نئی دہلی، 19اگست (یو این آئی) ہندستان کی صدارت میں منعقدہ 12 ویں برکس وزرائے ماحولیات کی میٹنگ میں رکن ممالک نے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کرتے ہوئے علم، تجربات، اہم طریقۂ کار اور جدت طرازی کو مشترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری اطلاع کے مطابق منگل کے روز یہاں منعقدہ برکس ممالک کے وزرائے ماحولیات کی میٹنگ میں پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینے، جنگلاتی آگ کی روک تھام سے متعلق مربوط انتظام ، مربوط لینڈ اسکیپ پر مبنی شجرکاری اور توسیع شدہ پیداواری ذمہ داری (ای پی آر) نیز سرکلر اکانومی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس موقع پر برکس ماحولیاتی ورکنگ گروپ کی جانب سے تیار کردہ ان چاروں شعبوں سے متعلق معلوماتی دستاویزات کا بھی افتتاح کیا گیا۔
پائیدار طرزِ زندگی سے متعلق دستاویز میں ماحولیاتی تعلیم، رویوں میں تبدیلی، کمیونٹی کی شمولیت، پائیدار کھپت و پیداوار، ایکو سسٹم کی بحالی، صاف ستھری توانائی کی منتقلی اور گرین ڈیولپمنٹ سے جڑے رکن ممالک کے کامیاب اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ہندستان کی جانب سے مشن لائف، ماحولیاتی تعلیمی پروگرام اور ‘سمبھو’ مہم کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جنگلاتی آگ کی روک تھام کے بندوبست سے متعلق دستاویز میں کمیونٹی کی قیادت میں روک تھام، مقامی علم، ابتدائی انتباہی نظام ، ٹیکنالوجی، تیاری اور مربوط کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ لینڈ اسکیپ پر مبنی شجرکاری کی دستاویز میں زمین کے کٹاؤ،زمین کےبنجر ہونے ، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے اقدامات کی نشان دہی کی گئی ہے۔
سرکلر اکانومی سے جڑی دستاویز میں کچرے کے انتظام، ڈیجیٹل ویسٹ ایکسچینج پلیٹ فارم، ری سائیکلنگ سرٹیفکیشن اور توسیع شدہ پیداواری ذمہ داری جیسے اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ہندستان کے مارکیٹ پر مبنی توسیع شدہ پیداواری ذمہ داری کے ڈھانچے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی توسیع کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
میٹنگ میں برکس ممالک کے درمیان صلاحیت سازی ، تکنیکی تعاون، مشترکہ تحقیق اور ماحولیاتی نگرانی و تشخیص کے لیے مشترکہ نقطہ نظر تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔










