قطع نظر اس بات کے کہ کشمیر کے اسکولوں میں اوقات کار ایک بار پھر تبدیل ہونے چاہئیں یا نہیں ‘موسم میں آ رہی تبدیلی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ۔
سرما میں برفباری کا کم ہو نا ‘دن میں کھلی دھوپ رہنا اور گرما میں جھلستی دھوپ اور ریکارڑ توڑ درجہ حرارت اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ کشمیر کے آب و ہوا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ۔
گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت اور دنیا بھر میں اس کے اثرات اپنی جگہ ‘ نازک موحولیات کے باعث کشمیر اس موسمیاتی تبدیلی‘جس کا اب ہم کم و بیش تین دہائیوں سے مشاہدہ کررہے ہیں ‘کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔
وادی یقینا اپنے خوبصورت اور قابل رشک قدرتی مناظر کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہے اور یہ جگہ سیاحوں کیلئے اس کی دلکشی کے باعث پر کشش ہے‘ لیکن یہاں کا معتدل موسم اسے ایک منفرد شناخت اور پہنچان دیتا ہے لیکن بد قسمتی سے اب اسی موسم میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ۔
امسال ہم دیکھ رے ہیں کہ وادی میں ناقابل برداشت گرمیاں پڑ رہی ہیں اور جون کا مہینہ گزشتہ ۷۵ برسوں میں گرم ترین ثابت ہوا جبکہ دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۴ء۳۷ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا گیا ۔ جون اور جولائی میں اب تک کئی بار سرینگر کادرجہ حرارت جموں کے مقابلے میں زیادہ درج کیا گیا اور یہ یقینا ایک اچھی بات نہیں ہے ۔
عالمی حدت یقینا ایک حقیقت ہے‘ لیکن کچھ مقامی عوامل بھی ہیں جن کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کا مشاہدہ کررہے ہیں۔سب سے بڑی وجہ ایک عام شہری کا ماحولیات اور اس کے تحفظ کے حوالے سے بے حس ہو نا ہے ۔عام لوگوں کے اس رویے میں جب تک تبدیلی نہیں آئیگی ‘کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی ہے ۔حکومتی کوششیں اپنی جگہ ‘ لیکن ماحولیات کے تحفظ میں ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ان راہوں کو تلاش کرنا ہو گا جس سے ہم کشمیر کے بدلتے آب و ہوا کو بچا سکتے ہیں ‘ اپنے ماحول کو تحفظ دے سکتے ہیں ۔
اس سلسلے میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی قانون ساز کمیٹی برائے ماحولیات نے بھی ماحولیاتی انحطاط پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کیلئے مربوط کوششوں پر زور دیا۔کمیٹی کے سربراہ‘محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ ایسے مسائل کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے جہاں ہم جموں کشمیر کی ماحولیاتی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مل کر مداخلت کر سکتے ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ماحولیات لوگوں کی جسمانی ، ذہنی اور سماجی بہبود میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔’’ ہمیں اپنے ماحول کی حفاظت کی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ماحولیات کا تحفظ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کا سوال ہے اور ہمیں اس سمت میں اجتماعی طور پر کام کرنا ہوگا‘‘۔
تاریگامی نے کہا کہ ماحولیاتی صحت ہماری بقا ہے اور اگر اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس حقیقت سے انکار تباہ کن ثابت ہوگا۔ ’’اب وقت آگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں ہم میں سے ہر ایک کو یہ احساس ہو کہ ماحولیات ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے اور سمجھدار نقطہ نظر کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے اس کے تحفظ اور تحفظ میں ہر ایک کا کردار ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں جو بھی حدود ہوں لیکن ہمارے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے خود پر زور دینے میں کوئی بہانہ نہیں ہونا چاہیے۔
کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے وقتا فوقتا درختوں کی لاپروائی سے کٹائی کی بھی مذمت کی اور خبردار کیا کہ فطرت کے عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس سیارے پر ہمارے وجود کے امکان پر اس کا اثر پڑتا ہے۔
اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ماحولیاتی ایکشن پلان پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے تاکہ ہمیں درپیش ماحولیاتی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ جموں و کشمیر میں تمام منصوبوں پر ان کے نفاذ سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں زرعی زمین کو تیزی سے غیر زرعی مقاصد میں تبدیل کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک بار کھو جانے کے بعد یہ ناقابل تلافی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے آبی ذخائر میں تجاوزات اور ملبہ ڈمپنگ کو بھی ایک اور اہم مسئلہ کے طور پر اٹھایا جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ لوگوں کو انسان کی بقا کے لیے ماحولیات کی صحت کے بارے میں حساس بنایا جانا چاہیے۔ ہمارے قدرتی وسائل کی تباہی کو روکنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی بہت ضرورت ہے۔
وادی میںجیسے جیسے شدید موسم معمول بن جاتا ہے ، سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جموں کشمیر کا ماحولیاتی اور اقتصادی مستقبل پر تلوار لٹکتی رہے گی ۔ماہرین کی رائے ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے‘کیونکہ ہمالیائی ماحولیاتی نظام انتہائی نازک ‘بلا روک ٹوک ترقی ، جنگلات کا نقصان ، اور بدلتے ہوئے آب و ہوا کے نمونے ایک خطرناک امتزاج میں مل رہے ہیں۔
سیاحت اور باغبانی دو ایسے شعبے ہیں ‘ جو جموں کشمیر کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دونوں مجموعی طور پر جموں کشمیر کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں ۱۵ تا ۱۶ فیصد حصہ ڈالتے ہیں اور اگر یہ دونوں شعبے متاثر ہوئے تو جموں کشمیر کے معاشی مسائل مزید الجھ جائیں گے ۔ ان دونوں شعبوں کا براہ راست تعلق یہاں کے نازک ماحولیاتی نظام سے جڑا ہے … اُس نازک ماحولیاتی نظام سے جس میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں‘ ایسی تبدیلیاں جو صحت مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہیں۔





