ایجنسیاں
نئی دہلی؍۲۹ جون
سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے پیر کے روز سہ لسانی (تھری لینگویج) پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے نئی رہنما ہدایات جاری کرتے ہوئے موجودہ دسویں جماعت کے طلبہ کو تین زبانیں پڑھنے کی شرط سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔
اسی کے ساتھ بورڈ نے موجودہ نویں جماعت کے طلبہ کو ایک مرتبہ کی خصوصی رعایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں تین زبانیں ضرور پڑھنی ہوں گی، تاہم وہ دو غیر ملکی زبانوں اور ایک بھارتی زبان کا انتخاب کر سکیں گے۔
یہ پیش رفت اس اعلان کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے، جس میں سی بی ایس ای نے کہا تھا کہ یکم جولائی سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے کم از کم دو بھارتی زبانوں سمیت تین زبانوں کا مطالعہ لازمی ہوگا۔
سی بی ایس ای کے اس فیصلے کے خلاف متعدد طلبہ اور والدین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
سی بی ایس ای کی ڈائریکٹر (اکیڈمکس) پرگیا ایم سنگھ نے کہا، ’’موجودہ دسویں جماعت کے طلبہ پر سہ لسانی پالیسی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اسی طرح موجودہ ساتویں، آٹھویں اور نویں جماعت کے طلبہ جب دسویں جماعت میں پہنچیں گے تو انہیں تیسری زبان کا بورڈ امتحان نہیں دینا ہوگا۔‘‘
سنگھ نے مزید کہا، ’’ایک مرتبہ کی خصوصی رعایت کے طور پر۲۰۰۶۔۲۷ کے تعلیمی سال میں نویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ دو غیر ملکی (غیر مقامی) زبانیں جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم انہیں تیسری زبان کے طور پر ایک بھارتی زبان شامل کرنا ہوگی۔‘‘
واضح رہے کہ اپریل میں سی بی ایس ای نے اعلان کیا تھا کہ ۲۰۰۶۔۲۷کے تعلیمی سیشن سے چھٹی جماعت سے مرحلہ وار سہ لسانی فارمولہ نافذ کیا جائے گا، جبکہ نویں جماعت کے لیے ریاضی اور سائنس کے مضامین میں دو سطحی نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
مجوزہ نظام کے تحت ریاضی اور سائنس میں دو درجے ہوں گے، جن میں ایک لازمی ’’اسٹینڈرڈ‘‘ سطح اور دوسرا اختیاری ’’ایڈوانسڈ‘‘ سطح شامل ہوگا۔
تمام طلبہ۸۰ نمبروں کے مشترکہ امتحان میں شریک ہوں گے، تاہم جو طلبہ اعلیٰ مہارت حاصل کرنا چاہیں گے، وہ اضافی ایڈوانسڈ سطح کا پرچہ بھی دے سکیں گے، جس کا مقصد طلبہ کی گہری نظریاتی سمجھ اور اعلیٰ درجے کی فکری صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
سی بی ایس ای نے اس سے قبل بتایا تھا کہ نئے دو سطحی نظام (اسٹینڈرڈ اور ایڈوانسڈ) کے تحت دسویں جماعت کا پہلا بورڈ امتحان۲۰۲۸ میں منعقد ہوگا، جو۲۰۰۶۔۲۷میں نویں جماعت میں داخل ہونے والے طلبہ کے لیے ہوگا۔
تاہم۱۵ مئی کو بورڈ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو طلبہ غیر ملکی زبان اختیار کرنا چاہیں، وہ اسے صرف اس صورت میں بطور تیسری زبان منتخب کر سکتے ہیں جب وہ دو بھارتی زبانیں پڑھ رہے ہوں، یا پھر غیر ملکی زبان کو اضافی چوتھی زبان کے طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے۔










