سرینگر؍ ۳ نومبر
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے منگل کو آغا سید روح اللہ مہدی کے پارٹی قیادت کے خلاف بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سری نگر کے رکن پارلیمان پر ’’ذہنی اور اخلاقی دیوالیہ پن‘‘ اور ’’خود محوری‘‘ کا الزام عائد کیا۔ پارٹی نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے ان کے پارلیمانی کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
پارٹی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل پر جاری ایک تفصیلی بیان میں الزام لگایا کہ روح اللہ کی تقریر این سی قیادت کے خلاف توہین آمیز اور غیر پارلیمانی زبان سے عبارت تھی۔
این سی نے دعویٰ کیا کہ روح اللہ نے پارٹی صدر کی ہدایت پر ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور خصوصی حیثیت و ریزرویشن کے مسائل کو بہت دیر سے اٹھایا۔
ان کے سیاسی موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ روح اللہ ۲۰۱۰ میں وزیر رہے اور ۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پر انتخاب لڑا، تاہم اس وقت انہوں نے وہ مسائل نہیں اٹھائے جنہیں اب اجاگر کیا جا رہا ہے۔
پارٹی نے خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں روح اللہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا انہوں نے اپوزیشن ارکان پارلیمان کو متحد کرنے، یا اس سلسلے میں کوئی قرارداد یا بل پیش کرنے کی کوشش کی؟
این سی نے نشاندہی کی کہ روح اللہ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر کمار یادو کے خلاف مواخذے کی تحریک کے لیے مختلف جماعتوں کے ۱۰۰ سے زائد ارکان پارلیمان کے دستخط حاصل کیے تھے۔ پارٹی نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے بھی ایسی ہی کوششیں کیں؟
سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے معاملے پر این سی نے کہا کہ اوپن میرٹ زمرے کے امیدواروں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوئی ہے اور یہ مسئلہ پارٹی کے انتخابی منشور کا حصہ رہا ہے۔
پارٹی کے مطابق اس کی حکومت نے انتخابی وعدوں کے مطابق ریزرویشن پالیسی میں تبدیلیوں کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی اور اقدامات شروع کیے، تاہم حکام نے متعلقہ فائل روک دی۔
این سی نے سوال کیا کہ کیا روح اللہ نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا یا کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد میں مبینہ تاخیر کے حوالے سے مرکز سے وضاحت طلب کی؟
پارٹی نے ریزرویشن سے متعلق خدشات، بھرتیوں کے تنازعات اور امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے خلاف احتجاج منظم نہ کرنے کا الزام بھی رکن پارلیمان پر عائد کیا۔
اپنے سیاسی طریقۂ کار کا دفاع کرتے ہوئے این سی نے کہا کہ اس کی حکومت موجودہ انتظامی نظام کی حدود سے واقف ہے اور جموں و کشمیر کی شناخت اور آئینی حقوق سے متعلق مسائل پر اس نے سوچ سمجھ کر حکمت عملی اختیار کی ہے۔
پارٹی نے کہا، ’’ریاستی درجے کی بحالی پر ہماری توجہ خصوصی حیثیت کی قیمت پر نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگی۔‘‘ اس نے مزید کہا کہ خصوصی حیثیت کی بحالی کا معاملہ حکومت کے پہلے ہی ٹرانزیشن آف بزنس میں شامل تھا۔
این سی نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی شناخت اور آئینی حقوق کا تحفظ اس کے سیاسی نظریے کا بنیادی حصہ ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی حکمت عملی درکار ہے، نہ کہ اس کے بقول محض ڈرامائی انداز۔
پارٹی نے کہا، ’’ہم سے جو کچھ چھینا گیا ہے، اسے واپس حاصل کرنے کے لیے سیاسی مہارت درکار ہے، ڈرامے بازی نہیں۔‘‘
این سی نے روح اللہ پر پارٹی رکن رہتے ہوئے اس کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے بڈگام اسمبلی ضمنی انتخاب میں پارٹی کی شکست میں کردار ادا کیا۔
استعفیٰ دینے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ اگر روح اللہ کو سنجیدہ اختلافات تھے تو انہیں ایک سال پہلے ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
پارٹی نے یاد دلایا کہ روح اللہ تقریباً ۲۵ برس تک این سی سے وابستہ رہے، اس دوران وہ تین مرتبہ رکن اسمبلی، وزیر اور بعد ازاں رکن پارلیمان رہے۔
روح اللہ نے پارٹی سے استعفیٰ دینے سے قبل این سی قیادت پر جموں و کشمیر کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد سے دستبردار ہونے اور ۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو ووٹ دینے والے لوگوں کی توقعات سے انحراف کا الزام عائد کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









