زانسکار؍۱۵ستمبر
لداخ میں تازہ احتجاج کی تیاری کرنے والے گروپوں پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے منگل کو کہا کہ ’’کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ اور انہیں مرکز کے زیرِ انتظام خطے کی ترقی سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے۔
۱۱ویں لداخ زانسکار فیسٹیول۲۰۲۶کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کی اپنی جگہ ہے، لیکن ترقی ایک الگ معاملہ ہے اور کسی کو بھی لداخ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
ماحولیاتی کارکن اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) کے رکن سونم وانگچک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مرکز نے ان کے اہم مطالبات پر ایک ہفتے کے اندر واضح یقین دہانی نہیں کرائی تو۱۹ستمبر سے لداخ میں ایک بار پھر احتجاج شروع کیا جائے گا۔
یہ انتباہ۹ ستمبر کو لیہ ایپکس باڈی، کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) اور وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے فوراً بعد سامنے آیا۔ دونوں تنظیموں نے اس ملاقات کو ’’بے نتیجہ‘‘ قرار دیا تھا۔
ایل اے بی اور کے ڈی اے نے گزشتہ ہفتے لداخ میں۱۹ سے۲۴ستمبر تک پیدل مارچ کا اعلان کیا تھا۔ وانگچک نے کہا تھا کہ حکومت نے دونوں گروپوں کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ سمجھوتہ مطالبات کی فہرست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ ان مطالبات میں ایسا انتظام بھی شامل ہے جس میں منتخب اسمبلی کو بیوروکریسی سے بالاتر اختیار حاصل ہو اور امن و قانون پر اس کا کنٹرول ہو۔
کسی کا نام لیے بغیر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں لداخ کی ترقی سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ لداخ کے عوام دیکھیں کہ اگست۲۰۱۹ میں لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام خطہ بننے کے بعد یہاں کتنی ترقی ہوئی ہے۔‘‘
سکسینہ نے لداخ میں سڑکوں کے نیٹ ورک میں ہونے والی نمایاں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے زیرِ انتظام خطہ بننے کے وقت یہاں تقریباً۱۷۰۰کلومیٹر سڑکیں تھیں، جو اب بڑھ کر تقریباً۴۴۰۰کلومیٹر ہو گئی ہیں۔انہوں نے سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ خطے میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے نتیجے میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ لداخ کے لوگ بہت سادہ اور اچھے دل کے ہیں۔ اگر کوئی انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔ سیاسی مسائل کی اپنی جگہ ہے، لیکن ترقی بالکل الگ معاملہ ہے اور کسی کو بھی اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔‘‘
دو روزہ۱۱ ویں زانسکار فیسٹیول کا آغاز منگل کی صبح ہوا، جس میں زانسکار کے بھرپور ثقافتی ورثے، روایتی موسیقی، رقص، فنون اور مقامی روایات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر فنکاروں، ثقافتی گروپوں، مقامی باشندوں اور سیاحوں نے شرکت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فیسٹیول کے شرکا سے ملاقات کی اور زانسر کے منفرد ثقافتی ورثے اور روایات کے تحفظ اور فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا، ’’ضلع کا درجہ حاصل کرنے کے بعد یہ خطے میں سیاحت کی پہلی بڑی سرگرمی ہے اور ہمارے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ ہے، کیونکہ ہم اس کے بھرپور ثقافتی ورثے، منفرد شناخت اور سیاحت کے بے پناہ امکانات کا جشن منا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کو اب لداخ کے سرکاری سیاحتی کیلنڈر میں شامل کر لیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی سیاحوں کی آمد اور بہتر سڑک رابطے کے ساتھ نوجوانوں، کاروباری افراد، دستکاروں اور مقامی کاروباروں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
سکسینہ نے مقامی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زانسر کے قدیم اور بھرپور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھیں اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا، ’’ہم ایک متحرک، خوشحال اور پائیدار زانسر کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘
فیسٹیول میں شرکت کرنے والے لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات لداخ میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں زانسر فیسٹیول ملک اور دنیا بھر میں اس قدر معروف تقریب بن جائے گا کہ ہر سیاح اس میں شرکت کے لیے زانسر آنا چاہے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’زانسر ایک انتہائی خوبصورت وادی اور واقعی شاندار مقام ہے۔ اس کے مناظر، پہاڑ، جھیلیں اور یہاں کی ہر چیز بے حد خوبصورت ہے۔‘‘تاہم، انہوں نے کہا کہ شاید ابھی تک زانسر کو وہ شہرت اور توجہ حاصل نہیں ہو سکی جس کا وہ مستحق ہے۔
سکسینہ نے کہا، ’’ہماری کوشش ہوگی کہ زانسر کو ایک ایسی سیاحتی منزل کے طور پر ترقی دی جائے جہاں ہر مسافر جانا چاہے۔‘‘










