گال، 15 اگست (یواین آئی) کچھ ٹیسٹ سنچریاں صرف اسکور بورڈ پر رنز کا اضافہ کرتی ہیں، جبکہ کچھ تاریخ کے صفحات میں جگہ بناتی ہیں۔ سری لنکا کے خلاف ہفتہ کو دیودت پڈیکل کی سنچری نے دونوں کام انجام دیے۔
بائیں ہاتھ کے ہندوستانی بلے باز پڈیکل 21ویں صدی میں نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے ٹیسٹ سنچری بنانے والے صرف دوسرے ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز بن گئے ہیں۔ ان سے قبل سورو گنگولی نے 2002 میں دہلی میں زمبابوے کے خلاف نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے 136 رنز بنائے تھے۔
ہندوستانی ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر تین کی پوزیشن ہمیشہ اہم رہی ہے۔ اس نمبر پر نئی گیند کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط تکنیک درکار ہوتی ہے، جبکہ مڈل آرڈر کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پڈیکل نے اس چیلنج کا سامنا پورے اعتماد کے ساتھ کیا اور اپنی اننگز کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام درج کرالیا۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ان کی یہ کامیابی مزید خاص بن جاتی ہے۔
نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز ونود کامبلی ہیں، جن کے نام چار سنچریاں ہیں۔ سورو گنگولی نے اس پوزیشن پر تین سنچریاں بنائی ہیں، جبکہ سلیم درانی، باپو نادکرنی، اجیت واڈیکر، ایکناتھ سولکر اور سریندر امرناتھ نے ایک، ایک سنچری بنائی ہے۔ اب اس فہرست میں پڈیکل کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔
پڈیکل نے جب اپنی سنچری مکمل کی، اس وقت ہندوستان کا اسکور 58 اوورز میں ایک وکٹ پر 221 رنز تھا اور ٹیم مضبوط پوزیشن میں تھی۔ تاہم پڈیکل کے لیے یہ کامیابی ٹیم کے اسکور سے کہیں زیادہ اہم تھی۔
دہلی میں گنگولی کی 136 رنز کی اننگز کے دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک اور ہندوستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز نے نمبر تین پر ٹیسٹ سنچری بنائی۔ اس کامیابی کے ساتھ پڈیکل نے خود کو صرف ابھرتے ہوئے باصلاحیت بلے بازوں کی فہرست تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہندوستانی ٹیسٹ تاریخ کے ایک مخصوص اور اہم باب میں بھی اپنا نام درج کرالیا۔






