بدھ, نومبر 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home ٹاپ سٹوری

دفعہ ۳۷۰ کی تنسیخ کے بعد ۱۸۷غیر مقامی افراد نے جموں کشمیر میں زمین خرید لی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2023-04-05
in ٹاپ سٹوری
A A
دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے تین سال: جنگجوئیت سے جڑی ہلاکتوں میں ۳۰ فیصد کمی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

سرینگر/۵اپریل
دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد 187 غیر مقامی باشندوں نے جموں کشمیر میں زمین خریدی ہے۔ اراضی کی سب سے زیادہ خریداری گزشتہ سال ہوئی ہے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ، نتیا آنند رائے نے لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں جانکاری دستیاب کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ تین برسوں میں 187 غیر مقامی افراد (غیر کشمیری پشتینی باشندوں) نے جموں کشمیر یونین ٹیریٹری میں زمین خرید لی ہے۔“
اس حوالہ سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ سنہ 2020 میں صرف ایک غیر مقامی شخص نے زمین خریدی تھا، سنہ 2021 میں 57 غیر جبکہ سنہ 2022 میں 127 غیر مقامی باشندوں نے یہاں زمین خریدی ہے۔
اس تعداد سے یہ بات عیاں ہے کہ غیر مقامی افراد کی جانب سے جموں کشمیر میں زمین خریدنے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
غور طلب ہے کہ دفعہ 35 اے کی منسوخی کے بعد مرکزی سرکار نے جموں کشمیر میں غیر مقامی باشندوں کے لئے زمین خریدنے اور یہاں کے مستقل باشندے ہونے کے لئے قانونی تبدیلیاں کرکے راہ ہموار کر دی ہے۔
دفعہ 35 اے کے باعث جموں کشمیر میں کوئی بھی غیر مقامی شخص زمین خریدنے کا اہل نہیں تھا، البتہ تجارت کے لئے زمین لیز پر لے سکتا تھا۔
سرمایہ کاری سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں 1559 بھارتی نجی تجارتی کمپنیاں اور بین الاقوامی کمپنیوں نے جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کی ہے۔
رائے کے مطابق سنہ 2021 میں 310، سنہ 2022 میں 175 اور سنہ 2022-23 میں 1074 کمپنیوں نے جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کی ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہا” لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، پچھلے تین سالوں کے دوران یو ٹی سے باہر کے لوگوں نے کوئی زمین نہیں خریدی ہے“۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

کورونا کیسز بڑھنے کی صورت میں گائیڈ لائنز جاری کی جائیں گی: صوبائی کشمنر کشمیر

Next Post

میڈیا اور سپریم کورٹ کا سچ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘
اہم ترین

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘

2026-11-04
آزادپارٹی کے نظریے کے بجائے ذاتی اختلافات کی بنیادوں پر مستعفی ہوئے:قرہ
اہم ترین

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

2026-11-04
جموں کشمیر کو بجٹ میں خصوصی پیکیج ملنا چاہئے:چودھری
اہم ترین

رام مادھو کے دورۂ جموںکشمیر پر نائب وزیر اعلیٰ کا بی جے پی پر طنز

2026-11-04
’آغا روح اللہ ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں‘
اہم ترین

’آغا روح اللہ ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں‘

2026-11-04
کشمیر میں سرخ پھول کی واپسی: مصنوعی رنگوں پر پابندی کے بعد موَل کی مانگ میں اضافہ
اہم ترین

کشمیر میں سرخ پھول کی واپسی: مصنوعی رنگوں پر پابندی کے بعد موَل کی مانگ میں اضافہ

2026-11-04
این سی کو ہل کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کیخلاف دائر ایپل مسترد
اہم ترین

این سی کے روح اللہ کے پارلیمانی کردار پر سوالات

2026-11-04
اہم ترین

لداخ یونیورسٹی طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کی پانچ نشستوں پر کامیابی

2026-11-04
۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعمیراتِ عامہ میں ۱۷ امیدواروں کو تقرری نامے تقسیم کئے

2026-11-04
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

میڈیا اور سپریم کورٹ کا سچ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.