جموں؍ ۳ نومبر
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے منگل کو بی جے پی رہنما رام مادھو کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دورے پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کنول کے کھلنے کا بھی ایک موسم ہوتا ہے اور یہ سال بھر نہیں کھلتا۔
بی جے پی رہنما کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جموں و کشمیر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے تحت سرینگر کے رکن پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی نے نیشنل کانفرنس سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر دفعہ ۳۷۰ کی بحالی سمیت اہم انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا ہے۔
رام مادھو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی نائب صدر ہیں اور جموں و کشمیر میں پارٹی امور اور انتخابی حکمت عملی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۵ء میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت تشکیل دینے اور اس کے مشترکہ کم از کم پروگرام کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
جموں و کشمیر میں مبینہ سیاسی سرگرمیوں اور رام مادھو کے دورے سے متعلق سوالات کے جواب میں سریندر چودھری نے کہا، ’’ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کی بات چیت کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی کے انتخابی نشان کنول پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر پھول کے کھلنے کا ایک موسم ہوتا ہے۔
چودھری نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’سردیاں آنے والی ہیں۔ کنول کھلے گا، مرجھائے گا اور چلا جائے گا۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں رام مادھو کے مخصوص پروگرام یا اس بات کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات یا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے آ رہے ہیں۔
چودھری نے کہا، ’’شاید وہ بات چیت کرنے، میڈیا سے ملنے یا آپ لوگوں سے ملاقات کے لیے آ رہے ہوں۔ مجھے معلوم نہیں۔ ہمیں اس طرح کے کسی پروگرام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘
مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مبینہ سیاسی سرگرمیوں سے متعلق سوال پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالات معمول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
آغا روح اللہ، جنہوں نے ۲۰۲۴ء میں نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، نے اپنے حامیوں سے ۸۰ منٹ طویل خطاب کے دوران جموں و کشمیر میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا اشارہ دیا۔
یہ پیش رفت حالیہ کابینہ توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی میں مبینہ اختلافات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









