نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) کانگریس کے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے قومی صدر انل جے ہند نے پیر کے روز مردم شماری کے فارم میں او بی سی طبقے کے لیے الگ زمرہ نہ ہونے پر مرکزی حکومت پر سنگین سوالات اٹھائے۔
مسٹر انل جے ہند نے کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے لیکن مردم شماری فارم میں او بی سی کے لیے الگ زمرے کا ذکر نہ ہونا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی کو آئینی طور پر تسلیم کیا گیا ہے، ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مردم شماری کے فارم سے او بی سی زمرے کو کیوں غائب کیا گیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی نے انتخابات کے دوران خود کو او بی سی طبقے سے جوڑ کر سیاسی فائدہ حاصل کیا اور او بی سی سماج کی بڑی حمایت کی بنیاد پر وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچے۔ آج وہی حکومت او بی سی طبقے کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ مسٹر جے ہند نے الزام لگایا کہ او بی سی کو مردم شماری کے سرکاری ریکارڈ سے الگ رکھنا ایک بڑی سازش ہے اور حکومت منووادی طاقتوں کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ جب ملک میں مردم شماری ہو رہی ہے تو جدید اور سائنسی طریقوں سے ذات پر مبنی مردم شماری کیوں نہیں کرائی جا رہی ہے۔









