بدھ, نومبر 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘

سرینگر پارلیمانی حلقے سے مستعفی، لوک سبھا اسپیکر کو استعفیٰ ارسال، حکمران جماعت کی قیادت کی مٹی پلید کرکے رکھ دی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-11-04
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس سے ’آزاد‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

رام مادھو کے دورۂ جموںکشمیر پر نائب وزیر اعلیٰ کا بی جے پی پر طنز

دفعہ ۳۷۰ کی بحالی سمیت انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام‘ نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اشارہ بھی دے ڈالا

بڈگام؍ ۳ نومبر

            نیشنل کانفرنس کی قیادت کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات کے بعد سرینگر کے رکن پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی نے منگل کو پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر دفعہ ۳۷۰ کی بحالی سمیت اہم انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے یہ اعلان یہاں اپنے والد آغا سید مہدی کی ۲۶ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔

            جلسے میں نیشنل کانفرنس سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرنے کے فوراً بعد آغا روح اللہ نے اپنا استعفیٰ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ای میل کے ذریعے ارسال کردیا۔

            آغا روح اللہ، جنہوں نے ۲۰۲۴ء میں نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، نے اپنے حامیوں سے ۸۰ منٹ طویل خطاب کے دوران جموں و کشمیر میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا بھی اشارہ دیا۔

            طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بااثر شیعہ رہنما نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں پر دفعہ ۳۷۰ کی بحالی کی جدوجہد سے دستبردار ہونے کا الزام عائد کیا، جس کے تحت جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں خصوصی حیثیت حاصل تھی۔

            آغا روح اللہ نے کہا، ’’انتخابات کے دوران دفعہ ۳۷۰ کی بحالی، قیدیوں کی رہائی اور مفت بجلی فراہم کرنے کے تمام دعوے محض جھوٹ تھے۔ اب میں مزید ان جھوٹ کا حصہ نہیں رہ سکتا۔‘‘انہوں نے پارٹی سے اپنے استعفیٰ کو ’’آزادی کا فرمان‘‘ قرار دیا۔

            آغا روح اللہ نے اپنا استعفیٰ خط محمد اشرف متو کے حوالے کیا، جو ۲۰۱۰ء کے اوائل میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان طفیل متو کے والد ہیں۔ انہوں نے اشرف متو سے درخواست کی کہ وہ یہ خط فاروق عبداللہ تک پہنچائیں۔

            طفیل متو کی ہلاکت کے بعد اس وقت عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جن میں آغا روح اللہ بھی کابینہ وزیر کی حیثیت سے شامل تھے۔

            آغا روح اللہ نے اپنے حامیوں کی زوردار تالیوں کے درمیان کہا، ’’یہ آزادی کا منشور ہے۔ میں یہ استعفیٰ فاروق عبداللہ کو نہیں بھیجوں گا۔ ان کا یہ مقام یا حیثیت نہیں کہ میں انہیں اپنا استعفیٰ بھیجوں۔ یہ اس دھوکے باز اور بدعنوان تنظیم سے آزادی کا پیغام ہے۔ میں یہ استعفیٰ محمد اشرف متو صاحب کے حوالے کر رہا ہوں۔ میری درخواست ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے آگے پہنچائیں۔‘‘

            عمر عبداللہ کا حوالہ دیتے ہوئے رکن پارلیمان نے انہیں ایک ’’نااہل‘‘ سیاست دان قرار دیا، جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’آپ نے عوام سے وعدے کیے، لیکن انہیں پورا نہیں کیا۔ آپ کو صرف اقتدار سے دلچسپی تھی۔ انتخابات سے پہلے آپ ووٹوں کے لیے لوگوں کے سامنے گڑگڑا رہے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے اسمبلی کے ایوان میں کہا کہ آپ کو انتخابی منشور بنانے پر افسوس ہے، کیونکہ اب وہ آپ کو جواب دہ بنا رہا ہے۔‘‘

            آغا روح اللہ نے مزید کہا، ’’آپ کو اس لیے منتخب کیا گیا تھا کہ آپ بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کیے گئے اقدامات کو واپس لیں، لیکن آپ نے صرف ان لوگوں کو شالیں پیش کیں جنہوں نے ہمارے عوام کے جذبات اور عزت کو مجروح کیا۔ اس کے برعکس، آپ نے طلبہ کو ریزرویشن، عارضی ملازمین کو مستقلی اور میڈیکل انٹرنز کو وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر دباؤ میں رکھا۔‘‘

            مستعفی ہوئے لوک سبھا ممبر نے جنوری ۲۰۲۵ء میں سونہ مرگ میں زیڈ موڑ سرنگ کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی سے عمر عبداللہ کے کہے گئے الفاظ بھی دہرائے، جب انہوں نے کہا تھا، ’’وزیر اعظم صاحب، آپ نے دیکھا ہوگا کہ موسم نے آپ کا ساتھ دیا ہے، آسمان پر ایک بھی بادل نہیں ہے۔‘‘

            آغا روح اللہ نے کہا کہ اگر عمر عبداللہ واقعی کشمیری ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ چلہ کلاں، یعنی کشمیر کے سرد ترین موسم کے دوران، آسمان پر بادلوں کا نہ ہونا ’’درحقیقت ایک بدشگونی ہے۔‘‘انہوں نے سوال کیا، ’’جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حکومت موجودہ حکومت سے مختلف کیسے ہوگی؟‘‘

            بی جے پی اور آر ایس ایس سے مخاطب ہوتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا، ’’اب بہت ہو چکا۔ جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام اب اپنی عزت و وقار پر مزید سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آپ جتنا چاہیں طاقت کا استعمال کرلیں، لیکن ہمارے آئینی تحفظات ہمارا حق ہیں اور ہم انہیں اپنی عزت و وقار سمجھتے ہیں۔‘‘

            نیشنل کانفرنس حکومت پر مرکز کی ’’غلامی‘‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا، ’’کشمیر اپنی شرطوں پر بات کرے گا، تمہارے الفاظ میں بات نہیں کرے گا۔‘‘

            استعفیٰ پر دستخط کرنے سے قبل انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ایسے دیانت دار نوجوانوں کو تلاش کرنے کے خواہاں ہیں جن کے اندر ہمدردی ہو، جو سیاست میں آنے کے لیے تیار ہوں اور اپنے عوام کے حقوق اور عزت و وقار کے لیے جدوجہد کریں۔انہوں نے کہا، ’’انہیں تلاش کرنے کے لیے مجھے جہاں تک بھی جانا پڑے گا، میں جاؤں گا۔‘‘

            نیشنل کانفرنس کے صدر کے نام اپنے دو صفحات پر مشتمل استعفیٰ خط میں آغا روح اللہ نے کہا کہ ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی، متضاد طور پر، سیاسی جگہ اور حقوق دوبارہ حاصل کرنے کا ایک موقع تھی، لیکن اس کے لیے جدوجہد، قربانیوں اور قیمت ادا کرنے کے عزم کی ضرورت تھی۔انہوں نے لکھا، ’’اس وقت میرا مفروضہ یہ تھا کہ نیشنل کانفرنس، کشمیر کی قدیم ترین سیاسی جماعت، اس جدوجہد کے لیے فطری طور پر موزوں ہے جس کا حالات تقاضا کر رہے تھے۔‘‘

            آغا روح اللہ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی، جبکہ عوام نے بھی پارٹی کو بھاری مینڈیٹ دے کر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن انتخابی میدان کی گرمی ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ نیشنل کانفرنس نے اپنا موقف بدل لیا۔ ذاتی طور پر میں نے اسے دھوکہ دہی سمجھا۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوئی کہ عوام کی توقعات کو دھوکہ دیا گیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب جموں و کشمیر کو اپنے وجود کے لیے خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

            آغا روح اللہ نے کہا کہ اگرچہ کچھ لوگ ان سے نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم ان کی زیادہ دلچسپی جموں و کشمیر کے عوام کی عزت، وقار اور احترام کی بحالی کے لیے ایک تحریک شروع کرنے میں ہے۔

            انہوں نے کہا، ’’۲۰۲۴ء کے انتخابات میں ہم نے عوام سے نیشنل کانفرنس کی حمایت کی اپیل کی تھی اور اب یہ ہماری غلطی ثابت ہوئی ہے۔ وہ شاید دستبردار ہوگئے ہوں، لیکن ہم نہیں ہوئے۔ ہم ایک ایسی تحریک شروع کریں گے جس میں دیانت دار اور ہمدرد لوگ آگے آئیں گے اور ہم سے چھینی گئی چیزوں کی بحالی کے لیے جدوجہد کی قیادت کریں گے۔‘‘

۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آزادپارٹی کے نظریے کے بجائے ذاتی اختلافات کی بنیادوں پر مستعفی ہوئے:قرہ
اہم ترین

 روح اللہ کی علیحدگی کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان:قرہ

2026-11-04
جموں کشمیر کو بجٹ میں خصوصی پیکیج ملنا چاہئے:چودھری
اہم ترین

رام مادھو کے دورۂ جموںکشمیر پر نائب وزیر اعلیٰ کا بی جے پی پر طنز

2026-11-04
’آغا روح اللہ ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں‘
اہم ترین

’آغا روح اللہ ہمارے لوگوں کی دعاؤں سے جلسہ کر رہے ہیں‘

2026-11-04
کشمیر میں سرخ پھول کی واپسی: مصنوعی رنگوں پر پابندی کے بعد موَل کی مانگ میں اضافہ
اہم ترین

کشمیر میں سرخ پھول کی واپسی: مصنوعی رنگوں پر پابندی کے بعد موَل کی مانگ میں اضافہ

2026-11-04
این سی کو ہل کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کیخلاف دائر ایپل مسترد
اہم ترین

این سی کے روح اللہ کے پارلیمانی کردار پر سوالات

2026-11-04
اہم ترین

لداخ یونیورسٹی طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کی پانچ نشستوں پر کامیابی

2026-11-04
۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعمیراتِ عامہ میں ۱۷ امیدواروں کو تقرری نامے تقسیم کئے

2026-11-04
انجینئر رشید کی امیدواری نے عمر اور سجاد میں مقابلے کو دلچسپ بنا دیا
اہم ترین

انجینئر رشید کی ضمانت عرضی پر فیصلہ محفوظ

2026-11-04

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.