وزیر اعظم نریندر مودی جی کہہ رہے ہیں کہ کوئی راہل با با کو سنجیدہ نہیں لیتا ہے اور… اور بالکل بھی نہیں لیتا ہے۔لیکن اللہ گواہ ہے کہ … کہ ہم لینے لگے تھے… یقینا ہم راہل بابا کو سنجیدہ لینے لگے تھے… ہمیں لگا تھا کہ اب وہ ووقت آگیا ہے کہ ہمیں کانگریسی لیڈر کو سنجیدہ لینا چاہئے سو ہم نے انہیں سنجیدہ لیا… بھارت جوڑو یاترا کے بعد سے لینا شروع کردیا … لیکن صاحب اب نہیں۔ اب ہمیں بھی لگ رہا ہے… وہی لگ رہاہے جو اپنے مودی جی کو لگ رہا ہے اور… اور یہ لگ رہاہے کہ ہمیں راہل بابا کو سچ میں سنجیدہ لینے کی کوئی ضرورت نہیںہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ…کہ یہ باتیں ہی ایسی کرتے ہیں کہ کوئی بھی انہیں سنجیدہ نہیں لے سکتا ہے… اب تو عدالت … ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی راہل بابا کی خبر لی ہے… ان باتوں پر جو یہ باتوں باتوں میں کرتے ہیں… ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا سر ہو تا ہے اور نہ پیر… یقینا راہل بابا حزب اختلاف کے لیڈر ہیں اور… اور اس ناطے انہیں سرکار کی خبر ہی نہیں رکھنی ہے بلکہ خبر لینی بھی چاہئے…لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ سرکار کی خبر لینے کے نام پر راہل بابا ہمیشہ خبر دینے کی کوشش کریں…ایسی خبر جس کا کوئی آدھا ر‘ جس کی کوئی حقیقت نہ ہو… ٹرمپ نے بھارت کی معیشت کو ’مرہ‘ قرار دیا… ڈیڈ قرار دیا تو… تو راہل با بانے امریکی صدر کی ہاں میں ہاں ملادی … بھارت اور چین میں سب کچھ ٹھیک نہیںہے‘ یہ سب جانتے ہیں ‘یہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں ہے‘ لیکن… لیکن اس کا صاحب یہ تو مطلب نہیں ہے… اور بالکل بھی نہیں ہے کہ … کہ آپ کہہ دیں کہ ارونا چل میں چین نے بھارت کے ۲۰۰۰ کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے… اور جب عدالت عظمیٰ نے اس کا حساب مانگا … اس کی وضاحت طلب کی تو… تو منہ پر قفل لگ گیا … نہیں صاحب ہے… ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ سرکار کو نیچا دکھا نے کیلئے آپ کچھ بھی کہیں… کچھ بھی! ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔ اس سے تو سرکار کا کچھ نہیں جائیگا اور بالکل بھی نہیںجائیگا لیکن… لیکن راہل بابا آپ کا بہت کچھ جائیگا اور… جارہا ہے… آپ کی اعتباریت جا رہی ہے…لوگوں نے آپ کو سنجیدہ لینا چھوڑدیا ہے… اور ہاں ہم نے بھی ۔ ہے نا؟




