سرینگر؍۳نومبر
وادی کشمیر میں وازوان کے روایتی پکوانوں کو رنگ بخشنے والا پھول ’موَل‘ ایک بار پھر کشمیری وازوان کی دیگوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے، اور اس کی بڑھتی طلب دیکھ کر وہ کسان بھی اس کی طرف لوٹنے لگے ہیں جو کبھی اسے چھوڑ چکے تھے۔ اس سال اس کی فصل کی کٹائی ہو چکی ہے اور ان دنوں پھولوں کو سکھانے کا کام جاری ہے۔
یہ سرخ پھول، جس کا نباتاتی نام سیلوشیا کرسٹاٹا ہے، شکل و صورت میں بالکل مرغ کی کلغی جیسا ہوتا ہے۔ اس کے پودے کا قد۲۷ سے۸۰سینٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ اسے سکھا کر محفوظ کر لیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر پانی میں بھگو دیا جاتا ہے، جس سے گہرا سرخ رنگ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی رنگ وازوان تیار کرنے والے وازہ، یعنی روایتی کشمیری باورچی یا آشپازے، اپنے پکوانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ رستہ، روگن جوش اور مرچ وانگن قورمہ جیسے پکوانوں کی پہچان بننے والی سرخی کے پیچھے برسوں سے یہی پھول رہا ہے، اور یہ مصنوعی غذائی رنگوں کا ایک قدرتی متبادل فراہم کرتا ہے۔
سری نگر کے مضافاتی علاقے نور باغ کے کاشتکار بشیر احمد پانپوری کا کہنا ہے کہ موَل کی مانگ میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔ انہوں نے ہندوستھان سماچار کو بتایا: ’’موَل کشمیر کے پکوانوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ شہر میں لوگ آج بھی اسی پھول سے حاصل ہونے والے رنگ کو وازوان کے پکوانوں میں استعمال کرتے ہیں۔‘‘
ان کے مطابق اس واپسی کی دو وجوہات ہیں: ’’لوگوں میں صحت کے تئیں حساسیت بڑھ رہی ہے، اور دوسری جانب حکومت نے پکوانوں میں مصنوعی رنگ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسی وجہ سے اس پھول سے حاصل شدہ رنگ استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کی مانگ ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے۔‘‘
بشیر احمد جس پابندی کا ذکر کر رہے ہیں، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ڈرگز اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے گزشتہ برس اگست میں ایک عوامی نوٹس جاری کر کے وازوان، بریانی اور دیگر تیار کھانوں میں مصنوعی رنگوں کے استعمال کو ممنوع قرار دیا اور خلاف ورزی پر تین لاکھ روپے تک جرمانے کی تنبیہ کی۔ رپورٹس کے مطابق، یہ قدم نیشنل فوڈ لیبارٹری، غازی آباد کی تجزیاتی رپورٹوں کے بعد اٹھایا گیا۔ قدرتی رنگوں کی ترغیب البتہ نئی نہیں ہے، کیونکہ۲۰۲۰میں بھی محکمہ فوڈ سیفٹی نے شادیوں کے میزبانوں کو مصنوعی رنگوں سے بچنے کی ہدایت کرتے ہوئے موَل، زعفران، دیگی مرچ اور چقندر جیسے قدرتی رنگوں کی گنجائش بتائی تھی۔
اس رجحان کا دائرہ فی الحال شہر تک محدود ہے۔ بشیر احمد کا کہنا ہے:’’اگرچہ ابھی دیہی علاقوں میں وازوان کے لیے اس پھول کا رنگ استعمال کرنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن شہر میں یہ رجحان کافی حد تک بڑھ گیا ہے، جس سے اس فصل کے برقرار رہنے کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔‘‘
