سرینگر؍۲۹ جولائی
جموں و کشمیر کی اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر نے۵؍ اگست۲۰۱۹ کو جو حقوق کھوئے ہیں، انہیں احتجاجی مظاہروں یا تصادم کے ذریعے واپس نہیں پایا جا سکتا۔ انہیں صرف بات چیت، مشاورت اور ایک واضح روڈ میپ کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
بخاری نے یہ بھی کہا کہ اپنی پارٹی ریاست کا درجہ، آرٹیکل۳۷۰؍ اور۳۵؍اے کی بحالی، قیدیوں کی رہائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی مفاد کے دیگر مسائل اٹھانے والی کسی بھی جماعت کی حمایت کرے گی۔
اپنی پارٹی کے صدر نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’۵؍ اگست جموں و کشمیر کے لیے ایک سیاہ دن ہے اور جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہو جاتے، یہ سیاہ دن ہی رہے گا۔ تاہم، ان حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کے بجائے بات چیت، مشاورت اور ایک واضح فریم ورک کا راستہ اپنایا جانا چاہیے‘‘۔
بخاری نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اور شکایات کا ازالہ کرنے اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍اے کی منسوخی کے آٹھ ماہ بعد، مارچ۲۰۲۰ میں سابق اراکینِ اسمبلی اور سابق وزراء کی جانب سے اپنی پارٹی تشکیل دی گئی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات کے دوران جموں کے خطے میں مذہب کے نام پر ہندو ووٹروں کو متحد کیا تھا۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا’’اب ایسا لگتا ہے کہ جموں کی اکثریتی ہندو برادری کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی سیاست جموں و کشمیر کے وسیع تر مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘










