سرینگر؍ ۳ نومبر
بی جے پی کے قومی نائب صدر‘ رام مادھو نے منگل کو کہا کہ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی ’’ہمارے لوگوں‘‘ کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر کی حکمراں جماعت میں واضح طور پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور بی جے پی کا اس کے داخلی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سرینگر کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے منگل کو بڈگام میں اپنے والد آغا سید مہدی کی ۲۶ویں برسی کے موقع پر منعقدہ جلسے میں نیشنل کانفرنس اور لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ آغا سید مہدی کو سال ۲۰۰۰ء میں قتل کیا گیا تھا۔
رام مادھو نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا، لیکن نیشنل کانفرنس آج واضح طور پر منقسم نظر آ رہی ہے۔ روح اللہ آج ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں۔‘‘
بی جے پی کے قومی نائب صدر نے ۲۰۱۵ء اور ۲۰۱۶ء میں جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
رام مادھو ایک روزہ دورے پر جموں پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے تریکوٹہ نگر میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات کی۔
ان کا یہ دورہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے حالیہ کابینہ توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی میں بڑھتے ہوئے مبینہ اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
تاہم، رام مادھو نے نیشنل کانفرنس کے داخلی معاملات سے بی جے پی کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے دیے گئے بیانات پارٹی کے موقف سے الگ ہیں۔
بی جے پی کے قومی نائب صدر نے کہا، ’’میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نیشنل کانفرنس کے داخلی معاملات میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ہمارے ارکان اسمبلی جو بھی بیانات دیتے ہیں، وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ یہ مکمل طور پر نیشنل کانفرنس کا داخلی معاملہ ہے اور اس کے رہنما آپس میں لڑ رہے ہیں۔‘‘
بی جے پی کے متعدد ارکان اسمبلی اور سینئر رہنما یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ نیشنل کانفرنس تقسیم کی طرف بڑھ رہی ہے اور حکمراں جماعت میں بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت بھی گر سکتی ہے۔
رام مادھو نے کہا، ’’آج ان ہی کی پارٹی کے ایک رکن پارلیمان سامنے آئے ہیں اور اپنا پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ یہ ان کا داخلی معاملہ ہے۔ ہمیں اس سے کیا لینا دینا ہے؟‘‘
ممکنہ سیاسی پیش رفت اور اس کے اثرات سے متعلق سوال پر رام مادھو نے قیاس آرائیوں سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حالات کو سامنے آنے دینا ہوگا۔
بی جے پی کے قومی نائب صدرنے کہا، ’’جی ہاں، جب آپ پل تک پہنچیں گے تو اسے عبور کرلیں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