یہ فصل خزاں میں تیار ہوتی ہے۔ کسان پھول توڑ کر انہیں سکھاتے ہیں اور پھر بیوپاریوں کو بیچ دیتے ہیں، جو انہیں پیس کر پیک کرتے ہیں۔ بشیر احمد خود دو کنال اراضی پر یہ فصل اگاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’’پہلے میرے والد یہ فصل اگاتے تھے، پھر بیچ میں یہ سلسلہ منقطع ہو گیا، اور اب میں گزشتہ تین چار برسوں سے دوبارہ اگا رہا ہوں۔ ہم ان پھولوں کو سکھا کر بیوپاریوں کو تین سو روپے فی کلو کے حساب سے بیچتے ہیں۔‘‘
اس فصل کی اصل آزمائش پھولوں کو سکھانا ہے۔ بشیر احمد نے کہا: ’’ان پھولوں کو سکھانا بہت مشکل کام ہے۔ ان کے لیے کافی جگہ ہونی چاہیے اور ان پر براہ راست دھوپ نہیں پڑنی چاہیے، ورنہ یہ خراب ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ان کو بند کمرے میں رکھنا پڑتا ہے۔‘‘
ان کا خیال ہے کہ موَل کا استعمال پکوانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے بقول: ’’یہ پھول صرف پکوانوں میں ہی استعمال نہیں ہو سکتے، بلکہ ان سے کوئی دوا بھی بنائی جا سکتی ہے، کیونکہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے جو اسے دوا کے طور پر استعمال کرنے کے لیے خریدتا ہے۔‘‘ اس ضمن میں یہ بات ملحوظ رہے کہ سیلوشیا کی بعض اقسام پر لیبارٹری میں ہونے والی تحقیق میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا ذکر ملتا ہے، لیکن وازوان میں استعمال ہونے والی معمولی مقدار سے صحت کو کسی ٹھوس فائدے کے بارے میں قابل اعتماد طبی ثبوت فی الحال موجود نہیں ہیں۔ اس لیے موَل کی مسلمہ حیثیت ایک قدرتی رنگ کی ہے۔
بشیر احمد نے وازہ حضرات سے اپیل کی کہ وہ مضر مصنوعی رنگ کے بجائے اسی پھول کے رنگ کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہمارے آشپازوں کو چاہیے کہ وہ اسی رنگ کا استعمال کریں۔ اس کو مصالحہ جات کی فہرست میں رکھیں تاکہ لوگ اس کو بھی خریدیں اور استعمال کریں۔‘‘
اس کی کاشت کو وسعت دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ زمین کی کمی ہے۔ بشیر احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں زمین سکڑ رہی ہے، اس لیے وہاں اسے زیادہ نہیں اگایا جا سکتا۔ ان کے مطابق: ’’دیہی علاقوں میں ابھی کافی زمین ہے، لہٰذا وہاں اس فصل کو اگانے کے رجحان کو پروان چڑھایا جانا چاہیے تاکہ ہمارے پکوان کا یہ روایتی جز زندہ بھی رہ سکے اور لوگوں کی صحت کا بھی خیال رکھا جا سکے۔‘‘
حکومت سے بھی انہیں توقعات ہیں۔ انہوں نے کہا:’’حکومت نے مصنوعی رنگ پر پابندی عائد کر کے بہت اچھا اقدام کیا، لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ان کا مطالبہ ہے کہ اس فصل کو کسانوں کے لیے مزید فائدہ بخش بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
کھیت سے دیگ تک موَل کا سفر دراصل اس روایت کی کہانی ہے جس میں رنگ باہر سے نہیں آتا تھا، مٹی سے آتا تھا۔ جب مصنوعی رنگوں پر پابندی اور صحت کی فکر نے لوگوں کو دوبارہ اپنے ہی کھیتوں کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا، تو سرخ رنگ کی یہ پرانی روایت پھر زندہ ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ شہر کے باورچی خانوں سے اٹھنے والی یہ مانگ دیہات تک کب اور کیسے پہنچتی ہے، کیونکہ فصل کا مستقبل اسی پر منحصر ہے۔
۔۔۔۔۔(ہندوستان سماچار)









