سرینگر میں بین المذاہب مکالمہ:’ہندوستان مختلف مذاہب اور زبانوں کا سنگم ہے‘
ہندو مذہب نے خود کو کسی پر نہیں تھوپا ‘بھارتیتا ہی ہندوستانیت اور کشمیریت ہے:سنہا/ہندوستان ہمیشہ سے مختلف مذاہب اور زبانوں کا سنگم رہا ہے:سنگھ
سری نگر/نئی دہلی؍۲۷ جون
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیا کے باہمی اشتراک سے آج سری نگر میں یک روزہ سمینار بعنوان’بین المذاہب مکالمہ:اردو کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات‘ منعقد کیا گیا۔
جاری ریلیز کے مطابق اس سمینار کا افتتاح مہمان خصوصی منوج سنہا نے کیا۔
سنہا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں گیان کی’پرمپرا‘ بہت قدیم ہے۔ یہاں کی تہذیب میں ابتدا ہی سے ایک دوسرے کے تئیں قبولیت پائی جاتی ہے۔ یہی صحیح معنوں میں ہندوستانیت ہے۔ انھوں نے زبان اور تہذیب کے رشتوں پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتیتا ہی ہندوستانیت اور کشمیریت ہے۔ ہندوستان کی ہر زبان اور تہذیب کو پھلنے پھولنے کا حق ہے۔ اپنی گفتگو کا اختتام انھوں نے علامہ اقبال کی مشہور نظم ’نیا شوالہ‘ سنا کر کیا۔
ہندوستان کی قدیم تہذیبی روایت کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ یہ سرزمین باہمی احترام، رواداری اور بقائے باہمی کی بنیاد پر قائم ہے، جہاں مختلف مذاہب صدیوں سے ایک ساتھ پروان چڑھتے رہے ہیں اور دنیا کو امن و آشتی کا پیغام دیتے رہے ہیں۔
سنہانے کہا’’دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندومت یا سناتن دھرم، جو دنیا کا قدیم ترین زندہ مذہب ہے، نے کبھی خود کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا بلکہ تنوع اور بقائے باہمی کو قبول کیا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایسی بنیاد رکھی جہاں عیسائیت، اسلام، یہودیت اور زرتشت مذہب کو بھی آزادانہ طور پر فروغ پانے کا موقع ملا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج جب دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تنازعات اور عدم برداشت کا شکار ہے، ایسے میں سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفہ انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا’’آج دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم دکھائی دیتی ہے، لیکن ہندوستانی فکر میں ان تمام تقسیموں کو ختم کرنے کی منفرد صلاحیت موجود ہے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ ہندوستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو پوری انسانیت کو ایک خاندان کی طرح ساتھ رہنے کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اس فکر کو آگے بڑھائے اور دنیا کو یہ باور کرائے کہ باہمی احترام کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
ایل جی نے کہا’’فکری، روحانی اور ثقافتی اعتبار سے میں اسے بھارتیت کہتا ہوں۔ یہی وہ تہذیبی روح ہے جس نے دنیا کو تمام مذاہب کے مساوی احترام، سچائی کی تلاش، اتحاد میں تنوع، ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، اور مشترکہ ثقافتی شعور کا پیغام دیا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وید اور اپنشد، جو پانچ ہزار برس سے زائد قدیم علمی روایت کی علامت ہیں، ہمیشہ انسانوں کو باہمی ہم آہنگی اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔
ایل جی نے کہا’’ہمارے قدیم رشیوں نے ہزاروں سال پہلے ہی یہ تعلیم دی تھی کہ سچائی کسی ایک راستے تک محدود نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ اسی لیے ہندوستان نے ہمیشہ تنوع کو تقسیم نہیں بلکہ ایک نعمت سمجھا ہے۔ یہی فکر ہندوستان کے تاج، جموں و کشمیر، میں بھی صدیوں سے بقائے باہمی اور ہم آہنگی کی صورت میں جلوہ گر رہی ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب بارہویں اور تیرہویں صدی میں اسلام ہندوستان آیا اور متعدد صوفی بزرگ اور اسلامی علماء یہاں پہنچے تو انہیں یہاں محبت، روحانیت، مساوات اور ہمدردی پر مبنی ایک منفرد تہذیب ملی۔
سنہا کے مطابق صوفی بزرگ وید، اپنشد، بدھ مت اور جین مت کی تعلیمات سے متاثر ہوئے اور انہوں نے ہندوستانی مذہبی روایات سے بقائے باہمی کا سبق سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی دور میں سنسکرت کے متعدد علمی متون کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا گیا۔
ایل جی نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی دعا’ سروے بھونتو سکھنہ، سروے سنتو نرامیا‘ یعنی سب خوش رہیں، سب بیماریوں سے محفوظ رہیں کسی ایک مذہب یا فرقے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فلاح کے لیے تھی، اور یہی ہندوستان کی اصل شناخت ہے۔
سنہا نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان اور اس کا قدیم فلسفہ کبھی کسی کو اپنا مذہب چھوڑنے کا درس نہیں دیتا بلکہ ہمیشہ یہی کہتا ہے ’’اپنا مذہب اور اپنی روایات اپنے ساتھ رکھیں اور ہمارے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزاریں۔ یہی ہندوستان کی انفرادیت اور اس کی عظیم روحانی روایت کی اصل طاقت ہے۔‘‘
مہمان اعزازی ڈاکٹر کرن سنگھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہندوستان کی سرزمین لوگوں کو جوڑنے کی حیثیت سے منفرد شناخت رکھتی ہے۔ یہ ہمیشہ سے مختلف مذاہب اور زبانوں کا سنگم رہی ہے اور انھیں تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ انھوں نے اردو زبان کی شیرینی، قوت اظہار اور روانی پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے اسے اردو کی بقا کا ایک اہم وصف قرار دیا۔ نمونے کے طور پر انھوں نے فیض احمد فیض کی ایک نظم بھی پیش کی۔
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور اس اہم موضوع پر سمینار کے انعقاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انھوں نے قومی اُردو کونسل اور کشمیر کے حوالے سےکہا کہ مختلف اسکیموں کے نفاذ سے لے کر اسکل ڈیولپمنٹ تک میں کشمیر اور اہل کشمیر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ انھوں نے کونسل کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی فطرت میں مشارکت اور رواداری پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل نے بین المذاہب ہم آہنگی کو اردو زبان و ادب کے ذریعے فروغ دینے کی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہ سمینار بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد (صدر، انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا) نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے بین المذاہب آہنگی کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ڈائیلاگ کو بڑھاوا ملے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے تمام کنفلیکٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر نیلوفر خان (وائس چانسلر، یونیورسٹی آف کشمیر، سری نگر) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اردو کونسل اور کشمیر یونیورسٹی نے مل کر کئی اہم پروگرام منعقد کیے ہیں اور اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد ادارہ جاتی اشتراک کا بہترین نمونہ ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر جیوتسنا سنگھ (بانی و ڈائرکٹر، داراشکوہ سینٹر، سری نگر)، ڈاکٹر نسرین شمع (ڈائرکٹر، آپریشنس ، انٹرفیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا) فدا فردوس (صدر، کشمیر رائٹرس ایسوسی ایشن) شامل رہے۔ افتتاحی اجلاس نوید الاسلام خان (نیشنل کو آرڈینیٹر ،انٹرفیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا) کے کلمات تشکرپر اختتام پذیر ہوا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد دو تکنیکی اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ پہلا تکنیکی اجلاس دوپہر ایک بجے تا ڈھائی بجے جاری رہا۔ اس سیشن میں سردار دلبیر سنگھ سوڈھی (بارہمولہ ، جموں و کشمیر)، ڈاکٹر گوتم کول (صدر، کشمیری ہندو ویلفیئر ایسوسی ایشن، ممتاز ماہر تعلیم و اسکالر)، پروفیسر راشد مقبول (شعبہ ابلاغیات و صحافت، یونیورسٹی آف کشمیر، سری نگر)، ڈاکٹر محمد معروف شاہ (ڈپٹی ڈائرکٹر( ریسرچ)، شیپ ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ کشمیر) اور ڈاکٹر رافعہ نثار (اسسٹنٹ پروفیسر، ایس ایچ ایم ایم گورنمنٹ ڈگری کالج ، اننت ناگ جموں و کشمیر) نے اظہار خیال کیا۔
دوسرا تکنیکی اجلاس دو پہرساڈھے تین بجے سے۵ بجے شام تک جاری رہا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر (ڈاکٹر) نصیر اقبال (رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر سری نگر) نے کی جبکہ پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ڈین، اسکول آف آرٹس لنگویج اینڈ لٹریچر یونیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر عرفان احمد ملک (صدر شعبۂ اردو، یو نیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر ستیش ومل (شیخ العالم سینٹر فار ملٹی ڈسپلنری اسٹڈیز، یونیورسٹی آف کشمیر) اور پروفیسر الطاف انجم (ڈائرکٹر، مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم ، یو نیورسٹی آف کشمیر) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ سمینار ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد کے اختتامی کلمات پر اپنے اختتام کو پہنچا۔ حاضرین میں علماء و دانشور کی بڑی تعداد موجود رہی اور سبھی نے نہایت دلجمعی اور سنجیدگی کے ساتھ مہمانوں کے خیالات سنے۔










