ماں بیٹے کو گرفتار کر لیا‘مالی تنازعہ پر قتل کرکے لاش نہر میں پھینک دی
ایجنسیاں
سرینگر؍ یکم اگست
سرینگر پولیس نے ہفتہ کے روز ایک قتل کی واردات کو لاش برآمد ہونے کے محض چھ گھنٹوں کے اندر حل کرتے ہوئے اس جرم میں ملوث ماں اور بیٹے کو ضلع کپواڑہ سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق۳۰ جولائی۲۰۲۶ کو پولیس اسٹیشن خانیار کو اطلاع ملی کہ بابا ڈیمب نہر میں بابا داؤد خاکی پل کے نیچے بوریوں میں لپٹی ایک نامعلوم لاش پڑی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات۱۰۳؍اور۲۳۸کے تحت ایک ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی۔
ترجمان نے بتایا کہ جرم کی سنگینی کے پیش نظر سینئر افسران کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔
تحقیقات کے دوران دستیاب شواہد اور دیگر ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت حلیمہ بانو اور اس کے بیٹے مومن احمد کے طور پر ہوئی، جو اصل میں ضلع کپواڑہ کے مژھل علاقے کے رہائشی ہیں اور سرینگر کے مغل محلہ، رعناواری میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔
پولیس کے مطابق واردات انجام دینے کے بعد دونوں ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے سرینگر سے فرار ہوگئے تھے، تاہم سرینگر پولیس نے تمام دستیاب سراغوں کا باریک بینی سے تعاقب کرتے ہوئے لاش برآمد ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر انہیں لولاب، کپواڑہ سے گرفتار کر لیا۔
تحقیقات کے دوران مقتول کی شناخت نذیر احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکن کلانت پورہ، حول کے طور پر ہوئی۔
پولیس کے مطابق تفتیش سے معلوم ہوا کہ مقتول کو مالی تنازعے کے باعث ملزمان کے کرائے کے مکان میں قتل کیا گیا، جس کے بعد جرم کو چھپانے اور شواہد مٹانے کی نیت سے اس کی لاش بوریوں میں بند کر کے بابا ڈیمب نہر میں پھینک دی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران جرم سے متعلق کئی اہم ثبوت اور قابلِ اعتراض اشیا بھی برآمد کی گئی ہیں، جبکہ اس بات کی بھی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا اس قتل میں کسی اور شخص کا بھی کردار تھا یا نہیں۔ قانونی تقاضے بھی قانون کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ لاش کی برآمدگی کے صرف چھ گھنٹوں کے اندر اس اندھے قتل کی واردات کو حل کرنا سرینگر پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت، فرض شناسی اور مربوط کارروائی کا مظہر ہے، جس کے نتیجے میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔










