رانچی، 26 جون (یو این آئی) جھارکھنڈ ٹی 20 لیگ کا پہلا فائنل میچ کرکٹ کے سنسنی خیز مقابلے کے ساتھ ساتھ بھیڑ کے انتظام (کراؤڈ مینجمنٹ) کا بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہوا۔ منگل کی شام رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم کے باہر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ایسے ہنگامی حالات بنے رہے، جب 38 ہزار شائقین کی گنجائش والا اسٹیڈیم پوری طرح بھر چکا تھا اور باہر بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ اندر داخل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ کئی گیٹس پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا، کچھ لوگ دیواریں پھاند کر اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے اور ساؤتھ گیٹ پر بھیڑ کے دھکے سے کئی خواتین گر کر زخمی ہو گئیں۔ تاہم، انتظامیہ اور پولیس کی بروقت کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔
ریاست میں پہلی بار فرنچائز پر مبنی کرکٹ لیگ کا اہتمام کیا جا رہا تھا، جس کی افتتاحی تقریب میں مہیندر سنگھ دھونی کی موجودگی نے مداحوں میں زبردست جوش پیدا کر دیا تھا۔ فائنل میچ سے قبل سوشل میڈیا پر یہ افواہ تیزی سے پھیل گئی کہ دھونی فائنل دیکھنے اسٹیڈیم پہنچ رہے ہیں۔ اگرچہ اس کی کوئی آفیشل تصدیق نہیں تھی، لیکن رانچی اور آس پاس کے علاقوں سے ہزاروں لوگ اسٹیڈیم کی طرف دوڑ پڑے۔ میچ سے ٹھیک پہلے ہونے والی بارش کی وجہ سے جے ایس سی اے انتظامیہ کو لگا کہ شاید زیادہ لوگ نہیں آئیں گے، لیکن جیسے ہی ساڑھے چھ بجے بارش تھمی، اچانک ہزاروں کا ہجوم اسٹیڈیم کے گیٹس پر جمع ہو گیا۔
جے ایس سی اے کے سکریٹری سوربھ تیواری نے بتایا کہ افتتاحی تقریب کے بعد کے تجربے کی بنیاد پر انتظامات کیے گئے تھے، لیکن دھونی کی آمد سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور بارش کے بعد اچانک بھیڑ بڑھنے سے حالات غیر متوقع ہو گئے۔
سب سے سنگین صورتحال ساؤتھ گیٹ پر بنی، جہاں لوہے کے بیریکیڈز پر دباؤ بڑھنے کے بعد گیٹ کھولنا پڑا، انہوں نے کہا کہ آئندہ ایسے حالات سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کی فوری تردید کے لیے الگ ٹیم تشکیل دی جائے گی، جبکہ شائقین کے داخلے کے لیے رجسٹریشن یا ٹکٹ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
جے ایس سی اے کے صدر اجے ناتھ شاہ دیو نے کہا کہ مقامی پولیس اور ایسوسی ایشن کے ارکان نے تقریباً 40 ہزار افراد کی بھیڑ کو سنبھال کر ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا، اور آئندہ سیزن میں بھیڑ کے بہتر انتظامات کیے جائیں گے۔






