ایجنسیاں
سرینگر؍۲۹جولائی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز سرینگر،جموں قومی شاہراہ پر بار بار آنے والی رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ باغبانی کی پیداوار کو بغیر کسی تاخیر کے ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ایک بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ اور خراب موسمی حالات کے باعث قومی شاہراہ پر بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹیں کشمیر کے باغبانوں کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن رہی ہیں کیونکہ اس سے باغبانی کی پیداوار کو بروقت ملک کی مختلف منڈیوں تک بھیجنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔
محبوبہ نے کہا’’موجودہ صورتِ حال غیر معمولی انتظامی ردِعمل کی متقاضی ہے۔ سیب اور دیگر تازہ پھل کئی دنوں تک رکے نہیں رہ سکتے کیونکہ اس سے نہ صرف ان کا معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ مارکیٹ میں ان کی مسابقت اور باغبانوں کی آمدنی بھی کم ہو جاتی ہے‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ قدرتی آفات کے بوجھ کو جموں و کشمیر کے ایک نہایت اہم اقتصادی شعبے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ حکمتِ عملی نہ ہونے کی وجہ سے مزید نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔
محبوبہ نے کہا کہ ہر سال فصل کی کٹائی کا موسم باغبانوں کے لیے صبر، سرمایہ کاری اور امید کی علامت ہوتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا’’آج بے شمار باغبان اضطراب کے عالم میں یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے پھلوں سے لدے ٹرک شاہراہ متاثر ہونے کی وجہ سے کئی دنوں سے رکے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ محض ٹریفک مینجمنٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی ہنگامی صورتِ حال ہے‘‘۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ باغبانی کی پیداوار مزید تاخیر کے بغیر منڈیوں تک پہنچ سکے اور تمام محفوظ متبادل راستوں، بشمول مغل روڈ، کو مناسب تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے فعال طور پر استعمال میں لایا جائے۔
محبوبہ نے کہا کہ کشمیر کی فروٹ انڈسٹری لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، جن میں باغ مالکان، مزدور، ٹرانسپورٹر، کمیشن ایجنٹ اور پیکنگ سے وابستہ کارکن شامل ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سپلائی چین میں کسی بھی طویل تعطل کے باعث دیہی معیشت کو شدید مالی نقصان پہنچتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پھلوں کی فروخت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
پی ڈی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باغبانی کی پیداوار کی بروقت نکاسی کے لیے ایک مخصوص آپریشنل فریم ورک تشکیل دیا جائے، جس میں ٹریفک پولیس، سول انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ حکام کو شامل کیا جائے تاکہ خراب ہونے والی پھلوں کی کھیپ لے جانے والی تجارتی گاڑیوں کو، جب بھی سڑک کی صورتحال اجازت دے، منصوبہ بند اور بلا رکاوٹ آمدورفت کی سہولت فراہم کی جا سکے۔










