جموں؍ ۳ نومبر
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے منگل کو نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کے پارٹی قیادت کے ساتھ اختلافات کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی کا ممکنہ فقدان قرار دیا، جبکہ اس بات کا اعادہ کیا کہ بی جے پی کی جانب سے نیشنل کانفرنس کو کسی بھی خطرے کی صورت میں کانگریس اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔
حالیہ سیاسی پیش رفت، بشمول کابینہ کی حالیہ توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی میں مبینہ اختلافات اور آغا روح اللہ کے پارٹی سے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قرہ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ نیشنل کانفرنس اس صورت حال سے نمٹنے میں کامیاب رہے گی۔
آغا روح اللہ کے استعفیٰ سے متعلق سوال پر قرہ نے کہا کہ ہر شخص کے پاس کسی پارٹی کو چھوڑنے کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں اور ان کے خیال میں یہ اختلافات نظریاتی ہم آہنگی کے فقدان کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔
قرہ نے یہاں پارٹی کے ایک پروگرام کے موقع پر پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ان کا نقطۂ نظر مختلف تھا، جبکہ پارٹی کسی دوسری سمت میں آگے بڑھ رہی تھی۔ ممکن ہے کہ نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان بھی اس کی ایک وجہ ہو۔‘‘
ستمبر ۲۰۱۶ء میں اپنی جانب سے پارلیمنٹ اور پی ڈی پی سے استعفیٰ دینے، نیز اگست ۲۰۲۲ء میں غلام نبی آزاد کے کانگریس سے استعفیٰ دینے کی مثال دیتے ہوئے جے کے پی سی سی صدر نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے ایسے فیصلے کرنے کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں۔
قرہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے متعدد ارکان اسمبلی کی الگ الگ ملاقاتوں اور آغا روح اللہ کے استعفیٰ کے تناظر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے استحکام یا مدت کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنا قبل از وقت ہے۔
لانگریسی لیڈر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں میں اس طرح کی پیش رفت غیر معمولی نہیں ہے اور بات چیت اور داخلی رابطہ کاری کے ذریعے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’مجھے پورا یقین ہے کہ نیشنل کانفرنس اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کافی سرگرم رہے گی۔‘‘
بی جے پی رہنما رام مادھو کے جموں دورے اور منگل کے بعد کسی بڑی سیاسی پیش رفت کے امکان سے متعلق قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے قرہ نے کہا کہ کانگریس کو ایسی کسی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
قرہ نے کہا، ’’جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس نوعیت کی کسی تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔ ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘
کانگریسی لیڈر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بی جے پی کی جانب سے نیشنل کانفرنس کو کسی بھی خطرے کی صورت میں کانگریس اس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
قرہ نے کہا، ’’ہم ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ جب بھی نیشنل کانفرنس کو بی جے پی کی جانب سے کسی خطرے کا سامنا ہوگا، کانگریس پارٹی کو اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہنا چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ کانگریس جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے اپنی مہم جاری رکھے گی۔
کانگریس کے یونٹ صدر نے کہا، ’’کانگریس گزشتہ دو برسوں سے ’ہماری ریاست، ہمارا حق‘ کے نعرے کے تحت احتجاجی مظاہرے، بھوک ہڑتالیں اور ’جموں چلو‘ اور ’دہلی چلو‘ جیسی مہمات چلاتی رہی ہے۔ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے یہ ایک جاری تحریک ہے اور ایسے پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









