا رہی ہے اور ہر ممکن اقدام اٹھایا جا رہا ہے تاکہ ان عناصر کو ختم کیا جا سکے ۔
اطلاعات کے مطابق، علاقے میں داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہے اور مقامی باشندوں کو آپریشن مکمل ہونے تک جنگل کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے ۔
اس دوران جنوبی ضلع کولگام کے اکھل دیوسر کے گھنے اور دشوار گزار جنگلات میں دہشت گرد مخالف آپریشن پیر کو مسلسل گیارہویں روز بھی جاری رہا۔
سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور جنگلات کے تمام ممکنہ راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیے گئے ہیں تاکہ محصور دہشت گرد فرار نہ ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق تصادم کے دوران اب تک ایک مقامی دہشت گرد مارا گیا ہے ، جب کہ اس آپریشن میں دو فوجی جوان بھی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹروں اور ڈرون سمیت جدید نگرانی کے آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔
یہ آپریشن یکم اگست کو اُس وقت شروع ہوا جب مشترکہ سیکورٹی فورسز کو اکھل دیوسر کے پہاڑی اور جنگلی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ ابتدائی جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ سخت جغرافیائی حالات، گھنے جنگلات اور مسلسل بارش نے کارروائی کو سست کر دیا، تاہم فورسز نے محاصرہ تنگ کرتے ہوئے سپلائی لائن کاٹ دی۔
پچھلے دنوں میں سیکورٹی فورسز نے علاقے میں کئی عارضی ٹھکانے تباہ کیے ، جن میں سے کچھ میں کھانے پینے کا سامان، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ فورسز کو شبہ ہے کہ گھنے جنگلات میں کئی دہشت گرد چھپے بیٹھے ہیں۔
پولیس سربراہ ‘نالین پربھات اور فوج کے سینئر عہدیداران براہِ راست آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ فورسز اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عام شہریوں کی زندگیوں کو نقصان پہنچائے بغیر کارروائی مکمل ہو۔
ایک سینئر افسر نے یو این آئی کو بتایا’’یہ ایک صبر آزما آپریشن ہے ۔ علاقے کی جغرافیائی پیچیدگی اور گھنے جنگلات کی وجہ سے فورسز کو قدم بہ قدم پیش رفت کرنا پڑ رہی ہے ، مگر ہمارا ہدف واضح ہے کہ تمام دہشت گردوں کو ختم کرنا‘‘۔
علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے ۔ داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے قائم ہیں، اور مقامی لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے ۔ فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آپریشن کے دوران علاقے سے دور رہیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن کشمیر میں حالیہ برسوں میں سب سے طویل کارروائیوں میں شمار ہو رہا ہے ، اور اس میں جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔









