بدھ, ستمبر 16, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’بھاجپا کو اسمبلی اجلاس کی مدت پر سوال اٹھانے کا حق نہیں ‘

اس کے زیر اقتدار ریاستوں میں قانون سازیہ کے اس سے بھی زیادہ مختصر مدت کے اجلاس منعقد ہو تے ہیں :وزیرا علیٰ 

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-16
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

  یہ وہ لوگ ہیں جو پارلیمنٹ میں بھی نظر نہیں آتے‘انہیں بمشکل ہی پارلیمنٹ میں دیکھتے ہیں‘ہماری سنجیدگی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا‘

سرینگر؍۱۵ستمبر

                جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ(بھاجپا کو آئندہ اسمبلی اجلاس کی مدت پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ اس کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں اس سے بھی مختصر اسمبلی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔

                عمر عبداللہ بی جے پی کے رکن اسمبلی اور قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے اس الزام پر ردعمل ظاہر کر رہے تھے کہ حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ اسمبلی اجلاس کو مختصر رکھا ہے۔

متعلقہ

₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا

’مختصر‘ اسمبلی اجلاس پر بی جے پی کی این سی حکومت پر تنقید

                وزیرا علیٰ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ سات روزہ اجلاس ہے۔ اس میں غیر سنجیدگی کی کیا بات ہے؟ غیر سنجیدہ رویہ تو اس وقت ہوتا جب ہم بی جے پی کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے، جو اپنی حکومت والی ریاستوں میں ایک یا دو روز کے اسمبلی اجلاس منعقد کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پارلیمنٹ میں بھی نظر نہیں آتے، آپ انہیں بمشکل ہی پارلیمنٹ میں دیکھتے ہیں۔‘‘

                جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں اجلاس۲۱ سے۳۰ ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہونا ہے۔ شیڈول میں تین دن اجلاس نہیں ہوگا۔۲۳ ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ‘۲۶ ستمبر کو تعطیل اور۲۷ستمبر کو اتوار ہونے کے باعث عملاً اجلاس سات روز تک محدود رہ جائے گا۔

                وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ جہاں تک غیر سنجیدہ رویے کا تعلق ہے، حکومت صبح سے شام تک اسمبلی میں موجود رہتی ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ارکان ایوان میں موجود نہ ہوں۔انہوں نے کہا، ’’دوسرے لوگ جو چاہیں الزامات لگاتے رہیں، لیکن بی جے پی کو اس طرح کے الزامات عائد کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں اسمبلی اجلاس اس سے بھی مختصر ہوتے ہیں۔‘‘

                عمر عبداللہ نے مزید کہا، ’’پارلیمنٹ کو دیکھیں اور یہ دیکھیں کہ وہاں کون کتنی دیر بیٹھتا ہے، پھر آکر مجھے بتائیں کہ کون معاملات کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور کون نہیں۔‘‘

                بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے روزانہ بیانات جاری کیے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ہر بیان کا روزانہ جواب دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا، ’’وہ روزانہ بیانات جاری کرتے ہیں۔ آپ مجھ سے ہر بیان کا جواب دینے کی توقع نہ رکھیں۔ آج آپ نے اس کا ذکر کیا ہے، ٹھیک ہے؛ میں ان کے اگلے بیان پر ایک ماہ بعد ردعمل دوں گا۔ میں روزانہ نہیں بلکہ مہینے میں ایک بیان کا جواب دوں گا۔‘‘

                جموں و کشمیر میں سیاسی استحکام کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ وہ روزانہ اپنے ارکان اسمبلی کی گنتی نہیں کرتے اور انہیں اپنے ارکان کے ساتھ چھوڑ جانے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’کیا مجھے اس بات کی فکر ہے کہ میرے کچھ ارکان اسمبلی میرا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ مجھے اپنے لوگوں پر مکمل اعتماد ہے۔‘‘

                ایسی قیاس آرائیوں کو ہوا دینے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک یا دو افراد ہیں جو گپکار روڈ پر ایجنسیوں کے دفاتر سے اپنے لفافے وصول کرتے ہیں۔

                وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے قیام کے فوراً بعد یہی افراد جموں میں ان کے دفتر آئے تھے اور کسی جگہ ایڈجسٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کا نام صرف احترام کی وجہ سے اس وقت ظاہر نہیں کیا، تاہم دفتر کے ملاقاتی ریکارڈ سے ان کے نام معلوم کیے جا سکتے ہیں۔

                عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ ان افراد کو ان کی حکومت نے ملازمت نہیں دی، اس لیے انہوں نے حکومت کے خلاف لکھنا شروع کر دیا ہے۔انہوں نے ایک مبصر کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ اسے سرکاری رہائش نہ ملنے کے بعد وہ سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اگر میں نے اسے جواہر نگر میں ایک فلیٹ دے دیا ہوتا تو کیا وہ اس طرح لکھنے کی جرأت کرتا؟ یہ سراسر ذاتی مفاد ہے اور ذاتی مفاد مجھے پریشان نہیں کرتا۔‘‘

                بھرتیوں کے بارے میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خالی اسامیوں کو مرحلہ وار پُر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے تو بھرتی کا عمل تیز کر سکتی ہے، لیکن ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ عجلت میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ اچھے نتائج نہیں دیتے اور بعد میں شکایات کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔

                عمر عبداللہ نے کہا، ’’اسی لیے میں نے بھرتی کرنے والے اداروں کو ہدایت دی ہے کہ اگر اس عمل میں ایک دو ماہ اضافی بھی لگ جائیں تو شفافیت برقرار رکھی جائے اور مناسب طریقۂ کار پر عمل کیا جائے، تاکہ کل کسی کو بھرتی کے عمل کے بارے میں شکایت نہ ہو۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بھرتی کا عمل فعال طور پر جاری ہے اور مختلف محکموں میں جہاں ضرورت ہے وہاں اسامیوں کو پُر کیا جا رہا ہے۔

                اس سے پہلے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے پاس یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل منظور کرانے کے لیے پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد ہے تو اسے انفرادی ریاستوں کے ذریعے نافذ کرنے کے بجائے بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے۔

                عمر عبداللہ نے یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ کے پاس تعداد ہے تو اسے پارلیمنٹ میں لائیں۔ آپ اسے مختلف ریاستوں کے ذریعے کیوں لا رہے ہیں؟ ویسے بھی ان کے اپنے این ڈی اے میں ہر کوئی اس سے متفق نہیں ہے۔ خبروں کے مطابق جنتا دل (یونائیٹڈ) نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے بہار میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔‘‘

                عمرعبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کو یو سی سی کو ’’پچھلے دروازے سے‘‘ نافذ نہیں کرنا چاہیے۔

                وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’جس طرح ان کے اپنے اتحادی بھی اس کے حق میں نہیں ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ وہ اسے پارلیمنٹ میں منظور کرا پائیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ یہ راستہ اختیار کر رہے ہیں۔‘‘

                عمرعبداللہ نے کہا کہ اگر یو سی سی صرف ان ریاستوں میں نافذ کیا جاتا ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے تو یہ ’’یکساں‘‘ نہیں ہوگا، کیونکہ ملک کی تمام ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’پورا ملک بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست نہیں ہے۔ کئی ریاستیں اور علاقے ایسے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ لہٰذا اگر آپ اسے صرف بی جے پی کی ریاستوں میں نافذ کرتے ہیں تو یہ کوئی یکساں قانون نہیں ہے۔ اور اس نوعیت کا معاملہ انفرادی ریاستوں کے ذریعے طے نہیں ہونا چاہیے؛ اس کا فیصلہ پورے ملک کی سطح پر ہونا چاہیے۔ پورے ملک کی نمائندگی ریاستوں میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔‘‘

                عمرعبداللہ نے کہا کہ بی جے پی نے ان بعض اہم قوانین کو بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جن کے بارے میں وہ ’’بڑے پیمانے پر تشہیر‘‘ کرتی رہی ہے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اب تک وہ جن قوانین کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں، چاہے وہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ ہو یا ریزرویشن کا معاملہ، انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ اب اس معاملے میں بھی وہ اسے ریاستوں کے ذریعے لانے کی بات کر رہے ہیں۔‘‘

                لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر کشیدگی میں کمی کے بارے میں عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ایل او سی یا ایل اے سی پر کشیدگی کم کرنے والا کوئی بھی قدم اچھا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ان علاقوں کے قریب رہتے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ ایل او سی یا ایل اے سی کے قریب رہنے والے لوگوں کے لیے حالات کتنے مشکل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھی حالات بہتر ہوں گے۔‘‘

                چین کی جانب سے بھارت کی خارجہ پالیسی کی تعریف کیے جانے کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی ہمیشہ آزاد رہی ہے اور اسے دوسرے ممالک سے کسی توثیق یا سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہماری خارجہ پالیسی ہماری اپنی ہے۔ ہم دوسرے ممالک کے سرٹیفکیٹ کیوں تلاش کریں؟ اس طرح کی بات میں خطرہ یہ ہے کہ اگر کل چین ہماری خارجہ پالیسی کے خلاف کچھ کہہ دے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ لہٰذا میرے خیال میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں دوسرے ممالک کے مثبت یا منفی بیانات کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ ہم اپنی پسند کے مطابق ایک بات قبول اور دوسری مسترد نہیں کر سکتے۔‘‘

                انہوں نے مزید کہا، ’’کل اگر وہ مخالفت کریں گے تو ہم کہیں گے کہ ہماری پالیسی میں مداخلت نہ کریں۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برکس سربراہی اجلاس میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت بھارت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’یہ حقیقت کہ پہلگام کی خود مذمت کی گئی، ایک بڑی بات ہے۔ ذرا دیکھیں کہ اس اجلاس میں پاکستان کے کتنے اتحادی موجود تھے۔ اس لیے پہلگام کا نام لے کر اس کی مذمت کیا جانا بذاتِ خود ہماری خارجہ پالیسی کی ایک کامیابی ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا
اہم ترین

₹۲ہزار روپےسے زیادہ کے تاجر کو کیے گئے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگا

2026-09-16
’اسپیکر کے اقدامات کو   درست ثابت کرنے کیلئے   این سی جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے‘
اہم ترین

’مختصر‘ اسمبلی اجلاس پر بی جے پی کی این سی حکومت پر تنقید

2026-09-16
لداخ کے تمام۷ ؍ اضلاع میں خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی منظوری
اہم ترین

’لداخ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے‘

2026-09-16
پاکستان نے جیش کے سربراہ   مسعود اظہر پر انعامی رقم بڑھا دی
اہم ترین

مسعود اظہر پر انعام:محض ڈرامہ اور جعلی اعلان:بھارت

2026-09-16
مشتبہ نقل و حرکت:بالاکوٹ سیکٹر میں فوجی آپریشن کا آغاز
اہم ترین

وائٹ نائٹ کور کمانڈر کا پونچھ میں سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی  کارروائیوں کا جائزہ

2026-09-16
انہدامی مہم:’غریبوں کے ساتھ نہیں چھیڑا جائیگا‘
اہم ترین

چار مستفید افراد کیخلاف مبینہ غیر  قانونی کھڈ اراضی منتقلی پر مقدمہ درج

2026-09-16
پاکستان کو بلااشتعال فائرنگ کا انتباہ
اہم ترین

کولگام میں اقلیتوں کی سلامتی اور  انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا جائزہ

2026-09-16
جموں کشمیر میںجنوب مغربی مانسون کی آمد‘ شدید بارش کی وارننگ
اہم ترین

وادی میں۱۸سے۱۸ستمبر تک بارش‘ برفباری اور گرج چمک کا امکان

2026-09-16

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.