نہیں صاحب اب ہم بھی سوچ رہے ہیں… اور اس لئے سوچ رہے ہیں کہ بات دن بہ دن سنجیدہ ہوتی جا رہی ہے… یہ غیر سنجیدہ شخص کچھ سنجیدہ اقدامات اٹھا رہا ہے …کچھ اس انداز میں اٹھا رہا ہے کہ… کہ جیسے یہ ہمیں کوئی سزا دینا چاہتا ہے… کس بات کی سزا یہ ہم سمجھ نہیں رہے ہیں اور… اور اس لئے نہیں سمجھ رہے ہیں کہ ابھی کل ہی کی تو بات ہے… کل جب ٹرمپ صاحب اپنے مودی جی کو گلے لگا رہے تھے… ان کے ساتھ دوستی کی قسمیں کھا رہے تھے… ان دونوں اور ان کی دوستی کو دیکھ کر ہمیں ان میں شعلے کے ویرو اور جے نظر آتے تھے… جس طرح ویرو اور جے میں گہری دوستی تھی‘ ایک دوسرے کیلئے جان تک دینے کا جذبہ تھا وہی دوستی ‘ وہی جذبہ ہمیں ٹرمپ صاحب اور مودی جی میں نظر آتا تھا… لیکن نہ جانے کس کم بخت کی نظر… نظر بد لگ گئی جو ٹرمپ صاحب کو کچھ یاد نہیں رہا … کچھ بھی نہیں ۔ لیکن … لیکن کوئی گم نہیں ‘ کوئی مسئلہ نہیں کہ… کہ امریکی صدر یہ کرکے بھی دیکھ لیں… ٹیرف ۵۰ فیصد کرکے بھی دیکھ لیں… اگر اس میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں… تو مزید اضافہ کر کے بھی دیکھ لیں… اللہ میاں کی قسم ان کی سمجھ میں ایک بات آئیگی کہ… کہ انہوں نے غلط جگہ ‘ غلط ملک کے ساتھ پنگا لیا کہ… کہ بات ۱۴۰ کروڑ لوگ اور ان کے عزم کی ہے… اور ٹرمپ صاحب ۵۰ کیا اگر ۱۴۰ فیصد ٹیرف بھی عائد کرتے ہیں تو… تو اس کا جواب ملک کے ۱۴۰ کروڑ لوگ اپنے عزم … عزم صمیم سے دیں گے ۔ٹرمپ صاحب آزمانا چاہتے ہیں تو… تو آزمائیں… کہ بھارت نے کبھی کسی کے آگے گھٹنے نہیں ٹیک دئے ہیں… روس سے تیل خریدنا قومی مفادمیں لیا گیا فیصلہ تھا ‘جس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیںہے… اور اس لئے نہیں ہے کہ یہ فیصلہ ایک آزاد اور خود مختار ملک نے اپنے بہترین مفاد میں لیا تھااور… اور جو آزاد اور خود مختار ممالک ہوتے ہیں وہ کسی کے کہنے پر اپنے فیصلے بدلتے نہیں ہیں… ٹرمپ صاحب کے کہنے پر بھی نہیں کہ…کہ بھارت ، پاکستان نے نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے جہاں امریکہ اور یورپی ممالک کے اشاروں پر فیصلے کیا حکومتیں بدل جاتی ہیں… لیکن یہ بھارت ہے بھارت… یقین نہ آئے تو ٹرمپ صاحب ہمیں آزماکر بھی دیکھ سکتے ہیں … کہ کس میں کتنا ہے دم… ہم تیار ہیں… ہے نا؟



