سرینگر؍۱۵ستمبر
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی جانب سے منگل کو جاری تفصیلی رہنما اصولوں کے مطابق تاجروں کو۲۰۰۰سے زیادہ کی رقم کی جانے والی یو پی آئی ادائیگیوں پر۰ء۴ فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) ادا کرنا ہوگا۔
یہ فیصلہ مرکز کی جانب سے۱۴ستمبر کو جاری کیے گئے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت۲۰۰۰ تک کی یو پی آئی ادائیگیوں پر ایم ڈی آر ختم کر دیا گیا تھا۔
نئے قواعد صرف شخص سے تاجر(پی ٹو ایم) کو کی جانے والی ۲۰۰۰سے زیادہ کی ادائیگیوں پر لاگو ہوں گے۔ اس کے برعکس شخص سے شخص(پی ٹو پی) یو پی آئی لین دین، رقم چاہے کتنی بھی ہو، مکمل طور پر مفت رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق۷۵ہزار یا اس سے زیادہ کے لین دین پر ایم ڈی آر فی لین دین زیادہ سے زیادہ۳۰۰تک محدود ہوگا۔
۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر سے حاصل ہونے والی رقم بینکوں، ادائیگی کی ایپس اور ادائیگی کے نظام سے وابستہ دیگر شراکت داروں کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ایک معمولی فیس ہے جو ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے پر تاجر بینک یا ادائیگی کمپنی کو ادا کرتا ہے۔ جب کوئی صارف ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے دکاندار کو رقم دیتا ہے تو ادائیگی فراہم کرنے والا ادارہ لین دین کی پروسیسنگ کے عوض تاجر سے معمولی فیس وصول کرتا ہے۔
عام طور پر یہ فیس تاجر ادا کرتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں، خصوصاً زیادہ مالیت کے کارڈ لین دین میں، تاجر یہ اضافی لاگت صارف سے بھی وصول کرتے ہیں۔ یو پی آئی کو۲۰۲۰سے ایم ڈی آر سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا تاکہ نقد لین دین کی حوصلہ شکنی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اب حکومت نے۲۰۰۰سے زیادہ کے شخص سے تاجر لین دین پر ’’معمولی‘‘۰ء۴فیصد ایم ڈی آر عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریلوے، ٹیلی مواصلات، بیمہ اور ایندھن جیسے ضروری شعبوں میں۲۰۰۰ سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر فی لین دین۵ کی مقررہ ایم ڈی آر ہوگی۔میوچل فنڈز، سیکیورٹیز، اسٹاک بروکرز اور ڈیلرز سے متعلق ادائیگیوں پر نسبتاً کم۰ء۰۲ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد۳۰۰فی لین دین مقرر کی گئی ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک اہم رعایت برقرار رکھی گئی ہے۔ پرسن ٹو پرسن مرچنٹ(پی ٹو پی ایم زمرے میں یو پی آئی کیو آر کوڈ کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ تک کے لین دین پر ایم ڈی آر صفر رہے گا۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر رسمی طور پر کام کرنے والے چھوٹے دکانداروں کو باقاعدہ تجارتی ادائیگی کے نظام سے جوڑنا اور غیر منظم شعبے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا ہے۔
نئے نظام میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں کہ صارفین سے یو پی آئی استعمال کرنے کے عوض اضافی رقم وصول نہ کی جائے۔کوئی پلیٹ فارم فیس نہیں: یو پی آئی ایپس صارفین سے کسی قسم کی پلیٹ فارم فیس یا پوشیدہ چارج وصول نہیں کر سکیں گی۔
تاجر صارف سے ایم ڈی آر وصول نہیں کر سکیں گے: بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تاجر ایم ڈی آر کی رقم صارف سے بل میں اضافی رقم شامل کرکے وصول نہ کریں۔
یو پی آئی لین دین مفت رہے گا: عام افراد کے لیے یو پی آئی لین دین پر کوئی ماہانہ یا فی لین دین تعداد کی حد کے بعد فیس عائد نہیں ہوگی۔
روزانہ کی حد فیس نہیں ہے: مختلف زمروں کے لیے ایک لاکھ سے۵لاکھ تک مقررہ روزانہ لین دین کی حدیں صرف سکیورٹی اور خطرات کے انتظام کے لیے ہیں۔ ان حدود تک پہنچنے کے بعد صارف سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
مرکز کے مطابق اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی ایم ڈی آر شرح سے تاجروں کے صرف تقریباً۴ فیصد لین دین متاثر ہوں گے، کیونکہ زیادہ تر یو پی آئی ادائیگیاں۲۰۰۰ کی حد سے کم ہوتی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس انتظام سے چھوٹے اور انتہائی کم پیمانے پر کاروبار کرنے والے تاجروں کو اضافی مالی بوجھ سے بڑی حد تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔
۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈسیک)










