ایجنسیاں
سرینگر؍۲۹ جولائی
جموںکشمیر حکومت نے عمارتوں کی تعمیر کی اجازت (بلڈنگ پرمیشن) کے عمل میں یکسانیت اور شفافیت یقینی بنانے کی غرض سے پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لیے یکساں بلڈنگ پرمیشن فیس ڈھانچہ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت تمام میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کونسلیں، میونسپل کمیٹیاں اور ترقیاتی ادارے ایک ہی پالیسی فریم ورک کے تحت آئیں گے۔
ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک حکم نامے کے مطابق نظرثانی شدہ فیس ڈھانچہ جموں و کشمیر بھر میں یکساں طور پر نافذ ہوگا اور۲۹ جولائی۲۰۲۶ سے اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق رہائشی مکانات اور رہائشی کالونیوں کیلئےبلڈنگ پرمیشن فیس۸۰ روپے فی مربع میٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ تجارتی اور ادارہ جاتی عمارتوں، جن میں دکانیں، دفاتر، صنعتی یونٹ، اسپتال، اسکول اور دیگر عوامی ادارے شامل ہیں، کیلئے۲۷۰روپے فی مربع میٹر فیس وصول کی جائے گی۔
رہائشی اور تجارتی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی مخلوط نوعیت کی عمارتوں (مکسڈ یوز بلڈنگز) کے لیے حکومت نے۱۵۰ روپے فی مربع میٹر فیس مقرر کی ہے۔ تاہم مذہبی ڈھانچوں کو بلڈنگ پرمیشن فیس کی ادائیگی سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
حکومت نے ملبہ اور تعمیراتی فضلہ (کنسٹرکشن ویسٹ) کے انتظام کے لیے بھی یکساں فیس متعارف کرائی ہے۔ نئے ضوابط کے تحت رہائشی منصوبوں کے لیے۳ ہزار روپے جبکہ تجارتی، ادارہ جاتی اور دیگر غیر رہائشی عمارتوں کے لیے۱۰ ہزار روپے ویسٹ مینجمنٹ چارجز کی مد میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر کی جانے والی کسی بھی تعمیر پر، متعلقہ قوانین کے تحت قابلِ قبول معاملات میں، مقررہ بلڈنگ پرمیشن فیس کے علاوہ۴۰ فیصد کمپاؤنڈنگ فیس بھی عائد کی جائے گی۔
حکام کے مطابق فیس کا تعین مجوزہ تعمیر کے کل منظور شدہ تعمیر شدہ رقبے (بلٹ اَپ ایریا) کی بنیاد پر کیا جائے گا اور اس کی وصولی صرف آن لائن بلڈنگ پرمیشن سسٹم (او بی پی ایس) کے ذریعے ہوگی تاکہ شفافیت اور قواعد پر عمل درآمد کو آسان بنایا جا سکے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی بھی شہری بلدیاتی ادارہ یا ترقیاتی اتھارٹی اس نوٹیفائیڈ فیس ڈھانچے میں کسی قسم کی ترمیم یا تبدیلی نہیں کر سکے گی۔
حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد مختلف شہری علاقوں میں فیس کے موجودہ تفاوت کا خاتمہ، بلڈنگ منظوری کے عمل کو مزید منظم بنانا اور پورے جموں و کشمیر میں ایک شفاف، یکساں اور عوام دوست ضابطہ جاتی نظام قائم کرنا ہے۔










