جموں؍۱۵ ستمبر
جموں و کشمیر بی جے پی نے آئندہ اسمبلی اجلاس کی مختصر مدت پر نیشنل کانفرنس کی زیرقیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانے اور ان پر بحث کے لیے اسمبلی اجلاس کم از کم ایک ماہ تک جاری رہنا چاہیے۔
قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو منتخب حکومت سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور اسمبلی وہ بنیادی پلیٹ فارم ہے جہاں عوام کے مسائل منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کے سامنے اٹھائے جا سکتے ہیں۔
پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا، ’’بدقسمتی سے جموں و کشمیر حکومت اپنی قانون ساز جواب دہی تقریباً مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ اسمبلی کو عملاً ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر اسمبلی کا۱۰ روزہ خزاں اجلاس۲۱ ستمبر سے سری نگر میں شروع ہونے والا ہے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری عارضی کیلنڈر کے مطابق اجلاس۳۰ ستمبر تک جاری رہے گا۔ مختلف ایام میں حکومتی امور، نجی ارکان کے بل اور قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
شیڈول کے مطابق۲۳ ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ‘۲۶ ستمبر کو تعطیل اور۲۷ ستمبر کو اتوار ہونے کے باعث اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔ تاہم، ایوان کے سامنے پیش کیے جانے والے امور کے مطابق کیلنڈر میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
شرما نے اسمبلی اجلاس کو صرف سات نشستوں تک محدود رکھنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح ارکان اسمبلی کو عوامی مسائل اٹھانے کے لیے مؤثر طور پر صرف چند نشستیں ہی دستیاب رہ جائیں گی۔انہوں نے کہا، ’’اجلاس کو عملاً صرف پانچ بامعنی نشستوں تک محدود کرکے حکومت نے جموں و کشمیر کے عوام اور ان کی توقعات کا مذاق اڑایا ہے۔‘‘
بی جے پی رہنما نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کی کرسی سے غیر جانب دار رہنے اور ایوان کی کارروائی کو مناسب طریقے سے چلانے کی توقع کی جاتی ہے۔
شرما نے اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کو تقریباً۳۰ دن تک بڑھائیں، کیونکہ منتخب نمائندوں کے پاس عوامی مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی ہی واحد باقاعدہ ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔
قائد حزب اختلاف نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کے کام کاج پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد اسمبلی اجلاس کے دوران زیرِ بحث لائے جانے والے امور پر غور کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’عام طور پر اسمبلی اجلاس سے قبل ایک کُل جماعتی بزنس ایڈوائزری کمیٹی ہوتی ہے، جو یہ طے کرتی ہے کہ ایوان میں کن امور پر بحث کی جائے گی۔‘‘
شرما نے۱۷ ستمبر کو اسپیکر کی جانب سے بلائی گئی کُل جماعتی میٹنگ پر بھی سوال اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ اسمبلی کی تاریخیں، کیلنڈر اور ایوان کا کاروبار پہلے ہی طے کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا’۱۷ ستمبر کو دوپہر دو بجے صرف۱۰ منٹ کے لیے میٹنگ بلانا، محض چائے پینے اور ایک رسمی کارروائی مکمل کرنے کی کوشش ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘
قانون ساز طریقۂ کار کے بارے میں اسپیکر کی سمجھ پر سوال اٹھاتے ہوئے، شرما نے کہا کہ عبدالرحیم راتھر ایوان کے طویل عرصے تک رکن رہنے کے باوجود اسمبلی کے مناسب طریقۂ کار سے واقف کیوں نہیں ہیں۔انہوں نے سوال کیا، ’’کیا وہ اسمبلی کے مناسب طریقے سے کام کرنے کو نہیں سمجھتے؟ کیا وہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے وقار اور اہمیت کو نہیں سمجھتے؟‘‘
بی جے پی رہنما نے حکومت پر زمینی سطح پر معمول کی حکمرانی نظر نہ آنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ وزرا کی جانب سے عوام سے رابطہ بھی ناکافی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا، ’’گزشتہ دو برس سے زمینی سطح پر معمول کی حکمرانی جیسی کوئی چیز تقریباً نظر نہیں آ رہی ہے۔ وزرا کی جانب سے عوامی رابطے کا بھی فقدان ہے۔‘‘
شرما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ افسران سے لے کر وزرا تک بدعنوانی عام ہے، جس کی وجہ سے لوگ سرکاری دفاتر کا رخ کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسمبلی اجلاس کو صرف سات نشستوں تک محدود کرنا اس کی ’’ناکامی، تکبر اور انا‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
قائد حزب اختلاف نے بتایا کہ بی جے پی قانون ساز پارٹی نے حال ہی میں ضلعی ہیڈکوارٹروں پر عوامی رابطہ پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ لوگوں کے مسائل کو براہِ راست سمجھا جا سکے۔انہوں نے کہا، ’’اس مہم کے تحت ہم نے جموں خطے کے تقریباً ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں عوام سے ملاقات کی، جہاں لوگوں نے ایسے مسائل ہمارے سامنے رکھے جنہیں ہم اسمبلی میں اٹھانا چاہتے ہیں۔‘‘
شرما کے مطابق منگل کی صبح ایک طویل اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں عوامی رابطہ مہم کے دوران سامنے آنے والے مسائل پر غور کرکے انہیں مرتب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں ان لوگوں کے مسائل کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا جو ’’مصیبت زدہ، محروم، استحصال کا شکار اور متاثرہ‘‘ ہیں۔
۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں)










