جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کیا ڈیجیٹل میڈیا کا عرج پرنٹ میڈیا کا زوال ہے ؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-07-27
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

اخبارات کبھی ایک گھرانے کی صبح کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔ ناشتے کے ساتھ اخبار پڑھنا صرف ایک معمول نہیں بلکہ ایک تہذیبی روایت تھی۔ خبریں، مضامین، اداریے، اشتہارات اور کارٹونز ‘ سب کچھ قارئین کے لیے معلومات، تفریح اور فکری غذا کا ذریعہ ہوتا۔
مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے عروج، سوشل میڈیا کے پھیلاؤ، اور قارئین کے بدلتے رجحانات نے روایتی اخبارات کو ایک کونے میں دھکیل دیا ہے۔یہ تبدیلی دنیا بھر میں دیکھنے آئی ہے اور کشمیر اور یہاں سے شائع ہونے والے اخبارات اس تبدیلی سے مستثنیٰ نہیں رہے ۔
یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی، معاشی، اور ابلاغیاتی انقلاب ہے۔ اخبارات کی اشاعت میں روز بہ روز کمی آ رہی ہے اور دنیا بھر میں کئی اخبارات بند ہو چکے ہیں، یا صرف ڈیجیٹل فارم میں دستیاب ہیں۔ آئیے اس صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
گزشتہ دہائی میں دنیا کے کئی بڑے اخبارات جیسے کہ برطانیہ کا دی انڈپنڈنٹ‘امریکہ کا دی کرسچن سائنس مانیٹرنے پرنٹ ایڈیشن بند کر کے صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقلی اختیار کر لی۔ بھارت اور اس کی ہمسائیگی اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی اخبارات کی اشاعت میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔
امریکہ میں ۲۰۰۰ سے۲۰۲۳ کے درمیان روزانہ اخبار پڑھنے والوں کی تعداد میں ۶۰ فیصد کمی آئی۔بھارت میں دی ہندو، ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز جیسے اخبارات کی اشاعت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
آج دنیا کی ایک بڑی آبادی اسمارٹ فون استعمال کرتی ہے، اور خبر پڑھنے کے لیے موبائل ایپس، ویب سائٹس، سوشل میڈیا، اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کا سہارا لیتی ہے۔ لوگوں کے پاس وقت کم ہے، اور وہ فوری اور مختصر خبریں چاہتے ہیں۔
فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسی سوشل ایپس نے خبر رسانی کا انداز بدل دیا ہے۔ اب ایک عام فرد بھی خبر پھیلا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ خطرناک بھی ہے (جعلی خبروں کے باعث)، مگر قارئین اب اخبارات کا انتظار نہیں کرتے۔
پرنٹنگ، تقسیم، کاغذ، سیاہی، اور انسانی وسائل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے اخبارات کو اقتصادی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی ادارے اب ڈیجیٹل ماڈل کو زیادہ سستا اور مؤثر سمجھتے ہیں۔
نوجوان نسل، جو انٹرنیٹ کے ساتھ پیدا ہوئی ہے، پرنٹ اخبارات سے دور ہے۔ وہ تصویری اور ویڈیو مواد کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ طویل اداریے یا تحقیقی مضامین اب بہت کم پڑھے جاتے ہیں۔
کووِڈ۱۹ کے دوران اخبارات کی تقسیم میں رکاوٹیں آئیں، قارئین نے کاغذی اخبار لینے سے گریز کیا، اور میڈیا اداروں نے آن لائن مواد پر زیادہ توجہ دی۔ یہ تبدیلی عارضی نہیں بلکہ مستقل ثابت ہوئی۔
اخبارات کی آمدنی میں کمی کے باعث کئی ادارے صحافیوں، سب ایڈیٹرز، رپورٹرز اور طباعتی عملے کو فارغ کر رہے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں روزگار کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا پر تیز رفتاری کی دوڑ میں تحقیق، تنقید، اور گہرائی سے عاری مواد بڑھ گیا ہے۔ اخبارات، جو طویل اور معیاری رپورٹنگ کرتے تھے، اب وقت و وسائل کی کمی کے باعث محدود ہو چکے ہیں۔
اردو، پنجابی، کشمیری اور بنگالی جیسے زبانوں کے اخبارات کو زیادہ نقصان ہوا ہے، کیونکہ ان زبانوں میں ڈیجیٹل مواد محدود ہے۔ مقامی صحافت کو خطرہ لاحق ہے۔
ٹیکنالوجی کی ترقی اور قارئین کے بدلتے رویوں کو روکنا ممکن نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پرنٹ میڈیا کا مکمل خاتمہ جائز ہے؟ نہیں۔ اخبارات آج بھی‘مستند اور تصدیق شدہ خبروں کا ذریعہ ہیں‘تعمیری بحث، تحقیق اور تجزیے کا مرکز ہیں‘ادب، کالم، فیچر، اداریہ جیسے سنجیدہ اصناف کی پرورش کرتے ہیں‘عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اخبارات کو چاہیے کہ وہ پرنٹ کے ساتھ ساتھ آن لائن موجودگی بھی مضبوط بنائیں۔ موبائل ایپ، سبسکرپشن ماڈل، اور ای،پیپرز کے ذریعے قارئین کو متوجہ کریں۔
تعلیمی اداروں میں اخبارات کے مطالعے کو فروغ دیا جائے۔ صحافت کے کورسز میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت پر زور دیا جائے۔جھوٹی خبروں اور سنسنی خیزی سے اجتناب کرتے ہوئے، تصدیق شدہ اور معیاری مواد شائع کیا جائے تاکہ قارئین کا اعتماد بحال ہو۔اخبارات کو صرف خبریں دینے کے بجائے علمی اور فکری پہلو کو فروغ دینا چاہیے تاکہ سنجیدہ قارئین واپس آئیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اخبارات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم، معیاری اور تحقیقی صحافت کے لیے پرنٹ میڈیا کا کردار ہمیشہ اہم رہے گا۔ آنے والے وقت میں شاید صرف وہی اخبارات زندہ رہیں جومخصوص طبقے یا شعبے کے لیے شائع ہوں‘ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ ہم آہنگ ہوں‘قارئین کو مختلف تجربہ فراہم کریں۔
اخبارات صرف خبروں کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی شعور، قومی بیانیے، اور فکری تربیت کا ایک اہم وسیلہ ہیں۔ اگر ان کا زوال اسی رفتار سے جاری رہا تو نہ صرف صحافت کو نقصان ہوگا بلکہ جمہوری اقدار اور عوامی آگہی بھی متاثر ہوگی۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اخبارات کی اہمیت کو دوبارہ سمجھیں، اور ان کے تحفظ و فروغ کے لیے ذاتی، سماجی، اور حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کریں۔
ڈیجیٹل میڈیا نے بلاشبہ دنیا کو بدل دیا ہے۔ خبریں، معلومات، تفریح اور تعلیم ‘ سب کچھ اب انگلیوں کی پوروں پر دستیاب ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان پرنٹ میڈیا کو ہوا ہے، جو کبھی ابلاغ کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
اس کے باوجود، پرنٹ میڈیا آج بھی اپنے اعتبار، گہرائی اور سنجیدگی کی بدولت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ میڈیا خود کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کر لے اور معیار کو برقرار رکھے تو اس کا مستقبل اب بھی روشن ہو سکتا ہے۔
قلم، سچ اور فکر کا رشتہ اخبار سے ہے؛ یہ صرف کاغذ نہیں، ایک عہد کی آواز ہے!
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’فاتح بننا ہماری فطرت ہے ‘

Next Post

آپریشن سندور ہمارا عزم اور پاکستان کو فیصلہ کن جواب تھا:جنرل دیویدی 

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں این سی سی کا کردار قابل ستائش : جنرل چوہان

آپریشن سندور ہمارا عزم اور پاکستان کو فیصلہ کن جواب تھا:جنرل دیویدی 

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.