جنرل دویدی کا نے لداخ میں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۷ جون
آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے لداخ میں فائر اینڈ فیوری کور کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے جوانوں پر زور دیا کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشن کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔
بھارتی فوج نے بتایا کہ جنرل دویدی کو خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، آپریشنل تیاریوں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور نگرانی، نقل و حرکت اور مربوط آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جاری اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن (اے ڈی جی پی آئی) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دویدی نے لیہ میں قائم فائر اینڈ فیوری کور کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور لداخ میں اس کی آپریشنل تیاری، جنگی استعداد اور صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔
پوسٹ میں کہا گیا’’چیف آف آرمی اسٹاف کو موجودہ سکیورٹی صورتحال، آپریشنل تیاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور نگرانی، نقل و حرکت اور مربوط آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی‘‘۔
اے ڈی جی پی آئی کے مطابق، دورے کے دوران جنرل دویدی نے دنیا کے انتہائی دشوار گزار علاقوں میں سے ایک میں فرائض انجام دینے پر کور کے تمام افسران، جے سی اوز اور جوانوں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل عزم اور فرض شناسی کو سراہا۔
انہوں نے جوانوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے مشن پر مکمل توجہ مرکوز رکھیں، آپریشنل طور پر ہر وقت مستعد رہیں اور مستقبل میں سامنے آنے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔
ادھر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دویدی نے پانچ ممتاز سابق فوجیوں کو بھی ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ویٹرنز اچیورز ایوارڈز سے نوازا۔
یہ اعزازات کرنل ٹونڈپ وانگائل، میجر رنچن ڈولما کولتو، صوبیدار میجر اعزازی کیپٹن سونم مورپ، صوبیدار میجر اعزازی کیپٹن تاشی چھیپل (ویر چکر) اور نائیک غلام حیدر (سب ریٹائرڈ) کو سابق فوجیوں اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں دیے گئے۔
اے ڈی جی پی آئی نے ایک علیحدہ پوسٹ میں کہا کہ ان سابق فوجیوں نے اپنی بے لوث کاوشوں کے ذریعے لداخ کے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا، سابق فوجیوں اور شہداء کی بیواؤں تک فلاحی خدمات کی رسائی کو وسعت دی، ہنر مندی اور خود انحصاری کو فروغ دیا، سابق فوجیوں کے خاندانوں کے لیے زمین اور دیگر فلاحی اقدامات کو یقینی بنایا، سماجی بہبود کو مستحکم کیا اور طبی امداد کے محتاج سابق فوجیوں کی مسلسل معاونت کی۔










