نہیں ایسا نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے ہم اسے حکم نواب تا در نواب والا معاملہ ہے سمجھتے ہیں… اللہ میاں کی قسم ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہے… ہم جانتے ہیں کہ کسی کی اسے حکم نواب تادر نواب والا معاملہ بنانے کی نیت نہیں ہے… لیکن… لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ حکم نواب تا در نواب والا ہی معاملہ ہے… یا یہ حکم نواب تادر نواب والا معاملہ ہی بن کے رہ جاتا ہے… کچھ اور نہیں ۔اور اس میں اپنے وزیر اعلیٰ ‘ عمر عبداللہ کی کوئی خطا نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو بجلی ملے… دن رات اوررات دن نہ سہی لیکن اتنی ملے جتنی انہیں دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے… لیکن ایسا ممکن نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر کوئی بھی براجمان ہو … سرما میں بجلی کی سپلائی میں معقولیت لانے کا اس کا خواب ‘خواب ہی رہتا ہے… بجلی سپلائی میں معقولیت لانے کا اس کا حکم… حکم نواب تادر نواب ہی ثابت ہو تا ہے… یہ وہ واحد حکم ہے… پھر چاہے یہ حکم طاقتور ترین ایل جی صاحب کی طرف سے ہو یا کمزور ترین وزیر اعلیٰ کی جانب سے دیا جائے… اس پر کوئی عمل کرنے نہیں کیلئے تیار نہیں ہے… اس لئے نہیں کہ وہ حکم عدولی کا مرتکب ہونا چاہتا ہے… نہیں ایسا نہیں ہے… بلکہ یہ وہ حکم ہے جس پر عمل نہیں کیا جا سکتا ہے… کم از کم کشمیر میں نہیں کیا جا سکتا ہے … اور اس لئے نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس کی ایک تاریخ ہے… تاریک تاریخ۔کچھ چیزیں کشمیریوں کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑیں گی اور… اور موسم سرما میں اعلانیہ اور غیر کٹوتی ان میں سے ایک ہے… وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ محکمہ شوق سے اعلانیہ کٹوتی پر عمل کرے… پھر چاہے یہ کٹوتی کئی گھنٹوں کی ہو … لیکن … لیکن ان جناب کو لگتا ہے کہ غیر اعلانیہ کٹوتی کو ہضم کرنا … اسے برداشت کرنا لوگوں کیلئے مشکل ہو رہا ہے… اس لئے عمرعبداللہ اس کٹوتی… غیر اعلانیہ کٹوتی کو ختم تو نہیں البتہ کم کرنے کو کہہ رہے ہیں کہ … کہ یہ جناب بھی جانتے ہیں… ان کی اس نا سمجھ‘ سمجھ میں بھی یہ بات آگئی ہے اور … اور سو فیصد آگئی ہے کہ غیر اعلانیہ کٹوتی میں کمی کا حکم سچ میں حکم نواب تادر نواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟




