نہیں صاحب اتنا بھی تنگ کرنا ٹھیک نہیں ہے‘ مناسب نہیں ہے ۔ مانتے ہیں کہ سیاستدان ایک دوسرے کے حریف ہو تے ہیں ‘ ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں… یہاں تک کہ جھوٹ کا بھی سہارا لے سکتے ہیں… ہم یہ سب مانتے ہیں‘ لیکن … لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے … اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ہمارے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ کے پیچھے ہی پڑ جائیں گی… ہاتھ دھوکے دھوکے پڑ جائیں گی… جانتی ہیں… سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ عمرعبداللہ لورِ دستار ہیں… اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ … کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے… لیکن…لیکن پھر بھی وہ انہیں تنگ کررہی ہیں… انہیں ۱۳ جولائی کی تعطیل کو بحال کرنے پر تنگ کررہی ہیں… کشمیر کی سیاسی … اپوزیشن سیاسی جماعتیں بخوبی اس امر سے واقف ہیں کہ ۱۳ جولائی کی تعطیل بحال نہیں ہوگی… کم از کم اپنے عمرعبداللہ کے ہو تے ہو ئے بحال نہیںہو سکتی ہے… لیکن پھر بھی وہ طعنہ دینے سے باز نہیں آ رہی ہیں… ہم جانتے ہیں کہ عمرعبداللہ اور ان کی جماعت نے گزشتہ سال سینہ ٹھوک کر کہا تھا کہ وہ اگلے سال… یعنی امسال سے اس تعطیل کو بحال کریں گے ‘ لیکن… لیکن ایسا نہیں ہوا … ایسا نہیں ہو گا…ایسا نہیں ہو سکتا ہے… اس لئے اس بات پر عمرعبداللہ کو تنگ کرنا ‘ انہیں طعنہ دینا ‘ ان کی ٹانگ کھینچنا… ان کے ساتھ زیادتی ہے… اور سو فیصد ہے ۔ یقین کریں ‘ ہمیں اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ آیا عمرعبداللہ کل ۱۳ جولائی کو ۱۳ جولائی کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے‘ فاتحہ خوانی کیلئے نقشبند صاحب جا بھی سکیں گے یا نہیں… اگر وہ گئے … اگر انہیں وہاں جا کر گلہائے عقیدت ادا کرنے کا موقع ملا… اس کی اجازت ملی اور… اور وہ سچ میں وہاں جا سکیںتو… تو اللہ میاں کی قسم یہ ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ یہ ان کی اپنی آٹھ ماہ پرانی حکومت کی دوسری سب سے بڑی کامیابی ہو گی … کہ… کہ پہلی کامیابی ان کی تعلیمی کلینڈر میں نومبر سیشن کی بحالی تھی… کہ… کہ وہ دن اور آج کا دن ہمیں اس کے علاوہ ان کی کوئی اور کامیاب نظر نہیں آ رہی ہے… بالکل بھی نہیں آ رہی ہے ۔ایک اور کامیابی یہ رقم کر سکتے ہیں… ۱۳ جولائی کو کر سکتے ہیں…نقشبند صاحب جا کر کر سکتے ہیں ۔ ہے نا؟



